آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمیشہ کی طرح امسال بھی یومِ پاکستان کے موقع پر 23مارچ کی پریڈ انتہائی باوقار انداز اور شایانِ شان طریقے سے منعقد ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تقریب پاکستانیوں میں قوم پرستی کا جذبہ اجاگر کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس مرتبہ میں جب ٹی وی اسکرین پر یہ تقریب دیکھ رہا تھا تو ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کر لئے ہیں، جن کے لئے ہم یہ دن مناتے ہیں۔

ہر پاکستانی یہ جانتا ہے کہ یہ دن دو تاریخی مواقع کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ایک تاریخی موقع وہ تھا جب 23مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں (جہاں اب مینار پاکستان ہے) آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لئے الگ ریاست یعنی پاکستان کے قیام کی بنیاد بنی بلکہ اس قرارداد میں یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ اس ریاست کے خد و خال کیا ہوں گے۔ دوسرا تاریخی موقع وہ تھا جب 23مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا دستور منظور ہوا اور پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا لیکن اس افسوسناک حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ دستور بھی 23مارچ 1940ء کی قرارداد کی روح کے مطابق نہ تھا۔

ابھرا نہ ترا حسن خد و خال ابھی تک

تصویر تری قرض ہے تصویر گروں پر

ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ 23مارچ نظریہ پاکستان کی تجدید کا دن ہے لیکن اس بات پر آج تک اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ نظریہ پاکستان کیا ہے۔ مختلف حلقے اس کی اپنی اپنی توضیح کرتے ہیں۔ آج تک یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کو کس طرح کی ریاست ہونا چاہئے اور یہاں کون سا نظامِ حکومت رائج ہونا چاہئے۔ یومِ پاکستان ہم جس جوش اور قومی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کو 23مارچ 1940ء کی قرارداد کے مطابق بنائیں اور اس قرارداد کی روح کو سمجھیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قرارداد سے پہلے حالات کو مدنظر رکھیں اور یہ دیکھیں کہ تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں نے اس قرارداد کے لئے جن الفاظ کا انتخاب کیا، اس کے اسباب کیا ہیں؟ قرارداد کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنمائوں خصوصاً بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اس قرارداد کی کیا توضیح کی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تنازعات اور اختلافات سے نجات حاصل کرکے ایک متحد قوم کے طور پر آگے بڑھیں۔ 23مارچ 1940ء کی قرارداد سے تقریباً 11سال قبل مارچ 1929ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے ’’نہرو رپورٹ‘‘ کے جواب میں اپنے 14نکات پیش کئے تھے، جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کا آئندہ کا دستور کیسا ہو۔ ان 14نکات میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے اگرچہ الگ ریاست کی بات نہیں کی گئی تھی لیکن یہ نکات الگ ریاست کی جانب پہلا قدم تھے۔ ان نکات میں دو ٹوک الفاظ میں بتایا گیا تھا کہ آئین میں صوبوں کو خود مختاری اور اقلیتوں کو مساویانہ حقوق کی ضمانت دی جائے۔ 23مارچ 1940ء کی تاریخی قرارداد انہی 14نکات کی بنیادی روح کے مطابق تھی لیکن اس میں مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پھر جب پُرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے مملکتِ پاکستان وجود میں آگئی تو آئین ساز اسمبلی سے 11اگست 1947ء کو اپنے تاریخی خطاب میں حضرت قائداعظم نے یہ بتا دیا کہ پاکستان کی ریاست کیا ہو گی، اس کا دستور کیسا ہو گا اور اس میں نظامِ حکومت کیا ہو گا۔ قائداعظم کے 14نکات، 23مارچ 1940ء کی قرارداد اور قائداعظم کی 11؍اگست 1947ء کی تقریر میں سب کچھ واضح ہے۔ ان کی غلط توضیح کرنا محض اسلئے مناسب نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ اگر میثاقِ مدینہ کو پڑھ لیا جائے تو ان چیزوں کی غلط توضیح کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو گی۔ میثاقِ مدینہ آج سے تقریباً 1400سال پہلے، پہلے ہجری سال بمطابق 622عیسوی میں ہوا تھا۔ یہ تاریخ انسانی کا پہلا دستور تھا، جس میں تمام مذاہب، مسالک، گروہوں اور طبقات کے مساویانہ حقوق کا تحفظ کرنے والی ریاست کا تصور دیا گیا تھا اور اس ریاست میں شہریوں کے تمام مسائل حل کرنے کی ذمہ دار ریاست تھی۔

بہت وقت گزر گیا ہے۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہم نے تاریخ میں سات دہائیوں کا سفر طے کر لیا ہے۔ اب 23مارچ کی روح کے مطابق پاکستان کی تصویر گری کرنا چاہئے۔ پاکستان میں وفاقی جمہوری پارلیمانی نظام کو نہ صرف پنپنے دینا چاہئے بلکہ اسے مضبوط بنانا چاہئے۔ نظریۂ پاکستان یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا احترام کیا جائے اور اسے بالادست ریاستی ادارے کے طور پر اہمیت دی جائے۔ پارلیمنٹ پاکستان کی وفاقی اکائیوں اور پاکستان کے عوام کے اجتماعی دانش کی نمائندہ ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں پاکستان کی پارلیمنٹ تشکیل دیتے ہیں۔ ان اداروں کو کام کرنے دیا جائے۔ نظریۂ پاکستان یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو برابر کے مواقع مہیا کئے جائیں اور ان کی جان و مال اور دیگر حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ نظریۂ پاکستان یہ ہے کہ وفاقی اکائیوں یعنی صوبوں میں رہنے والے عوام کے اطمینان اور مکمل شراکت داری کے ساتھ وفاقِ پاکستان کو مضبوط کیا جائے۔ صوبائی اسمبلیوں کو خود مختار وفاقی اکائیوں کی اسمبلیوں کے طور پر کام کرنے دیا جائے۔ اس وقت کچھ اکائیوں میں جو بے اطمینانی یا احساسِ محرومی پایا جاتا ہے وہ تشویشناک ہے۔ اس بے اطمینانی اور احساسِ محرومی کے خاتمہ کے لئے اقدامات ہونا چاہئیں۔

نظریۂ پاکستان وہی ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کا نظریہ ہے۔ نظریۂ پاکستان یہ ہے کہ 11اگست 1947ء کی قائداعظم کی تقریر کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے لئے ایک شفاف پالیسی موجود ہو۔ احتساب کے جمہوری نظام کو مضبوط ہونا چاہئے۔ نظریۂ پاکستان یہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ قوموں کی طرح ماضی میں پھنسے رہنے کے بجائے قائداعظم کے فرمان کے مطابق ہمیشہ آگے دیکھنے والی قوم بنیں۔ ہم ملک کو ترقی کی جانب لے کر جائیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ کریں اور ایک مضبوط قومی معاشی نظام قائم کریں۔ ہر چند کہیں کہ ہماری معیشت ٹھیک ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ابتر صورتحال کا شکار ہیں۔ بے روزگاری اور مہنگائی میں تیزی سے اضافے نے پاکستانی سماج کے تانے بانے بکھیر دیئے ہیں۔ نظریۂ پاکستان یہ ہے کہ ہم پاکستان کو ایک پُرامن ملک بنائیں، جہاں لوگ بے خوف و خطر زندگی گزاریں لیکن بدقسمتی سے گزشتہ تین عشروں سے ہم بدامنی کا شکار ہیں اور بے گناہوں کے لاشے اٹھانا اور ظلم پر خاموش رہنا ہمارا قومی کردار بن چکا ہے۔ ہم خوش ہوئے تھے کہ کراچی طویل عرصے بعد پُرامن ہو گیا ہے لیکن اگلے روز اتحاد بین المسلمین کے داعی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی پر دہشت گردوں کے حملے نے ہمیں باور کرا دیا ہے کہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم بحیثیت قوم دہشت گردی کے خلاف وہ بیانیہ اور رویہ اختیار نہیں کر سکے، جو نیوزی لینڈ کی قوم نے اختیار کیا۔ قومیں اس طرح ہوتی ہیں۔ نظریۂ پاکستان کی متفقہ قومی توضیح کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارا قومی بیانیہ ایک ہو۔ ہر حکومت اپنا بیانیہ مسلط نہ کرے اور حکومتی بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار نہ دیا جائے۔ 23مارچ کا دن ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے پاکستان کو اس طرح بنا دیا ہے، جس طرح قائداعظم چاہتے تھے؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)