آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلثوم دلشاد

سندھ کی وادی دریا کے ارد گرد پھیلی،ہوئی ہے۔ کراچی سے جیکب آباد تک کے زیادہ تر شہر سندھو دریا کے کنارے آباد ہوئے ،مگر چوں کہ یہ علاقہ بنیادی طور پر ایک ریگستانی علاقہ تھا اس لیے یہاں کی تہذیب پر اُس نے بڑے گہرے نشانات چھوڑے۔اندرون سندھ کی آ?ب و ہوا کھلی ہوا کی زندگی کے لیے موزوں ہے ، آ?بادی کا بڑا حصہ سر کنڈوں یا گھاس پھوس کی چٹائیوں کی پناہ گاہوں میں رہتا ہے۔ ایسا علاقہ جہاں بارش کم ہو،وہاں اکثر پختہ اور ٹھوس عمارات کے بہ جائے کھلی فضا میں کسی سائے اور پناہ کے نیچے رہنا زیادہ خوش گوار ہے۔زمانۂ قدیم میںاکثر علاقے کے اکثر حصوں میں پتھروں کی کمی کی وجہ سے، بھٹی میںپکی اینٹوں کے مکان بنائے جاتے تھے، لیکن بالائی سندھ میں جہاں بارش بہت کم ہوتی ، اکثر مکان گارے اور اینٹ سے بنائے جاتے ، جو دھوپ میں بنتی اور سوکھتیں۔ 1842ءمیں ایک انگریز مفکراورلیج نے زیریں سندھ کے حالات کے متعلق لکھا ’’یہاں سب گھر چکنی مٹی کے ہیں، یہ بہ مشکل بیس فیٹ اونچے ، ان کی چھتیں چوڑی ہیں، جن میں کہیں کہیں روشن دان اور کھڑکیوں کی جگہ روزن ہیں، مسلسل بارش ان جھونپڑیوں کو تباہ کردیتی ، پورے کے پورے دیہات کو بہا کر لے جاتی ہے۔‘‘ اس سے صدیوں پہلے عرب مورخ الادریسی نے لکھا کہ’’ دیبل میں گھر چکنی مٹی اور دوئی کے بنے ہوئے تھے ۔‘‘

اگر دورِ جدید کی بات کی جائے، توسندھ میں ابھی تک ایک عام دیہاتی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا ہے، جس کی دیواریں ٹاٹ کی ، چھت گھاس پھوس کی بنی ہوئی ہوتی ہے، جس کے گرد ایک باڑھ ہوتی ہے، جھونپڑی کے اندر جانوروں کا باڑہ بھی ہوتا ہے، جو بوقت ضرورت دوستوں کے لیے استقبالیے کمرے کا کام بھی دیتا ہے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے، کہ باڑے کے جانوروں کو باہر نکال کر وہاں خاندانوں کو پناہ بھی دے دی جاتی ہے۔ دیہاتی کا ساز و سامان ایک دو چار پائیوں، ایک چٹائی، کھانے پکانے کے برتنوں اور حقے پر مشتمل ہوتا ہے۔کچھ گھردھوپ میں سکھائی ہوئی اینٹوں کے بھی ہوتے ہیں،جن میں میں ایک رہائشی کمرہ’’صوفو‘‘،دو چھوٹے کمرے، جنہیں صندوق خانہ بھی کہا جاتا ہے، کبھی کبھار اس میں ایک باورچی خانہ ’’رندو‘‘بھی بنایا جاتاہے،ورنہ صوفو میں ہی کچھ حصے پر کچن بنالیا جاتا ہے، ایک اسٹور روم ’’سامان جی کوٹھی‘‘، غسل خانہ اور بیت الخلاءبھی ہوتے ۔ اس طرز کا گھر ایک خاندان کے لیے کا فی ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہ اس سے بہتر رہائش گاہ کی استطاعت رکھے۔ لیکن گھر چھوٹے ہوں یا بڑے،چھوٹی سی اوطاق یا نشست گاہ ضرور بنائی جاتی ہے۔یہ سندھی ثقافت کاایک ا ہم حصہ ہے، اس میں گھر والےاپنی حیثیت کے مطابق بہترین فرنیچر رکھتےہیں، یعنی رنگین پایوں کے پلنگ، جھولتی ہوئی چارپائیاں اور کم از کم ایک دو کرسیاں بھی رکھی جاتی ہیں۔ 

زمین دار یا امیروںکے مکانات وسیع ہوتے ہیں، لیکن کم و بیش ان کی حویلیوں یا گھروں کا طرز تعمیر ایسا ہی ہوتا ہے۔ بڑے زمین دارکی رہائش گاہ اکثر ایک قلعے نما، برج دار فصیل کے اندر ہوتی ہے۔جس طرح زمانے کے ساتھ ہر چیز بدلتی جا رہی ہے، بالکل اسی طرح اب سندھ میں رہنے والے دیہاتیوں کے معیارِ زندگی میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان کا معیار زندگی بھی بلند ہو چکا ہے،جو ان کے رہن سہن میں صاف نظر آ?تا ہے ،اب گھاس، پھونس یا کچے مکانات کے بہ جائے، پختہ اینٹوں بلکہ پتھر کے مکانات بھی دیہات میں عام ہورہے ہیں اور ان کے ساتھ ہی ان کا پہناوا ، ساز و سامان بھی بہتر ہورہا ہے۔لیکن سندھی عوام آج بھی اپنی ثقافت کا مان برقرار رکھے ہوئے ہیں، جیسے ان کے رہن سہن، پہناوے میں جدید رنگ تو نمایاں ہوتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد قدیم و ثقافتی طرز پر ہی رکھی جاتی ہے۔ جیسے دیہات میںدو منزلہ مکانات اب بھی کم یاب ہیں ،ہمسائے بے پردگی کے خوف سے انہیں پسند نہیں کرتے۔ پرانی قسم کے گھروں میںکھڑکیاں نہیں بنائی جاتی تھیں، لیکن چھت کے روشن دان ’’مانگھ یا بادگیر‘‘ان علاقوں میں بہت عام بلکہ ضرو ر بنائے جاتے تھے۔

ایک انگریز فوجی لیفٹننٹ، جیمزنے سندھ کے حالات کے بارے میں لکھا’’گھر کیچڑ کے ،ان کی چھتیںنیچی اور غریب لوگوں کے مساکن تمر لکڑی کے ہیں، جو چٹائیوں اور شاخوں اور گھاس سے ڈھکے ہوئےہیں۔ پست علاقے میں مکانات اونچے بنائے گئے ہیں اور کہیں کہیں ان کے گرد خندق بھی ہے، تاکہ طغیانی کے پانی کا سدباب ہوسکے، جہاں سردار یا بڑے زمین دار اور سرکاری افسر رہتے ہیں ،ان کے سامنے مٹی کی دیواریں ہیں ،جن کے ہر کونے پر ایک برج ہے اور تقریباً سب ہی دیہات میں دید بان ہے، جو لیٹرے گروہوں کے حملے سے بچنے کے لیے باشندوں کی جائے دفاع ہوتا تھا۔‘‘

پوٹنگر نے انیسویں صدی کے اوائل میں سندھ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا،’’زیادہ تر آ?بادی ، جھاڑ اور ٹاٹ سے بنے ہوئے جھونپڑوں میں رہتی ہے، جن میں سے بعض جھونپڑےمٹی سے لیپے ہوتے ہیں۔ کراچی بندرگاہ سے سہون تک دریا کے مغربی کنارے تمام سکونت گاہیں اس قسم کی ہیں، سوائے ان کے جو دریا کے بہت قریب ہوں۔ ‘‘

عموماً سندھ کی آ?ب و ہوا ایسی ہے کہ زیادہ لوگ ایسی جگہوں پر اطمینان کے ساتھ رہ سکتے ہیں ۔ اب دیہات میں رہنے والوں کا رہن سہن بھی کافی بدل چکا ہے۔وہ بھی پکے گھروں میں رہتے ہیں، جہاں صحن میں مال مویشیوں کے لیے بھی جگہ بنائی جاتی ہے، البتہ وہ لوگ جدید دور میں بھی سادہ رہن سہن ہی اپنائے ہوئے ہیں، جس میں سندھ کی قدیم ثقافت کی جھلک نمایاں ہو تی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں