آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محققین کا خیال ہے کہ دن بھر کے دوران انسان کے ذہن میں تقریباً 60ہزار سوچیں غالب رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترسوچیںا یسی ہوتی ہیں، جو بار بار دماغ پر غلبہ کرتی ہیں۔ سوچ کا یہ وسیع دائرہ کار منفی زیادہ اورمثبت کم ہوتاہے، جس کے سبب انسان کسی بھی کام کو لگن اور محنت کے ساتھ نہیں کرپاتا۔ ساتھ ہی آئیڈیاز کی قلت اور توجہ مرکوز ہونے کا ہنر خود بخودکم ہونے لگتا ہے۔ایسی صورتحال کا سامنا طالب علموں کو اکثر ایگزام نزدیک ہونے کے دوران بھی کرنا پڑتا ہے، جب دیگر خیالات پر ان سے کنٹرول نہ ہو پارہا ہو۔ یہ شکایت اکثر والدین کو بھی ہوتی ہے کہ ان کے نوعمر بچے پڑھائی پر اپنی توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتے۔ باوجود اس کے کہ وہ پڑھائی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالب علموں کے علاوہ سوچوں کا یہ غلبہ کسی کاروباری شخص، صحافی، شاعر اور انجینئر وغیرہ ہر ایک کے ذہن میںبھی ہوسکتا ہے۔ مستقبل کی فکر اور ماضی کی یادوں کے باعث خیالات کی فہرست کافی طوالت اختیار کرسکتی ہے، جن سے نجا ت اور مقاصد پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے آپ کے ذہن کو ان منفی اور غیرضروری خیالات سے چھٹکارا پانا (ڈی کلٹر کرنا)بے حد ضروری ہے۔ اس عمل کی ضرورت ہر عمر کے افراد کے لیے ضروری ہے۔ دماغ کو منفی اور غیرضروری خیالات سے کیسے بچایا جائے، آئیے جان لیتے ہیں۔

سوچوں کی منتقلی

آپ کو ہر چیز کا ذخیرہ دماغ میں کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لفظوں سے دوستی کیجیے اور سوچوں کو انہی لفظوں میں ترتیب دیجیے۔ کوئی بھی ایک ٹول منتخب کرتے ہوئے اپنی تمام سوچوں کی منتقلی وہاں کیجیےکوئی بھی آن لائن ٹول (ایپس)یا پھر پین اور پیڈ کو بھی سوچوں کی منتقلی کے لیے بطور ذریعہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر تمام اپائنمنٹس، فون نمبر، آئیڈیاز اور مستقبل میں شروع کیے جانے والے پراجیکٹس کو ذہن میں رکھنے کے بجائے لفظوں کی صورت ترتیب دیں۔

ایک وقت میں ایک کام

اگر آپ کا گھر گندا ہو تو آپ اسے منظم کرنے کے لیے کیا کریں گے ؟ گھر کے کسی بھی ایک حصے مثلا ًکچن، ٹیبل یا اسٹورروم ایریا کا انتخاب کرتے ہوئے بے ترتیبی کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈی کلٹرنگ کایہی سلسلہ یہاں بھی کارآمد ثابت ہوگا۔ سب کام ایک وقت میں نمٹانے کے بجائے ایک وقت میں ایک کام کرنے کا سوچیں۔ ایک وقت میں ایک کام کرنے سے انسانی ذہن کی صلاحیتیں برقرار رہتی ہیں اور وہ دماغی طور پر بلا وجہ تھکتا نہیں ہے۔ ذہن کو زیادہ کاموں میں الجھانے سے سوچ بچار اور توجہ مرکوز کرنے کی قوت متاثر ہوتی ہے۔

معلومات کو محدود کریں

بہت زیادہ معلومات بھی آپ کی دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرسکتی ہیں مثال کے طور پر ایک ہی دن میں آپ اخبار سے بھی معلومات حاصل کررہے ہیں،بلاگز پڑھ رہے ہیں،ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور سوشل میڈیاپر آنے والا معلومات کا تیز بہاؤبھی آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروارہا ہے۔ ایسے میں ذہن کو ڈی کلٹر کرنے کے لیے آپ کا معلومات کو محدود کرنا ضروری ہے۔

٭سوشل میڈیا ویب سائٹس اور براؤزنگ کے لیے وقت مختص کریں اور پھر اس مخصوص وقت سے زیادہ انٹرنیٹ کا استعمال نہ کریں۔

٭ایسے میگزین اور بلاگنگ کی سبسکربشن بند کردیں، جو آپ کی زندگی اور مقاصد سے تعلق نہیں رکھتے اور دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

٭ ایسے افراد کی رائے اور مشوروں کو شامل کریں،جو آپ کی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں۔ غیر ضروری رائے لینے اور دینے سے گریز کریں۔

٭فیصلہ کریں کہ کون سی معلومات ضروری ہیں اور کون سی غیر ضروری۔ ان غیر ضروری معلومات کو ذہن سے نکالنے پر توجہ دیں۔

فیصلہ سازی کی قوت

جب آپ کو محسوس ہو کہ آپ کے ذہن پر سوچوں، امتحان میں آنے والے سوالات، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کی ٹینشن، کلائنٹس کی اپائنٹمنٹ اور اس جیسی بہت سی سوچوں کی گہری گرفت ہو تو ذہن کو خالی کرنے اور سوچوں کو ترتیب دینے کا ایک مرحلہ فیصلہ سازی بھی ہے۔ فیصلہ کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا نہیں ؟ اس مرحلہ پر بینجمن فرینکلن کی فراہم کردہpros-and-consلسٹ کی تیاری کے ذریعے فیصلہ سازی کا عمل آسان ہوسکتا ہے ۔

ترجیحات

آپ ایک ہی وقت میں سب کچھ نہیں کرسکتے۔ اس بات کو تسلیم کرلیں کہ آپ سب کچھ نہیں کرسکتے،اس لیے صرف ان چیزوں کا انتخاب کریں جو آپ کی زندگی میں بے حد اہمیت رکھتی ہوں۔ اپنے مقاصد کو شارٹ لسٹ کرکے بنیادی ترجیحات کی جانب توجہ مرکوز کریں اور شارٹ لسٹ کی ہوئی چیزوں کوذہن سے نکال دیں۔ ان ترجیحات پر کام کریں جنہیں آپ کی زندگی میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

مسکراہٹ

مسکراہٹ کسی بھی قسم کی کشیدگی اور ذہنی تناؤ سے نجات دلانے کے لیے میڈیسن کا کام کرتی ہے۔ اگر آپ ذہنی دباؤ کو ختم کرنا چاہتے تو لافٹر تھراپی کےاصولوں کو کام میں لائیں۔ اس کے لیے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں یا کوئی بھی ایسی فلم دیکھیں، جس کے سبب آپ مسکرانے پر مجبور ہوجائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں