آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2050ء سے پہلے ہی دنیا کی آبادی 9ارب نفوس سے تجاوز کرجائے گی۔ دنیا پہلے ہی ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے، جہاں قدرتی وسائل شدید دباؤ میں ہیں۔ 2018ء تک دنیا کی آبادی 7.6ارب نفوس ہوچکی ہے اور ہم قدرتی وسائل کو ان کی پیداوار کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے استعمال کررہے ہیں۔ ایسے میں جب انسانی آبادی 9ارب یا اس سے تجاوز کرجائے گی اور ہر شخص ایک اعلیٰ معیار کی زندگی کا متمنی ہوگا، جیسا کہ بڑا سا آرام دہ گھر، توانائی سے چلنے والے آلات، شہری زندگی سے دور بڑا سا فارم ہاؤس، گھر کے باہر کار پارکنگ کے لیے مخصوص کشادہ جگہ، اور اس جیسی کئی دیگر سہولتیں، جنھیں ہم ضرورت، خواہش یا جدید زندگی کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں، تو آخر یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟ در حقیقت 9ارب افراد کویہ تمام سہولتیں پہنچانے کے لیے رقبے اور وسائل کے لحاظ سے تین گنا زیادہ جگہ درکار ہوگی۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ 2050ء میں 9ارب افراد کو سمونے کے لیے کیسے گھر اور کیسی تعمیرات کی ضرورت ہوگی کہ جس میں امیر اور غریب کو مناسب سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔

توانائی بچانے اور قابل تجدید توانائی والے گھر

گھروں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنے، روشن کرنے، پانی کو گرم کرنے اور روز بروز بڑھتے آلات کے لیے ہمیں بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم 9ارب لوگوں کو پائیدار زندگی دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایسے گھر تعمیر کرنا ہونگے، جن سے کاربن کا اخراج بالکل بھی نہ ہو(Zero Carbon Homes)۔ یہ گھر توانائی کے خرچ میں انتہائی مؤثر ہوں اور ان کے اندر چھوٹا پاور اسٹیشن ہو۔ اس طرح کے گھروں کی تعمیر پر برطانیہ میں پہلے ہی کام شروع کیا جاچکا ہے۔ چین کے ساحلی شہر گوانگزو میں چھ ہزار ایسے گھر تعمیر کیے گئے ہیں، جو روایتی انداز میں توانائی بچاتے ہیں۔ ان گھروں کی چھتیں اونچی تعمیر کی گئی ہیں اور انھیں اس طرح سایہ دار بنایا گیا ہے کہ ان میں توانائی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ 

توانائی کی ہر آئے دن بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر، نہ صرف نئی تعمیرات بلکہ پرانی تعمیرات کو بھی توانائی کے استعمال میں کفایت شعار بنانے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی موجودہ عمارتوں کو کم توانائی خرچ بنانے پر اگر 279ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے تو اس کے نتیجے میں آئندہ 10سال میں ایک ٹریلین ڈالر کی بچت کی جاسکتی ہے، جبکہ اس سے 33لاکھ نوکریوں کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ 

دنیا کو 2050ء تک مکمل طور پر زیرو کاربن گِرڈ اسٹیشنوں کی ضرورت ہوگی۔ یورپ اس سلسلے میں ’یوروپین سُپر گِرڈ‘ پر کام کررہا ہے۔ وہ دور دراز کے علاقے، جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ پائی، انھیں قابلِ تجدید ذرائع سے توانائی فراہم کرنا سب سے مؤثر طریقہ ہوگا، بجائے اس کے کہ پہلے انھیں قومی گِرڈ سے جوڑنے کے لیے مہنگا انفرااسٹرکچر بچھایا جائے اور اس کے بعد انھیں مہنگی بجلی فروخت کی جائے۔

کمیونٹی لیونگ

ہم اپنے گھروں کو جداگانہ حیثیت میں نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہوگی کہ جب ہم گھر سے باہر قدم رکھیں گے تو کیا ہوگا؟ 2008ء کے مالیاتی بحران کے نتیجے میں لوگوں نے دور دراز علاقوں میں رہنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ اپنی گاڑیوں کو چلانے کے لیےمہنگی گیس خریدنے کی سکت کھو بیٹھے تھے۔ گھر وہاں تعمیر کرنے ہونگے، جہاں سے ہر چیز قریب اور پہنچ میں ہو اور یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب ہم عمودی تعمیرات پر توجہ دیں، جہاں غریب اور امیر، ہر طبقہ رہائش اختیار کرنے کی سکت رکھتا ہو۔

تعمیرات اور ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی ہمارے گھروں کو بدل رہی ہے اور یہ پائیدار رہائش کی ابتداہوسکتی ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیں یہ بتاسکتی ہے کہ ہم گھر میں کتنی توانائی خرچ کررہے ہیں، یہ ہمیں اگلی بس یا ٹرین کا وقت بھی بتاسکتی ہے۔ اس کے ذریعے ہم مقامی مارکیٹ سے استعمال شدہ اشیا بھی خرید سکتے ہیں اور خدمات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ جیسے جیسے ہم آن لائن شاپنگ کی طرف جائیں گے، ہمارے گھر اور رہائشی عمارتیں ہی شاپنگ مال بن جائیں گی اور اس طرح روایتی شاپنگ مالز اور ہائی اسٹریٹ دکانوں کی ضرورت کم ہوتی جائے گی۔ اس کے بجائے آنے والے دور میں ہم ہائی اسٹریٹ کمیونٹی مراکز کو بنتا دیکھ سکتے ہیں، جہاں لوگ اپنی آن لائن ڈیلیوریز وصول کریں گے، کافی خرید سکیں گے اور دوستوں رشتے داروں کے ساتھ مل سکیں گے۔

بلڈنگ اسمارٹر

2012ءکے لندن اولمپکس کے نتیجے میں برطانیہ میں ماحولیاتی آلودگی بڑھ گئی تھی۔ حکام کا خیال تھا کہ دنیا بھر سے بہت زیادہ لوگوں کے آنے کے باعث آلودگی میں اضافہ ہوا، تاہم تحقیق کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ آلودگی بڑھنے کی وجہ تعمیرات میں اضافہ تھا۔ تعمیراتی قوانین کو بدل کر برطانیہ جلد ہی ماحولیاتی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں 20فیصد تک کمی لے آیا۔ برطانیہ میں نئے تعمیراتی قوانین کے تحت کم ماحولیاتی اثرات رکھنے والے تعمیراتی مواد کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور عمارت کے انفرااسٹرکچر کو مختصر ترین رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ فاضل مواد کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں