لاہور(نمائندہ جنگ)اردو ادب کے ممتاز استاد، افسانہ نگار اور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر انتقال کرگئے۔نماز جنازہ آج پیر 10بجے صبح جامع مسجد جہاں زیب بلاک اقبال ٹاؤن میں ادا کی جائے گی- ڈاکٹر سلیم اختر کا بطور اردو لیکچرارپہلا تقرر گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں ہوا۔ وہاں آٹھ سال رہنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور تبادلہ ہوا۔ جہاں سے 1994ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد مزید گیارہ سال وزیٹنگ پرو فیسر کے طور پر پڑھاتے رہے۔ اس کے علاوہ یونیو رسٹی آف ایجوکیشن میں بھی درس وتدریس کی ذمہ داریاں نبھا تے رہے۔ڈاکٹر سلیم اختر اردو کے ان معدودے چند نقادوں میں شامل ہیں جو بہترین تخلیق کار بھی تھے۔ان کی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ایک اہم حوالہ تصور کی جاتی ہے۔ ان کے افسانوی مجمو عوں میں آدھی رات کی مخلوق، مٹھی بھر سانپ، کڑوے بادام، کاٹھہ کی عورتیں، چالیس منٹ کی عورت، ضبط کی دیوار شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کی کلیات بھی نرگس اور کیکٹس کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں اک جہاں سب سے الگ (سفرنامہ)، نشان جگر سوختہ (آپ بیتی)، انشائیہ کی بنیاد، ادب اور کلچر، ادب اور لاشعور، فکر اقبال کا تعارف، اقبال اور ہمارے فکری رویے، کلام نرم و نازک، شادی جنس اور جذبات، ہماری جنسی اور جذباتی زندگی، عورت جنس اور جذبات، عورت جنس کے آئینے میں، مرد جنس کے آئینے میں وغیرہ شامل ہیں۔ڈاکٹر سلیم اختر کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 2008ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر سلیم اختر 11 مارچ، 1934ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے ۔ ان کے والد قاضی عبد الحمید ملٹری اکاؤنٹس میں ملازم تھے ۔ ان کے تبادلے ہوتے رہے، جس کی وجہ سے سلیم اختر انبالہ، پونہ، لاہور، فورٹ سنڈیمن، (بلوچستان) اور راولپنڈی میں تعلیم حاصل کی۔ڈاکٹر سلیم اختر اردو کے ان چند نقادوں میں شامل ہیں جو نقاد ہونے کے ساتھہ ساتھہ بہترین تخلیق کار بھی ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی پہچان تین حوالوں سے ہوتی ہے۔ بطور نقاد، افسانہ نگار اور استاد۔ ان کی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ اردو ادب کی اب تک لکھی گئی تاریخ میں ایک اہم حوالہ تصور کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی کہانیوں میں خاصا تنوع اور تلون موجود ہے۔ ابتدائی دور میں ان کے یہاں رومانی اور جذباتی قسم کے موضوعات بھی ملتے ہیں۔ ایک محبوبہ ایک طوائف، سویٹ ہارٹ اور کٹھ پتلی وغیرہ کا موضوع رومانی ہے۔ کلب، ڈانس، شراب، شباب، جذباتی محبت… یہ سب کچھہ ان کی کہانیوں میں ہے لیکن اس کے ساتھہ ساتھہ ایک رومانی رویہ ترقی پسندوں جیسا بھی ان میں پایا جاتا ہے اور وہ ہے صورت حال کو بدلنے کی خواہش۔ ہم مرکز دائرے، دو راستے ایک پل اور مچھر طبقاتی نظام کی بدولت وجود میں آنے والے اقتدار پر لکھے گئے افسانے ہیں۔ ان میں چھوٹی بڑی مجبوریاں، گھٹن اور اجتماعی رویوں کی مختلف شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ افسانوی مجموعوں اور ناولوں کے علاوہ تنقید، تحقیق اور دیگر کئی موضوعات پر ڈاکٹر سلیم اختر کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں آدھی رات کی مخلوق، مٹھی بھر سانپ، کڑوے بادام، کاٹھہ کی عورتیں، چالیس منٹ کی عورت، ضبط کی دیوار شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کی کلیات بھی نرگس اور کیکٹس کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں اک جہاں سب سے الگ (سفرنامہ)، نشان جگر سوختہ (آپ بیتی)، انشائیہ کی بنیاد، ادب اور کلچر، ادب اور لاشعور، فکر اقبال کا تعار ف، اقبال اور ہمارے فکری رویے، کلام نرم و نازک، شادی جنس اور جذبات، ہماری جنسی اور جذباتی زندگی، عورت جنس اور جذبات، عورت جنس کے آئینے میں، مرد جنس کے آئینے میں وغیرہ شامل ہیں۔ڈاکٹر سلیم اختر کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 2008ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر سلیم اختر کےافسانوں میں نرگس اور کیکٹس (مجموعہ افسانہ)، کڑو ے بادام، آدھی رات کی مخلوق، مٹھی بھر سانپ، کاٹھ کی عورتیں، چالیس منٹ کی عورت، ناولٹ، ضبط کی دیوار، آپ بیتی، نشان جگر سوختہ، نفسیات، شادی جنس اور جذبات، ہماری جنسی اور جذباتی زندگی، عورت جنس اور جذبات، تین بڑے نفسیات دان، عورت جنس کے آئینے میں، مرد جنس کے آئینے، خوشگوار اور مطمئن زندگی گزارئیے، تخلیق اور لاشعوری محرکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر سلیم اختر نے سفر نامے بھی لکھے جس میں اک جہاں سب سے الگ، عجب سیر کی شامل ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی تنقید میں اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ، اردو زبان کی مختصر ترین تاریخ، نظر اور نظریہ، کلام نرم و نازک، ادب اور کلچر، ادب اور لاشعور، اُمراؤ جان ادا کا تجزیاتی مطالعہ، باغ و بہار کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، مراۃالعروس کا تجزیاتی مطالعہ، چھ افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ، شعور اور لا شعور کا، جوش کا نفسیاتی مطالعہ شامل ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال پر بھی بہت سی کتابیں لکھیں۔