آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جشنِ آزادی پر ریلیز ہونے والی ماضی کی فلمیں

ماضی میں 14 اگست اور 23مارچ کے مواقع پر اسکولوں کے علاوہ متعدد سینمائوں میں مارننگ شوز کا خصوصی اہتمام کیاجاتا تھا، جس میں بیداری ، کرتار سنگھ اور جذبہ حُب الوطنی پر مبنی تاریخی فلمیں بلا معاوضہ دکھائی جاتی تھیں، بعد ازاں 14 اگست کے موقع پر سینمائوں پر زیر نمائش فلموں کے مارننگ شوز کا بھی اہتمام ہونے لگا۔ مگر یہ شوز بلا معاوضہ نہیں ہوتے تھے۔ اس بار بھی 14 اگست 2018کو کوئی بھی پاکستانی فلم ریلیز نہیں ہورہی ہے۔ ایسا کئی سال بعد ہورہا ہے۔ پاکستان کی پہلی فلم 1948 میں عیدالفطر کے موقع پر 7 اگست کو ’’تیری یاد‘‘ ریلیز کی گئی تھی۔1958 میں ہدایت کار شیخ حسن اور فلم ساز اے بی مرزا کی فلم ’’پرائی زمین‘‘ 14 اگست کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی۔ فن کاروں میں سوزی ڈینیل‘سلطان اور چارلی شامل تھے ، یہ سوشل فلم تھی۔14 اگست 1959 کو ہدایت کار رفیق رضوی باپو‘ فلم ساز منیرجیلانی اور یوسف خان کی فلم ’’اپنا پرایا‘‘ اس کی کاسٹ میں شمیم آراء‘ کمال‘ ریحانہ‘ طالش‘ رخسانہ‘ سکندر‘ سلیم شہزاد شامل تھے۔ فلم کے رائٹر اسکرین پلے سکندر حیات بلوچ کا تھا۔ موسیقار سیف چغتائی تھے، گلوکاروں میں نسیم بیگم‘ ناہید نیازی‘ سلیم رضا‘ احمد رشدی شامل تھے۔ 14 اگست 1964 کو ہدایت کار دائود چاند فلم ساز شمس العالم کی فلم "خیبرپاس" تھی کاسٹ میں نیلو‘سدھیر‘ رخسانہ‘ رجنی شامل تھے، یہ ایکشن فلم تھی۔

اگست 64 میں دیگر فلموں میں آزاد‘بیٹی‘ پیاسے‘ ولائت پاس ریلیز ہوئی تھی۔13اگست 1965 میں فلم "تیرے شہر میں" جمعہ ہونے کی وجہ سے 14 اگست کی بجائے 13 اگست کو ریلیز کی گئی۔کاسٹ میں زیبا‘علائوالدین اجمل ‘سکندر‘ لیری‘ریکھا‘فریدہ‘ راج ملتانی شامل تھے۔ ہدایت کار ریاض راجو، فلم ساز عزیزاللہ حسن تھے۔ تحریر انور بٹالوں کی تھی، نغمے حبیب جالب‘منیر نیازی اور تنویر نقوی کے تھے۔ گلوکاروں میں نورجہاں‘ نسیم بیگم‘مہدی حسن اور احمد رشدی تھے۔ یہ سوشل فلم تھی‘ اگست 65 میں دیگر فلموں میں صنم‘ ہزارداستان اور سوکن شامل تھیں۔12 اگست کو جمعہ تھا اس وجہ سے 2 فلمیں ہم دونوں اور سن آف پاکستان (بنگالی) فلم ریلیز کی گئی ’’ہم دونوں‘‘ کی کاسٹ میں دیبا‘ کمال‘ نرالہ‘ کمار اور کمال ایرانی قابل ذکر تھے۔ ہدایت کار الحامد اور فلم ساز ٹی ایچ رضوی تھے۔ گلوکاروں رونالیلیٰ‘ احمد رشدی شامل تھے ۔ 12 اگست 66 میں دیگر فلموں میں انسان‘ باغی سردار‘ لاڈو‘ پروین شامل تھیں۔15 اگست 1969 کو جمعہ تھا۔ اس وجہ سے 3 فلمیں اناڑی‘ دل بیتاب‘ کنگن ریلیز کی گئیں ۔ اناڑی کی کاسٹ میں شبانہ‘ ندیم‘ جلیل افغانی وغیرہ شامل تھے۔ ہدایت کار مستفیض فلم ساز اختتام تھے، گلوکاروں میں ندیم اور احمد رشدی شامل تھے۔ 

فلم ’’دل بیتاب‘‘ کی کاسٹ میں شمیم آراء‘ محمد علی‘ رانی‘ یوسف خان‘ رنگیلا‘ الیاس کاشمیری‘ زینت‘ میناشوری‘ ایم اسماعیل‘ساقی وغیرہ شامل تھے۔گلوکاروں میں نورجہاں‘ مالا‘ نسیم بیگم‘ مہدی حسن‘ احمد رشدی شامل تھے،جب کہ فلم ’’کنگن‘‘ کی کاسٹ میں سنگیتا‘رحمن‘ انور حسین‘نذرالاسلام شامل تھے۔ہدایت کار و فلم ساز رحمن تھے۔اگست 69 میں دیگر فلموں میں نازنین‘ شیراں دی جوڑی‘ لچھی‘ عندلیب‘ میرے ارمان میرے سپنے شامل تھیں۔14 اگست 1970 کو فلم ’’سیاں‘‘ ریلیز کی گئی تھی،اس کی کاسٹ میں نغمہ‘ حبیب‘ رخسانہ‘ منور ظریف‘ مظہرشاہ‘ علائوالدین‘ راگنی‘ علی اعجاز‘ وغیرہ شامل تھے۔ نغمات وارث لدھیانوی‘ سعید اسد جعفری گلوکاروں میں نورجہاں‘ آئرن پروین‘ تصور خانم اور مسعود رانا شامل تھے۔ موسیقار بی اے چشتی تھے۔اس ماہ میں ایک اور فلم ’’ہم لوگ‘‘ بھی ریلیز کی گئی تھی۔

جشنِ آزادی پر ریلیز ہونے والی ماضی کی فلمیں

اگست 1972میں جمعہ 11اگست کو سر دھڑ دی بازی، بہاروں پھول برسائوں، میں بھی تو انسان ہوں، یار نبھاندے یاریاں، بازی جیت لئی ریلیز کی گئی تھی۔ اگست 1975میں جمعہ 15اگست کو عاشق لوگ سدھائی ، ناکہ بندی اور پالکی ریلیز کی گئی۔ یہ فلمی صنعت کا گولڈن سال تھا۔ اسی ماہ میں دیگر فلموں میں اناڑی، میرا نام ہے محبت، بابل ڈاکو، باغی، پہچان، پروفیسر، وحشی جٹ، نیکی بدی، بکھرتے موتی اور شہید جیسی کام یاب فلمیں ریلیز کی گئی۔ ان میں سے اناڑی، میرا نام ہے محبت، وحشی جٹ اور پہچان نے ریکارڈ توڑ بزنس کیا۔ اگست 1976میں جمعہ کی وجہ سے 15اگست کو لائسنس، سازش اور ٹرک ڈرائیور ریلیز ہوئی۔ اگست 1980میں 13اگست کو عیدالفطر کو 6 فلمیں بدلتے موسم، بہرام ڈاکو، ڈبل کراس، ہنستے آنسوں، لہو دے رشتے اور سردار ریلیز کی گئی۔ اگست 1982کو فلم ایجنٹ 009ریلیز کی گئی۔ اگست 83میں جمعہ 12اگست کو انصٓاف کا ترازو،مراد خان ریلیز کی گئی۔ اگست 86میں بڑی عید کی وجہ سے 17اگست کو 9فلمیں آخری جنگ، بھابھی دیاں چوڑیاں، مس بینکاک ،کالی بستی اور تلاش شامل تھیں ۔اگست 1993میں جمعہ 13اگست کو تین فلمیں گل بابو، پتر منور ظریف دا اور پرنس ریلیز ہوئی تھی۔14 اگست 1992 کو فلم ساز چوہدری اعجاز کامران ہدایت کار حسن عسکری کی فلم ’’اچھا شوکروالا‘‘ ریلیز کی گئی۔ 

کاسٹ میں صائمہ‘یوسف خان‘ سلطان راہی‘ شاہدہ منی قابل ذکر تھے۔14 اگست 1997 میں ہدایت کار سیدنور فلم ساز شیخ اسلم کی فلم ’’راجا پاکستانی‘‘ ریلیز کی گئی۔ کاسٹ میں ریماخان‘ بابرعلی‘ نرما‘ جان ریمبو اور ندیم شامل تھے۔یہ فلم پاکستان سے محبت کے موضوع پر تھی۔14 اگست 1998 کو فلم ’’صاحب بی بی اور طوائف‘‘ ریلیز کی گئی کاسٹ میں چاندنی‘ جاوید شیخ‘ جان ریمبو‘ صاحبہ‘ معمر‘ گلاب چانڈیو شامل تھے۔ہدایت کارہ سنگیتا تھیں۔اگست 98 میں دیگر ریلیز ہونے والی فلموں میں کہیں پیار نہ ہوجائے اور دوپٹہ جل رہا ہے، شامل تھی ۔ اگست 1999میں جمعہ 13اگست کو جنت کی تلاش، ریلیز ہوئی ۔14 اگست 2015 کو 3 فلمیں مور‘ دیکھ مگر پیار سے‘ شاہ ریلیز ہوئی تھیں۔ فلم ’’شاہ‘‘ معروف باکسر حسین شاہ، جس نے 1988 میں برائونز میڈل سمر اولمپک میں حاصل کیا تھا۔فلم کی کاسٹ میں سردار بلوچ‘ گلاب چانڈیو‘ کرن چوہدری‘ عدنان سرور‘ فیض چوہان‘ عدیل رئیس وغیرہ شامل تھے۔ 

فلم ’’دیکھ مگر پیار سے‘‘ کی کاسٹ میں حمائمہ ملک‘ سکندر رضوی‘ آمنہ الیاس‘ عرفان کھوسٹ‘ خالد بٹ شامل تھے۔ فلم ساز و ہدایت کار اسدالحق تھے۔ یہ رومانٹک فلم تھی، جیسا کہ نام سے بھی ظاہر ہورہاہے۔ فلم ساز ندیم مانڈوی والا اور ہدایت کار جامی کی فلم ’’مور‘‘ ریلیز ہوئی،فلم کی کاسٹ میں حمید شیخ‘سمعیہ ممتاز‘ شاز خان‘ عبدالقادر‘ نیراعجاز‘ ایشتامحبوب‘ سونیاحسین‘ ایاز سموں‘ عمر‘ اور شبیررانا شامل تھے۔ فلم کی کہانی وطن سے محبت کرنے والوں پرتھی۔ ایک بہت اچھی فلم تھی، جس کی عکاسی اور ڈائریکشن بین الاقوامی سطح کی تھی، مگر یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہوگئی تھی،حالاں کہ ہوناتویہ چاہیے تھا کہ 14 اگست 23 مارچ کے مواقع پر قومی موضوعات بالخصوص دنیابھر میں جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد ملک نے اپنی فوج کے کارناموں کواجاگر کرنے کے لیے برطانیہ ‘فرانس‘ جرمنی‘امریکا نے اپنے ملک کے مفاد میں فلمیں بنائیں۔پاکستان میں بھی 14 اگست‘23 مارچ اور 6 ستمبر (یوم دفاع) کے مواقع پر تقسیم پاکستان کشمیری جدوجہد پر پاکستانی افواج کے کارناموں ، اوربہت سے قومی موضوعات پر فلمیں بنائی جاسکتی ہیں۔ 

بھارت میں بہت سی ایسی فلمیں بنائی گئی ہیں، جس میں انہوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اپنی فوج کے حوالے سے ایسی فلمیں بنائی جو پاکستان کے خلاف بنائی گئی ہیں۔ پاکستانی فلم سازوں کو بھی 1965 اور 1971 کی جنگوں پر پاکستانی افواج کارناموں ان جنگوں میں پاکستانی گلوکاروں کے نغموں اور قومی جذبہ جس انداز میں دیکھنے میں آیاتھا ان موضوعات پر اچھی فلمیں بنائی جاسکتی ہیں۔1948 سے 2018 تک ماہ اگست میں کل 261 فلمیں ریلیز کی گئیں۔ ان میں سے 14 اگست کے موقع پر ریلیز ہونے والی فلموں کی تفصیلات دستیاب ریکارڈ کے مطابق فراہم کی جاچکی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں