آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عصرِ حاضر میں وہ واحد عنصر جو ایک قوم کی قسمت اور سماجی و اقتصادی ترقی کا تعین کر سکتا ہے، وہ ہے سائنس اور ٹیکنالوجی۔ یہ سائنسدان اور انجینئر ہی ہیں جو اس دنیا کو تبدیل کر رہے ہیں۔اس کا واضح ثبوت ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑے پیمانے پر وجود میں آنے والی اشیاء ہیں جو موبائل فون سے لے کر کمپیوٹر تک اور ادویات کی صنعت سے لے کر ہوائی جہازوں کی تیاری تک محیط ہیں۔ بلاشبہ ملکی قیادت اور جمہویت کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار معیاری تعلیم پر منحصر ہے۔ ملکی ترقی کے تمام پہلوؤں پر معیاری نظامِ تعلیم ہی براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔چاہے وہ صنعت زراعت کی ترقی ہو، قانون کے نظام کی انجام آوری ہو، صحت یا سماجی ذمہ داری کا احساس ہو۔
ہمارے ملک کی حالیہ پریشانیوں کا سہرا پچھلی اور موجودہ حکومتوں کے سر ہے۔ جنہوں نے تعلیم جیسے شعبے کو مجرمانہ حد تک فراموش کیا ہے۔ ہم اپنےGDP کا صرف 1.7%حصہ تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ اس طرح ہمارا شمار دنیا کے اُن سات کمزور ترین ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے GDPکا سب سے کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بچے جہالت کی نظر ہو جاتے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ جس کے ذریعے پیدا ہونے والا انتشار آج کے ہزاروں جوانوں بالخصوص شہرِ کراچی کے نوجوانوں کو ڈکیتیوں، لوٹ مار

اور رہزنی میں ملوث کر دیتا ہے کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کا یہی واحد ذریعہ بچتا ہے۔ موبائل فون کا پستول کے زور پر چھیننا اس جرم کی ابتدا ہوتا ہے اور پھر آسانی سے حاصل ہونے والا پیسہ انہیں گاڑیاں چھینے اور پھر ڈکیتی اور اغوا تک کے راستے پر لے جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے وہ راستہ جو پاکستان نے اپنے جوانوں کے لئے چنا ہے اور اس جرم میں تمام حکمراں اور بڑی سیاسی پارٹیاں برابر کی شریک ہیں جنہوں نے تعلیم کے شعبے کو فراموش کر کے پاکستان کو ایک جیتی جاگتی دوزخ کا نمونہ بنا دیا ہے۔ آج اگر بین الاقوامی سطح پر چناؤ کے ذریعے معلوم کیا جائے کہ وہ کونسا ملک ہے جہاں جرائم کی وجہ سے رہنا مشکل ہو چکا ہے اور جہاں روزگار اور تجارت کے سب سے کم مواقع ہیں تو افسوس کہ پاکستان اُن میں سب سے آگے ہو گا۔ پچھلی چھ دہائیوں سے کی جانے والی بدترین چوری اور ہیرا پھیری نے ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ اس کی سلامتی بھی خطرے میں ہے۔ اگر ہم اپنی ترجیحات پر غور کریں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کریں تو ان سب کا حل محض”معیاری تعلیم و تربیت“ ہی میں مضمر ہے۔ جس حیرت انگیز انداز سے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی نے دنیا کے کچھ ممالک میں ترقی کے رخ بدل دیئے ہیں ان کے استعمال سے ہم بھی اپنی اس حالیہ بدحالی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی چند مثالیں یہاں پیش ہیں۔
خلیوں کی بڑے پیمانے پر افزائش بھی اب کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے۔ بائیو ری ایکٹر کے ذریعے کثیر تعداد میں خلیے پیدا کئے جا سکتے ہیں اور جلد ہی ایک دن آئیگا جب ہم گوشت کے خلیوں کو بھی بڑے پیمانے پر افزائش کر سکیں گے اور اس طرح یہ استعمال کیلئے مصنوعی گوشت استعمال ہو سکے گا جو بالکل اصل گوشت جیسا ہوگا۔ حال ہی میں کیلیفورنیا سین ڈیاگو کی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کاروباری بنیادوں پر 3D پرنٹر تیار کر لیا ہے جو کہ انسانی اعضاء بنا سکتا ہے۔ اس 3D پرنٹر کی کارکردگی یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے خلیوں کا نمونہ مہیا کرنے پر اسی قسم کے مزید خلیے بنا کر پہلے سے بتائے ہوئے طریقہ کار کے ذریعے یکجا کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جس کے ذریعے وہ مختلف انسانی اعضاء تیار کر سکیں ایک دن نہایت ہی کارآمد ثابت ہو گی۔
دنیا میں تقریباً 130-170بلین لوگ یرقان (ہپاٹائٹس سی) کا شکار ہیں۔ یرقان ایک عام وائرل بیماری ہے جو کہ پاکستان سمیت اُن ممالک میں پائی جاتی ہے جہاں صاف پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہے اور ناقص ذرائع نکاسی ہے۔ یونیورسٹی آف البرٹا کے مائیکل ہاؤٹن اور ان کے ساتھیوں نے ایک حیرت انگیز دریافت کی ہے، انہوں نے ہپاٹائٹس سی کے لئے ایک ایسی ویکسین تیار کر لی ہے جو کسی بھی قسم کے ہیپاٹائٹس کے لئے موثر ہو سکتی ہے۔
ایک میڈرڈ ڈیزائنر نے ایسا سفری سوٹ کیس تیار کر لیا ہے جو کہ خودبخود اپنے مالک کے پیچھے جاتا ہے۔ اس میں بیٹری سے چلنے والا کیٹرپلر ٹریک سسٹم نصب کر دیا گیا ہے جو کسی بھی رخ میں گھوم سکتا ہے۔اسے اپنے فون کے بلیوٹوتھ سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ ایک آلہ مائیکرو پروسیسر پہلے سمت کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر سوٹ کیس کو اسکے مالک مسافر کی طرف جانے کے اشارہ کر کے روانہ کر دیتا ہے۔
یہ تین جدید ترین مثالیں ٹیکنالوجی کے میدان میں رونما ہونیوالی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں لہٰذا جن ممالک نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے وہ تیزی سے ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں کیوں کہ اس قسم کی ہزاروں دریافتیں ہر ہفتے رونما ہوتی ہیں اور جلد ہی کاروباری سطح پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ان پر تحقیق یا تو جامعات کےR&D" سینٹرز میں ہوتی ہے یا نجی کمپنیوں میں۔ لیکن ان تحقیقاتی عوامل کی مزید نشوونما میں ان ممالک کی حکومتوں کا بہت اہم کردار ہے جنہوں نے اپنی جامعات کو بڑے پیمانے پر فنڈز مہیا کر کے مضبوط کیا ہے اور ٹیکنالوجی پارک قائم کئے ہیں اور نئی کمپنیوں کی بنیادیں رکھنے کے لئے کثیر فنڈز مختص کئے ہیں۔
پاکستان میں ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی، تعلیم اور جدت طرازی کو نہایت ہی کم توجہ دی ہے اور جو کچھ ترقی گزشتہ سالوں میں حاصل کی تھی وہ بھی ہمارے حکمرانوں نے تباہ و برباد کر دی ہے۔ بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں زراعت و میڈیسن نے بڑی ترقی کی ہے۔ بھارت نے 1986ء میں مرکزی حکومت کے زیرِ سایہ شعبہ بائیوٹیکنالوجی قائم کیا تھا جو بیشتر بائیوٹیکنالوجی کے پروگراموں اور بائیوٹیکنالوجی کی صنعت کو فنڈز فراہم کرتا ہے لہٰذا یہ صنعت اُن کے یہاں بڑی تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور IT کی صنعت کے نقش قدم پر جو پہلے ہی 60/ارب ڈالر کی سالانہ برآمد تک پہنچ چکی ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی کی صنعت بھی 3/ارب ڈالرسالانہ تک پہنچ چکی ہے اور 25% سالانہ کے حساب سے ترقی کر رہی ہے۔ یہاں میں مشہور نوبیل لاریٹ کے کچھ الفاظ آپ کیلئے پیش کر رہا ہوں۔
”مستقبل میں صنعتی ترقی کے لیے بائیوٹیکنالوجی کی افادیت پر بہت کچھ کہا جا چکا ہے، بائیوٹیکنالوجی کے روشن مستقبل اور حالیہ طاقت کے مد نظر، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ترقی پذیر ممالک بائیو ٹیکنالوجی کے مقام کومضبوط کرنے کے لیے صف بستہ نہ ہوں… یہ ایک المیہ سے کم نہ ہو گا کہ جنیات، حیاتیات اور کیمیاء کے اس قدر وسیع نظریات ترقی یافتہ ممالک( یعنی صرف دنیا کی مختصر آبادی) کے بڑے سینٹرز ہی تک محدود ہوکر رہ جائیں“۔
2001ء جب میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی تھا تو میں نے پاکستان میں نیشنل کمیشن برائے بائیوٹیکنالوجی قائم کیا تھا۔اس کمیشن کے تحت بڑی تعداد میں پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ اس طرح بائیوٹیکنالوجی کی بنیادیں ڈلنا شروع ہی ہوئی تھیں کہ ملک دشمن عناصر حرکت میں آگئے۔ آنے والی حکومت نے ”نیشنل کمیشن آف بائیوٹیکنالوجی“ کو بند کر دیا اور اس کے تحت ہونے والے تمام پروگرام بھی بند کر دیئے گئے۔ سائنس کا ایک دوسرا شعبہ بڑی تیزی سے پنپ رہا ہے وہ ہے نینو ٹیکنالوجی۔ چین بھارت اور دوسرے بہت سے ممالک اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیوں کہ اس شعبے کے زیرِ اثر طاقتور کمپیوٹر، الیکٹرونک آلات، زراعت و ادویات کی صنعت اور انجینئرنگ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی صنعتوں پر اثر ہو رہا ہے۔ 2001ء میں، میں نے نیشنل کمیشن آف نینو ٹیکنالوجی بھی قائم کیا تھا اور اس شعبے کی ترقی کے لئے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے فنڈز بھی مہیا کئے تھے لیکن صد افسوس کے اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو بائیوٹیکنالوجی کمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔ نیشنل کمیشن آف نینو ٹیکنالوجی کو بھی آنے والی حکومت نے بند کر دیا اور اس کے تحت شروع ہونے والے پروگرام بھی بند کر دیئے گئے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)کو برباد کرنے کے لئے بدعنوان سیاستدانوں کی طرف سے کئے گئے پے در پے وار بھی اسی افسوسناک کہانی کا ایک حصہ ہیں۔ اس کا بجٹ بھی آدھا رہ گیا ہے اور اس کے بیشتر پروگراموں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بند بھی کرا دیئے گئے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے دشمن تو خود اسی ملک میں موجود ہیں جنہوں نے پکّا ارادہ کر لیا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کرنے دیں گے تاکہ وہ ایک ناکام ریاست بن جائے جبکہ خود لوٹ مار کر کے تمام ملکی اثاثے بیرون ملک بنکوں میں جمع کر کے خود بھی بیرونِ ملک روانہ ہو جائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں