آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال مارچ کا مہینہ ملٹی پل سلیروسس (Multiple Sclerosis) بیماری کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملٹی پل سلیروسس (MS)ممکنہ طور پرمتاثرہ شخص کو معذور کرنے والی بیماری ہے جو دماغ، ریڑھ کی ہڈی(حرام مغز)، مرکزی اعصابی نظام اور آنکھوں میں عصب بصری کو ناکارہ بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بینائی، توازن، پٹھوں کے کنٹرول اور دیگر بنیادی جسمانی عوامل میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ملٹی پل سلیروسس میں کیا ہوتا ہے؟

آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کا مرکزی عصبی نظام کس طرح کام کرتا ہے۔ آپ کا دماغ اور حرام مغز آپ کے مرکزی عصبی نظام کو بناتےہیں۔ حرام مغز آپ کے جسم کے لگ بھگ تمام حصوں کو آپ کے دماغ سے جوڑتا ہے۔ پیغامات اعصاب سے سفر کرتے ہوئے، آپ کے دماغ اور حرام مغز کے درمیان منتقل ہوتے ہیں۔ یہ اشارے اس بات کو کنٹرول کرتے ہیں کہ آپ کے جسم کے اعضاء کس طرح کام کرتے ہیں اور آپ کو درد، لمس وغیرہ جیسی چیزوں کو محسوس کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ آپ کا مدافعتی یا دفاعی نظام آپ کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ یہ آپ کے جسم میں پیدا ہونے والے جراثیم اور بیکٹریا پر حملہ کرنے اور انہیں ہلاک کرنے کا کام کرتا ہے۔

مرکزی عصبی نظام کو سمجھنے کے بعد اب آتے ہیں ملٹی پل سلیروسس کی طرف۔ اس میں آپ کا دفاعی نظام غلطی سے آپ کے دماغ کے اعصاب اور حرام مغز پر حملہ کرتا ہے۔ یہ اعصاب کے گرد کی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ حفاظتی جھلی (Protective Sheath)مائی لین (Myelin)نامی چکنی تہہ سے بنی ہوتی ہے۔ یہ ہر عصب کو نقصان سے بچاتی ہے اوراس کے درمیان پیغامات بھیجنے میں مددکرتی ہے۔

جب ملٹی پل سلیروسس کے حملے کے نتیجے میں آپ کا دفاعی نظام غلطی سے آپ کے دماغ کے اعصاب اور حرام مغز پر حملہ کرتا ہے تو مائی لین بربادہوجاتی ہیںاور پیغامات مشکل سے پہنچتے ہیں – یا بالکل پہنچ ہی نہیں سکتے ہیں۔ یہی وقت ہے جب ملٹی پل سلیروسس کی علامات شروع ہوجاتی ہیں اور بالآخر ایسا ہوتا ہے کہ یہ بیماری اعصاب کو جزوی یا بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر اس کا بروقت یا بدیر علاج نہ کیا جائے تو اعصاب مکمل طور پر ضائع ہوجاتے ہیں۔

ایم ایس کی نظر آنے والی علامات

ملٹی پل سلیروسس کی علامات کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ اس کی علامات روز بروز یہاں تک کہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بدل سکتی ہیں۔ یہ کچھ دن، ہفتوں یامہینوں میں ختم ہوسکتی ہیں۔ ملٹی پل سلیروسس کی قسموں کے اعتبار سے، درج ذیل علامات رہ سکتی ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں کمی آسکتی ہے یا یہ مکمل طور پر ختم بھی ہوسکتی ہیں۔

کچھ لوگوں کا جسم گرم، تھکا ہوا یا تناؤ سے بھرا ہوا لگتا۔ اپنے آپ کو تھکا دینے سے ایم ایس کی علامت بگڑ یا پھر سے بھڑک سکتی ہیں۔ ایم ایس کی صورت میں ہر شخص کی ذاتی علامات ایم ایس سے متاثرہ کسی دوسرے شخص سے مختلف ہوسکتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان علامات میں کیا تبدیلی آتی ہے، وہ بھی ہر فرد کے لحاظ سے منفرد ہوسکتی ہے۔

•عضو کا سُن پڑجانا یا کمزوری محسوس کرنا، جو عمومی طور پر جسم کے ایک طرف پیدا ہوتی ہے، جیسے ایک ٹانگ یا ایک بازو۔•بصارت کے مسائل۔ آپ کی بینائی دھندلی ہوسکتی ہے یا آپ کو ہر چیز دو دو نظر آسکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ دیر کے لیے آپ کو دونوں اور عمومی طور پرایک آنکھ سے کچھ بھی نظر نہ آئے۔ اس دوران آنکھ کو حرکت دینے سے آنکھ میں شدید یا قابلِ ذکر درد محسوس ہوتا ہے۔•جسم کے مختلف اعضاءجیسے بازو، ٹانگ، ہاتھ یا پیر میں درد یا جھنجناہٹ (اضطرابی کیفیت) کا محسوس ہونا۔ اس کے علاوہ بازو یا ٹانگوں میں کپکپی(جسے ’رعشہ‘ کہا جاتا ہے) بھی پیدا ہوسکتی ہے۔• بجلی کا سا کرنٹ لگنے کا احساس پیدا ہونا، جس کے نتیجے میں گردن میں مخصوص حرکات ہوسکتی ہیں، جیسے گردن میں آگے کی طرف جھٹکا آنا۔ • پٹھے میں سختی یا اَکڑن (اچانک حرکت جس پر آپ قابو نہیں پاسکتے)۔ • مثانے یا آنت کا ٹھیک طرح سے کام نہ کرنا۔  •جنسی مسائل درپیش آنا۔ • جذباتی امور کا سامنا کرنا، دباؤ محسوس کرنا یا بہت زیادہ رونا۔

ایم ایس کی وہ علامات جو نظر نہیں آتیں

تھکاوٹ سب سے عام علامت ہے، جسے عمومی سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ توازن، یادداشت یا سوچنے کے عمل میں مسائل پیدا ہونا بھی ایم ایس کی علامات میں سے ہیں۔ آپ کو ان غیر مرئی علامات کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔مثلاً، کسی انسان کو کچھ بھی کرنے کی خواہش نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ملٹی پل سلیروسس کی وجہ سےتھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔

ملٹی پل سلیروسس کی تشخیص

ایم ایس کی تشخیص کرنا آسان نہیںہے۔ جب آپ پہلی بار یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ غلط ہے اور پھر آپ کو رسمی طور پر بتایا جاتا ہےکہ آپ کو ملٹی پل سلیروسس ہے، اس میں کافی طویل عرصہ گزر جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اس میں سالوں لگ سکتےہیں۔ ایم ایس کی تشخیص کے لیے بلڈ ٹیسٹ جیسا کوئی آسان ٹیسٹ نہیں ہے۔صرف نیورولوجسٹ ہی اس مرض کی تشخیص کرسکتا ہے۔ اگر آپ کے جنرل پریکٹشنر کو لگتا ہے کہ آپ کے اندر ایم ایس کی علامات موجود ہوسکتی ہیں، تو وہ ٹیسٹ کے لیے آپ کو نیورولوجسٹ کے پاس بھیج دے گا۔

نیورولوجسٹ ایم ایس کی تشخیص کرنے کے لیے چار اقسام کے ٹیسٹ تجویز کرے گا۔

•نیورولوجیکل معائنہ، • ایم آر آئی اسکین، •’یادکیے گیے امکانات‘ کے ٹیسٹ، •لمبر پنکچر (ریڑھ کے نچلے حصے سے سیال لینا)۔

ملٹی پل سلیروسس کی جوہات

ایم ایس کی وجوہات نامعلوم ہیں۔ یہ مدافعتی نظام میں خود بخود پیدا ہونے والی بیماری ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام خود ہی اپنے خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ بیماری کچھ لوگوں میں کیوں اور کچھ میں کیوں نہیں ہوتی۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل اس کے ذمہ دار ہیں۔ دھوپ سے حاصل ہونے والے وٹامن ڈی کی کمی بھی ملٹی پل سلیروسس کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو زندگی میں کبھی بھی یہ بیماری لاحق نہ ہو تو تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اور اپنے وزن کو اعتدال میں رکھیں۔

لائف اسٹائل اوراحتیاط

صحت بخش متوازن غذا اور ورزش ایم ایس کی علامات میں آرام یا کمی کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھیں کیونکہ جسمانی درجہ حرارت بڑھنے سے ایم ایس کی علامات میں شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ذہنی تناؤ بھی ایم ایس کی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔ یوگا، تائی چی، مساج، میڈی ٹیشن اور گہری سانس لینے سے آرام مل سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں