• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا کے چند محفوظ و غیر محفوظ ترین ممالک

عمّارہ ارشد، لاہور

اِس دُنیا میں کون ایسا ہو گا،جو اَمن و آشتی اور سکون و سلامتی نہیں چاہتا ہو۔امن اَہم اور اُن بنیادی امور میں سے ایک ہے ، جن سے کوئی بھی معاشرہ کام یابی اور ترقّی کی راہ پر گام زَن ہوسکتا ہے۔ہر جان دار پُر اَمن اور پُر تحفّظ ماحول میں رہنا چاہتاہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت دُنیا کے اکثر ممالک دہشت گردی اورعدم استحکام کا شکار ہیں۔’’گلوبل پِیس اِنڈیکس ‘‘ہر سال قوموں اور خطّوں میں امن و امان کی صورت ِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک رپورٹ مرتّب اور فہرست جاری کرتا ہے، جس میں پُر امن و محفوظ اور غیر محفوظ ترین ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ یہ ادارہ مئی 2007 ء میں قائم کیا گیا تھااور تب سے تاحال ہر سال باقاعدگی سےایک فہرست جاری کرتا ہے۔2007 ء میں121 ممالک کو پرُ امن ممالک کی درجہ بندی میں شامل کیا گیاتھا اور حالیہ رپورٹ2018ء میں 163ممالک کو محفوظ ترین قرار دیا گیا ہے۔ ذیل میں دَس محفوظ اور چھے غیر محفوظ ترین ممالک سے متعلق جانیے۔

1۔ آئس لینڈ

پُر امن ممالک کی فہرست میں آئس لینڈ مسلسل پانچویں مرتبہ سرِ فہرست ہے۔اسے دُنیا کا محفوظ ترین مُلک سمجھا جاتا ہے۔جب بھی آئس لینڈ کا نام ذہن کے دریچوں میں اُبھرتا ہے، توکسی برفانی علاقے کاتصوّر چھا جاتا ہے۔یہ شمال مغربی یورپ کا ایک مُلک ہے، جس کے بَیرونی حصّے، شمال میں بحر ِاوقیانوس(اٹلانٹک )،سمندر میں یورپ اور گرین لینڈ کے درمیان واقع ہیں۔ بیس وِیں صدی سے قبل تک آئس لینڈ کی آبادی کاکُل انحصار ماہی گیری اور زراعت ہی پر تھا۔ 1262ءسے 1944 ء تک یہ ناروے کا حصّہ اور بعدمیں ڈنمارک کی بادشاہت کے زیر ِاثر بھی رہا۔ بیس وِیں صدی میں آئس لینڈ کی معیشت اور بہبود کا نظام بہت تیزی سے پروان چڑھا۔اِس ملک کے پرُ امن ہونے کی بنیادی وجوہ میں طبقاتی نظام، مذہبی اختلافات اور صنفی امتیاز کا نہ ہونا شامل ہے۔ وہاںہر بچّے کو تعلیم حاصل کرنےکے یکساں مواقع میسّرہیں، صنفی مساوات قائم ہے۔کسی صنف کو ، دوسری پر برتری حاصل نہیں۔ آئس لینڈ دنیا کا وہ ملک ہے ،جہاں 1980ء میں سب سے پہلے ایک خاتون کو مُلک کا سربراہ بنایا گیا۔وہاں برّی، بحری یا فضائی افواج نہیں ہیں ۔گرچہ آئس لینڈ کے عوام کے پاس بڑی تعداد میں اسلحہ ہے، پھر بھی شرحِ جرائم نہ ہونے کے برابر ہے۔

2۔ نیوزی لینڈ

گلوبل پِیس انڈیکس کے مطابق ، نیوزی لینڈ دُنیا کا دوسرا محفوظ ترین مُلک ہے، اس کا دارلحکومت ویلنگٹن ہے۔ یہ مُلک کبھی بھی محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر سے نیچے نہیں آیا۔ یہاںکسی بھی قِسم کے اندرُونی یا بیرونی تنازعات دیکھنے میں آتےہیںاور نہ ہی عوام کوچوری ،ڈکیتی یا صحت ِ عامّہ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ہر شہری کوآگے بڑھنے، تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع میّسر ہیں۔

3۔ آسٹریا

دنیا کا تیسرا محفوظ ترین ملک آسٹریا قرار پایا ہے۔یہ برّ ِ اعظم یورپ کے وَسط میں واقع ہے، جس کی کُل آبادی تقریباً 88لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اِس کے شمال میں جرمنی اور چَیک ری پبلک ، مشرق میں سلوا کیا اور ہنگری، جنوب میں سلوانیا اور اٹلی، جب کہ مغرب میں سوئیٹزر لینڈ واقع ہے۔ آبادی کی اکثریت جرمن زبان بولتی ہے۔ آسٹریا میں 9وفاقی ریاستیں شامل ہیں ،اِس کا دارلحکومت اور سب سے بڑا شہر،ویانا ہے ۔ اسے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، یہاں کے عوام کا معیار ِزندگی بلند اور جرائم کی شرح بہت کم اور دہشت گردی کا بھی کوئی تصوّر نہیں۔ہر سال لاکھوں سیّاح آسٹریا جاتے ہیں، جس سے مُلک کی آمدنی میں کئی گُنا اضافہ ہوجاتا ہے۔

4۔ پُرتگال

فہرست کے مطابق پُرتگال، دُنیا کا چوتھا محفوظ ترین اور خُوش حال ملک ہے، جسے’’ پرتگیزی جمہوریہ ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ اس یورپی ملک کی سرحدیں صرف اسپین سے ملتی ہیں۔ 2017 ء کی عالمی درجہ بندی کے مطابق اسے دنیا کا تیسرا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیاتھا۔ یہاں سیّاحت کے لیےلاکھوں لوگ آتے ہیں،یہ مُلک رہنے کے لیے بہترین جگہ تصوّر کی جاتی ہے۔ یورپ کے محفوظ ترین اور خُوب صورت ممالک میں شمار ہونے کے علاوہ یہاں جرائم کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔پُرتگال کوبہترین زندگی گزارنے کے لیےمثالی ملک سمجھا جاتاہے ۔

5۔ ڈنمارک

محفوظ ترین ممالک کی فہرست میںڈنمارک کا نمبر پانچ واں ٹھہرا۔ اِس کے شُمال میں سویڈن اور ناروے، جنوب میں جرمنی ، مشرق میں بحیرۂ بالٹک اور مغرب میں بحیرہ ٔشمالی واقع ہیں۔ ڈنمارک کےمحفوظ اور خُوش حال مُلک ہونے کی وجوہ میںجرائم کا نہ ہونا، سیاسی استحکام اور آزادیٔ اظہار کا ہونا شامل ہے، علاوہ ازیں یہاںعوام کوتمام بنیادی حقوق بھی حاصل ہیں۔ یہ مُلک خُوب صُورتی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔

6۔ کینیڈا

فہرست کے اعتبار سے چھٹا محفوظ ترین ملک کینیڈا ہے۔یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک اور برّ ِاعظم شمالی امریکا کے بڑے حصّے پر محیط ہے ۔کینیڈا، بحرِاوقیانوس سے لے کر بحرِمنجمد شمالی تک پھیلا ہوا ہے۔اس کی زمینی سرحدیں امریکا کے ساتھ جنوب اور شمال مغرب کی طرف سے ملتی ہیں۔دِل چسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا ،وفاقی ،آئینی ،شاہی اور پارلیمانی جمہوریت کا مجموعہ ہے ۔ یہاںانگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ اندرونی مسائل بھی بہت کم اور سیاسی استحکام ہے۔ کینیڈا کا شماردُنیا کے امیر ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں ملازمت کے بھی متعدد مواقع میسّر ہیں، جب ہی دُنیا کے کونے کونے سے نوجوان ، تلاشِ معاش میںیہاںآتے ہیں۔کینیڈین افراد کا معیار ِ زندگی بہت بلند ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ اس کا شمار خُوش حال اور پُر امن ممالک میں ہوتا ہے۔

7۔ چیک ری پبلک

محفوظ و پُر امن ممالک میں ساتواں نمبر چیک ری پبلک کا ہے۔اسےسینٹرل یورپ کا دِل بھی کہا جاتا ہے۔ اِس کی سرحدیں پولینڈ، جرمنی ، آسٹریلیا اور سلواکیا سے ملتی ہیں۔ جمہوریۂ چیک ، آثار ِقدیمہ کی وجہ سے مشہور اور سیّاحوں کا پسندیدہ ترین مقام ہے۔یہاں نہ صرف سیاسی بلکہ اندرونی و بیرنی استحکام، معیار ِ تعلیم بَلند اور شرح ِبے روزگاری اور جرائم انتہائی کم ہیں۔

8۔ سنگا پور

جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ایک چھوٹا سا مُلک، سنگا پور درجہ بندی کے مطابق آٹھ وَیں نمبر پر ہے۔اس کا رقبہ 722مربع کلو میٹر ہے۔ یہاں تین قِسم کے مقامی لوگ(چینی، تامِل اور انڈین) آباد ہیں ۔دِل چسپ امر یہ ہے کہ یہاںآبادی کا36 فی صد حصّہ دُنیا بھر سے آئے تارکین ِوطن پر مشتمل ہے۔ سنگا پورکا شمار انتہائی خُوب صُورت اور ترقّی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا سے سیّاح اس مُلک کا رُخ کرتے ہیں۔ سنگاپور ایک ایسا مُلک ہے،جہاں کوئی صِنفی عدم مساوات نہیں ، انصاف کا حُصول آسان ہے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا۔اس مُلک کی آمدنی کا بڑا حصّہ سمندری مخلوق کی تجارت پر انحصار کرتا ہے۔ سنگاپُور کی معیشت انتہائی مضبوط ہے، چوں کہ قانونی بالادَستی ہے، اس لیے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ یہاں کاصفائی سُتھرائی کا نظام ، دُنیا بھر میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔

9۔ جاپان

سرزمین ِجاپان، برّ ِاعظم ایشیا کے انتہائی مشرق میں جزیروں کے ایک لمبے سلسلے پر مشتمل ہے، جو شمال سے جنوب کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا ملک ہے ۔ جاپان جسے آٹو موبائل انڈسٹری کا ’’گاڈفادر‘‘تصوّر کیا جاتا ہے، یہاںشہریوں کے لیےہر قِسم کی سہولتیں میسّر ہیں۔ بادشاہت قائم ہےاور جاپانی قوم کا شمار دُنیا کی محنتی اقوام میں ہوتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ جاپان ترقّی یافتہ ممالک کی صف ِ اوّل میں کھڑا نظر آتا ہے۔

10۔ آئر لینڈ

دُنیا کے محفوظ ترین مقامات کی فہرست میں دَس واں نمبر آئرلینڈ کا ہے ۔یہ برّ ِ اعظم یورپ میں برطانیہ کے ساتھ واقع ہے، اس کا دارلحکومت ڈبلن اورمجموعی آبادی تقریباً 47لاکھ ہے۔ 18اپریل 1949 ء کو آئر لینڈ کو جمہوریہ کا نام دیا گیا۔ اس کا ایک حصّہ اب بھی مملکت ِمتّحدہ کے تحت آتا ہے، جسے شمالی آئر لینڈ کہا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف اپنی خُوب صُورتی بلکہ آثار ِقدیمہ کی وجہ سے بھی سیّاحوںکی توجّہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔

گلوبل پِیس انڈیکس نے محفوظ ترین ممالک کے ساتھ ، غیر محفوظ ترین ممالک کی فہرست بھی جاری کی ، جس میں شام سر ِ فہرست ہے۔ قابل ِ توجّہ اَمر یہ ہے کہ اس درجہ بندی میں شامل پہلے چھے ممالک مسلمان ہیں۔

1۔ شام

شام میں گزشتہ طویل عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں امن و امان کی صورت ِ حال ابتر ہوتی چلی جارہی ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ 2008 ء میں ،شام 162 پُراَمن ممالک میں 88ویں نمبر پر تھا، لیکن شام میں داعش کی موجودگی نے خانہ جنگی کا سماں پیدا کر دیااوریہ مُلک نہ صرف بَیرونی عدم استحکام بلکہ اندرونی انتشار کا بھی شکار ہے، اسی وجہ سے متعدد بے گناہ جانیں ضائع ہو چُکی ہیں۔

2۔ افغانستان

خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں افغانستان دوسرے نمبر پر ہے۔ 2001ءمیں’’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘‘ پر حملے کے بعد امریکا نے اس کی ساری ذمّے داری افغانستان میں پناہ گزین ،اُسامہ بِن لادن پر ڈال کراپنی فوجیں وہاں بھیج دیں۔تب سے اب تک افغانستان مسلسل انتشار کا شکار ہے۔سیاسی عدم استحکام،حکومت و طالبان کے درمیان چپقلش ،بَیرونی طاقتوں کی دخل اندازی اورطالبان ، القاعدہ اور اسلامی جہاد یونین کی وجہ سے مُلک کو بے شمار خطرات کا سامنا ہے ۔جس کے باعث آئے رو ز بمباری و فسادات ہوتے رہتے ہیںاور جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

3۔ جنوبی سوڈان

اس فہرست میںجنوبی سوڈان تیسرے نمبر پر ہے ۔یہاں دہشت گردی ، نسلی تفاوت اورمذہبی انتہا پسندی بہت عام ہے۔کہا جاتا ہے کہ دیگر مذاہب اور اقوام کے لوگوں کی جان و مال یہاں محفوظ نہیں۔

4۔ عراق

عراق میں جاری خانہ جنگی اور عدم استحکام کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ غیر مُلکی طاقتوں کے اثر و رسوخ اور ملکی معاملات میں مداخلت نے ملک کومزید انتشار ، عدم استحکام اور لاقانونیت سے دو چار کیا۔طویل عرصے سے یہاں دہشت گرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں، جو ملک میں انتشار پھیلانےاور انتہا پسند انہ کارروائیوں میں ملوّث ہیں ۔

5۔ صومالیہ

گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق یہ ملک خطرناک ترین ممالک میں پانچ وَیں نمبر پر ہے۔اندرونی انتشار کے باعث کوئی بھی حکومت یہاں زیادہ دیر تک چل نہیں پاتی، جس کی وجہ سے یہ ملک قذّاقوں ، چوروں اوردہشت گرد وںکی آماج گاہ بن چکا ہے۔کسی زمانے میں صومالیہ سیّاحوں کی توجّہ کا مرکز ہوا کرتا تھا، مگر آج قحط، جنگ، بے روزگاری ، غربت اور انتہا پسندی جیسے مسائل کی وجہ سے سیّاح اس مُلک کارُخ نہیں کرتے۔

6۔ یمن

خطرناک ترین ممالک میں یمن کاچھٹا نمبر ہے۔یہ شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے ،حکومتوں کے عدم توازن کی وجہ سے یہاں القاعدہ کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہےاور شمال میںحَوثی باغیوں کی موجودگی نےبھی ملک کو مزید تباہی سے دو چار کر دیا ہے۔

تازہ ترین