• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جھولوں والا پارک ویران ہوگیا

’’ماما، میں بور ہو رہی ہوں، مجھے کسی اچھی جگہ گھومانے لے چلیں‘‘ سارہ امی سے ضد کر رہی تھی۔

’’ابھی پچھلے مہینے ہی تو واٹر پارک گئے تھے اور پھر بابا کھانا کھانے کے لیے باہر لے کر تو جاتے ہیں اب تمہیں کہاں جانا ہے‘‘ سارہ کی امی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

’’واٹر پارک، ساحل سمندر تو سال میں ایک دو بار ہی جاتے ہیں اور ہر وقت باہر کھانا کھا کھا کر میں بور ہوگئی ہوں مجھے بس کہیں گھومنے جانا ہے۔ ایسا کریں جھولوں والے پارک لے چلیں‘‘ سارہ اپنی ضد پر قائم تھی۔

’’ارے بیٹا آپ نے ٹی وی پر نہیں دیکھا جھولوں والے پارک میں جھولا گرنے سے ایک بچی کی موت واقع ہوگئی ہے، تین ماہ کے لیے تمام پارکس کو بند کر دیا گیا ہے۔ لیکن اگر جھولوں والا پارک کھلا ہوا بھی ہوتا تو ، میں آپ کو وہاں لے کر نہیں جاتی، ہر گز نہیں‘‘ امی نے سختی سے انکار کر دیا تو سارہ روتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔

دراصل، گرمیوں کی چھٹیاں ہوئے دو ماہ کا عرصہ گزرگیا، اس دوران رمضان اور عید بھی آگئی، بچوں نے رمضان میں ہی چھٹیوں کا کام مکمل کرلیا، عید کے بہانے دوستوں اور رشتہ داروں سے بھی ملاقات ہوگئی۔ شدید گرمی پڑنے کی وجہ سے بڑوں اور بچوں نے عید کی چھٹیوں میں پکنک منا لی۔ لیکن اب بھی کافی چھٹیاں باقی ہیں، پھر انتخابات کی وجہ سے ان میں اضافہ بھی ہوگیا ہے، مگر ان چھٹیوں میں بچے کریں تو آخر کیا کریں۔ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے تفریحی سرگرمیوں کی اہمیت کو کسی بھی طرح سے جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان کی تفریحی سرگرمیوں پر کبھی توجہ نہیں دی۔ نہ ہی کوئی ٹی وی پروگرام اس نوعیت کا پیش ہوتا ہے جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرسکے، نہ ہی بچوں کی چھٹیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سرکاری سطح پر سمر کیمس لگائے جاتے ہیں۔ بلکہ جو سمر کیمپس نجی اداروں کی جانب سے لگائے جاتے ہیں وہ والدین کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں یا پھر دور دراز علاقوں میں ہونے کے باعث بچوں کو لے کر جانا آنا مشکل ہوتاہے، جس کا ایک سبب ان کی ٹائمنگ ہے، دوسرے شہر میں ٹریفک کی صورتحال، جس کی وجہ سے والدین بچوں کو نجی سمر کیمپس میں داخل کروانے سے گریز کرتے ہیں۔ اب ایسے میں صرف علاقے میں قائم پارکس یا پھر جھولوں والے پارکس ہی بچوں کے لیے سستی تفریح کا باعث بنتے ہیں، جہاں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شام میں جا کر کچھ وقت گزار سکتے ہیں،چھٹیوں کا مزہ لے سکتے ہیں۔ ان پارکس کے قیام کا مقصد بچوں کو صرف کھیلوں کے سازو سامان تک رسائی دینا نہیں بلکہ ایسا ماحول مہیا کرنا بھی ہے جس میں وہ آپسی تجربوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سیکھتے ہوئے فعال شہری کے طور پر معاشرے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں، مگر پارکس اور جھولوں کی ناقص دیکھ بھال اور جھولوں کے گرنے کی وجہ سے والدین اور بچوں کے ذہنوں میں خوف بیٹھ گیا۔ انتظامیہ کو چاہے کہ شہر میں مختلف مقامات پر جھولے ضرور لگائیں لیکن انہیں نصب کرتے وقت تمام حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھیں ،ساتھ ہی کسی بھی ناگہانی کی صورت سے نپٹنے کے لیے ایمبولینس اور ڈاکٹرز کا انتظام ہو، جو جھولے صرف بڑوں کے لیے بنائے گئے ہیں ان میں بچوں کو ہرگز بیٹھنے نہ دیں اور سال میں کم سے کم ایک بار ان کی مینٹیننس ضرور کروایں،تاکہ حادثات سے بچا جاسکے۔

تازہ ترین