آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

20مارچ 2019کو گورنمنٹ کالج، بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کو انہی کے ایک شاگرد نے اُس وقت چھریاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے، ملزم بی ایس انگریزی کا طالب علم ہے/تھا جبکہ خالد حمید شعبہ انگریزی کے سربراہ تھے۔ قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ نئے طلبا کا استقبال کرنے کی غرض سے کالج میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جا رہا تھا جس پر ملزم کو اعتراض تھا کہ یہ تقریب خلافِ اسلام ہے اِس لیے نہیں ہونی چاہیے، اِس معاملے پر اُس کی خالد حمید سے بحث ہوئی جس میں ملزم نے اپنے استاد پر الزام لگایا کہ وہ خلافِ مذہب بات کرتا ہے جو اُس سے برداشت نہیں ہوئی چنانچہ اُس نے اپنے استاد کے سر اور پیٹ میں چھریوں کے وار کرکے قتل کر دیا۔ موقع واردات پر ایک وڈیو بھی ریکارڈ کی گئی ہے جس میں ملزم اُس کمرے میں بیٹھا ہے جہاں پروفیسر کا خون بکھرا ہے، ملزم کے چہرے پر کسی قسم کا ملال نہیں اور وہ اِس بات پرایک طرح سے فخر کا اظہار کر رہا ہے کہ اُس کا استاد اُس کے ہاتھوں قتل ہوا۔ وڈیو بنانے والے نے ملزم سے جب یہ پوچھا کہ اگر پروفیسر خالد حمید نے کوئی خلافِ مذہب بات کی تھی تو اسے چاہئے تھا کہ وہ کالج انتظامیہ یا قانون کے مطابق متعلقہ اداروں کے علم میں یہ بات لاتا جس کے جواب میں ملزم نے اطمینان سے کہا کہ ملک میں قانون نام کی

کوئی چیز نہیں۔ اب اس قتل کا فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ملزم کا مقدمہ اسی قانون کے تحت چلایا جائے جو اُسکے خیال میں سرے سے موجود ہی نہیں تاکہ کم ازکم ملزم کی اِس غلط فہمی کا ازالہ تو ہو سکے۔ آپ کسی ٹاک شو میں بیٹھ جائیں، کسی تقریب میں شرکت کر لیں، نیلام گھر میں مہمان بن کر چلے جائیں یا پھرکسی پی ایچ ڈاکٹر کا مضمون پڑھ لیں جو اُس نے ملک کے تمام مسائل حل کرنے کی غرض سے لکھا ہو، آپ کو ایک ہی بات ہر جگہ رٹی رٹائی ملے گی کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے، جب تک ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنے بجٹ کا دس فیصد تعلیم پر خرچ نہیں کرینگے اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے حالانکہ پاکستان کا سب سے بڑا تعلیم کی کمی نہیں بلکہ اُس تعلیم کی زیادتی ہے جو جاہلوں کو جنم دے رہی ہے۔ اِس وقت ہمارے دو کروڑ بچے اسکول نہیں جا پاتے، یہ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اور اگر ہم اپنا تعلیمی بجٹ پوری ایمانداری سے بھی خرچ کر ڈالیں تب بھی ان تمام بچوں کو اسکول تک لانا ممکن نہیں، مگر یہ تصویر کا ایک رُخ ہے، دوسرا رُخ یہ ہے کہ جو بچے ہمارے اسکولوں میں تعلیم پا رہے ہیں وہ کیا گُل کھلا رہے ہیں! ایک تحقیق کے مطابق سرکاری اسکولوں میں دوسری تیسری جماعت میں پڑھنے والے بچوں کی استعداد کا جب اسی علاقے کے اُن بچوں سے موازنہ کیا گیا جو اسکول نہیں جاتے تھے تو معلوم ہوا کہ دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں، یعنی اسکول جانے والے بچو ں کو بھی ویسی ہی ٹوٹی پھوٹی گنتی آتی تھی جیسی اسکول نہ جانے والے بچوں کو۔ سو جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تعلیم پر زیادہ پیسے خرچ کرنے چاہئیں تو اس دلیل کا صرف اتنا حصہ ہی درست ہے جو دو کروڑ بچوں کو اسکول میں لانے سے یا سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار بہتر بنانے سے متعلق ہے، وہ حصہ درست نہیں جو موجود تعلیمی نظام پر سرمایہ کاری کرنے سے متعلق ہے۔ اِس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی کارخانے میں بلڈ پریشر کی دوا بنائی جاتی ہو مگر اس دوا کا اثر نہ ہوتا ہو اور ہم دوا کا معیار درست کرنے کے بجائے کہیں کہ جب تک ایسے مزید کارخانے نہیں لگائے جائیں گے دوا اثر نہیں کرے گی۔ ہمارے بچے صبح سویرے تیار ہوتے ہیں، یونیفارم پہنتے ہیں، اسکول جاتے ہیں، ان کے ماں باپ فیسیں بھرتے ہیں، کاپی کتابوں کا خرچ اٹھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اُن کا بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے، حکومت بھی اپنے کھاتوں میں یہی لکھتی ہے کہ اتنے کروڑ بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے بلکہ محض صبح سویرے اٹھ کر اور مخصوص کپڑے پہن کر ایسی عمارت میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں جس کی دیوار پر اسکول لکھا ہے اور حکومت اور عوام سمجھتے ہیں کہ یہ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بالکل اُسی طرح جیسے بلڈ پریشر کی دوا بنانے والے کمپنی جو بظاہر دوا بناتی ہو مگر حقیقت میں placeboبنا رہی ہو اور لوگ placeboاستعمال کرکے سمجھیں کہ وہ دوا استعمال کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو یہ بات ہضم کرنا مشکل لگ رہی ہے تو وہ ترقی یافتہ ممالک کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لے، دنیا کے جن ملکوں نے ترقی کی بلاشبہ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرکے ہی ترقی کی مگر جو فائدہ اِن ممالک کو اِس سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہوا، اُس کا عشر عشیر بھی ہمیں نہیں ہو رہا۔ مثلاً اگر کسی مغربی ملک نے تعلیم پر سو روپے خرچ کیے اور نتیجے میں اِس کا فائدہ دو سو روپے کی شکل میں برآمد ہوا تو ہمارے خرچ کیے گے سو روپے پچاس بھی نہیں رہ گئے۔ وجہ اِس کی وہی کہ ہم نے یہ سمجھ کر پیسہ لگایا کہ ہم تعلیم میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ہم نے جہالت میں انویسٹ کیا اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے، مشعال خان سے لے کر پروفیسر خالد حمید تکاسکول کالجوں کو اُن کے حال پر چھوڑتے ہیں، جامعات کی بات کر لیتے ہیں۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں تحقیق، جستجو اور علم کا مرکز ہوتی ہیں، وہاں آزاد سوچ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، نئے نئے سوال اٹھائے جاتے ہیں، ان کے جواب تلاش کیے جاتے ہیں، ریسرچ کی جاتی ہے، مقالے لکھے جاتے ہیں، تحریکیں پروان چڑھتی ہیں، دنیا بھر کے موضوعات پر مباحثے ہوتے ہیں، مذہب، فلسفہ اور سائنس کے مسائل پر بے فکری سے گفتگو ہوتی، یہ سب کچھ ہوتا ہے مگر ایک کام نہیں ہوتا اور وہ یہ کہ دنیا کی کوئی یونیورسٹی یہ طے نہیں کرتی کہ طالب علم کیا لباس پہنیں گے کیونکہ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد طالب علموں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب وہ اسکول کالج کے کھلنڈرے لڑکے لڑکیاں نہیں رہے بلکہ بالغ نوجوان ہو چکے ہیں، ان کی اپنی رائے ہے، ایک سوچ ہے، اپنا بھلا برا وہ خود جان سکتے ہیں، یہ کسی جامعہ کا مینڈیٹ نہیں کہ وہ بیس بائیس برس کی لڑکی کو سمجھائے کہ اسے کیا پہننا چاہئے اور الحمدللہ نہ ہی ہمارے معاشرے کی لڑکیاں ایسی ہیں کہ انہیں اچھے، برے، مہذب یا غیر مہذب لباس کی تمیز نہ ہو۔ پاکستانی لڑکیاں اسی معاشر ے میں پلتی بڑھتی ہیں اور انہیں اپنی مذہبی اور معاشرتی اقدار کا احساس ہوتا ہے مگر جس ملک میں جامعات آئے روز ڈریس کوڈ کا تعین کرتی پھریں، حال یہ ہو کہ کوئی آزاد سوچ پروان نہ چڑھنے دی جائے، مکالمے کی اجازت نہ ہو اور طلبہ تو کیا اساتذہ کو بھی تنقیدی شعور کا کوئی تصور نہ ہو، اُس ملک میں یہ دلیل دینا کہ چونکہ ہم تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف ڈھائی فیصد خرچ کرتے ہیں اس لئے ہمارا یہ حال ہے، ایسا ہی ہے جیسے گنے کی فصل کا بیج ڈال کر کپاس کے پھول کی امید کرنا۔ اپنے اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہم جو نسل تیار کر رہے ہیں اس کی ایک جھلک ہم نے بہاولپور کے گورنمنٹ کالج میں دیکھ لی، پیوستہ رہ شجر سے امیدِ ’’خزاں‘‘ رکھ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں