• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ عورت کائنات کی بیٹی اور آسمانی نور ہے ، اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو آرٹ بے رنگ ، شاعری بے کیف اور ادب پھیکا ہوتا ،لیکن زمانہ جاہلیت میں عورت کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ، اُسے مرد کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا اسی وجہ سے جائیداد کا وارث صرف مرد کو ٹھہرایا گیا ، شوہر کی وفات کے بعد بیویاں بھی تقسیم کی جاتیں، اُسے زندہ درگور کر دیا جاتا، گلے میں رسیاں ڈال کر بازار میں فروخت کیلئے لایا جاتا، اسکی عزت اور احترام کو پامال کیا جاتا، اسے برائے فروخت جنس کے طور پر میڈیا اور کمرشلز کی زینت بنایا جاتا۔ آج ایک خاص سوچ کے تحت یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ شاید اسلام ایسا مذہب ہے جس میںعورت پر بے جا پابندیاں لگائی جاتی ہیں، وہ جبر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، اُسے عملی زندگی میں حصہ نہیں لینے دیا جاتا ،اسکو جواز بنا کر عورت کے حقوق اور تحفظ کے نام پر نئے نئے قوانین بنوائے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ان قوانین کی موجودگی میںعورت اور زیادہ بے تحفظ ہو جاتی ہے عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبردار عورت کی نام نہاد آزاد ی کے نام پر عورت کا نہ صرف استحصال کر تے ہیں بلکہ عورت کیلئے زندگی اور کٹھن بنا رہے ہیں۔
اسلام دین فطرت اور انسانیت کا ترجمان ہے ، جو ہمارے لئے ابدی دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام اور نبی آخر الزمان ﷺ نے خواتین کے حقوق اور اُن سے حُسن سلوک کی جو تعلیمات انسانیت کو دی ہیں، دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی معاشرہ اور کوئی قانون اس کی برابری نہیں کر سکتا۔ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر قرار دیا ہے بلکہ بعض حالات میں اسکے درجات مرد سے بھی بلند کئے۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے عورت کو ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے روپ میں اعلیٰ مقام دیا ، آپ ﷺنے بیٹی کو جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ قرار دیا تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھنے کا پیغام ،نبوت پر ایمان لانے والی پہلی ہستی بھی عورت تھی ۔ازواج مطہرات خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کی بھی معلمہ تھیں، بڑے بڑے صحابہؓ ، تابعین ان سے حدیث ، تفسیراور فقہ کی تعلیم حاصل کر تے تھے ۔ اسلام کی پہلی خاتون طبیب حضرت رفیدہ ؓ تھیں، حضرت زنیب ؓ چمڑے کا کاروبار کرتیں، حضرت خدیجہ ؓ نے تجارت کے شعبہ میں مثال قائم کی۔ حضرت صفیہ ؓ نے جنگ خندق کے دوران دشمن کے جاسوس کو خیمے کا ڈنڈا اکھاڑ کر کیفرکردار تک پہنچایا ۔بس ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہنی چاہئے کہ اسلام کا اپنا نظام عفت ،ضابطہ اخلاق اور قانون حجاب ہے۔ یہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کے حقوق کا نہ صرف تعین کیا بلکہ یہ حق دیا کہ وہ بتائی ہوئی حدود میں رہ کر عملی زندگی میں فرائض سرانجام دے سکتی ہے۔
عورت کے یہ تمام روپ اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ لیکن عورت کا سب سے بڑا اور خوبصورت روپ ماں کا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ باپ کی اہمیت نہیں،قرآن پاک کی آیات کا مفہوم ہے کہ ’’ماں باپ سے حسن وسلوک کرواگر وہ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو‘‘ ترمذی کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایااللہ کی رضا باپ کی رضا ہے اور باپ کی ناراضی اللہ کی ناراضی ہے ، حدیث میں ہے جو شخص والدین یا کسی ایک کی نافرمانی کریگا وہ جنت میں نہیں جائیگا ، ہم عام طور پر گھر اور مکان کا لفظ بولتے ہیں ۔ بس یہ سمجھ لیجئے جس مکان میں ماں رہتی ہے وہ گھر ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ماں ہی گھر ہے تو غلط نہ ہوگا۔یہ ماں کی ہستی ہی ہے جو اپنے بیٹے ، بیٹیوں اور تمام رشتوں کی اچھائیوں ، برائیوں ، دکھ ، دردکو اپنی ذات میں سمیٹے رکھتی ہے۔ماں تو ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہے۔ ہمیں مسائل سے افاقہ اور سکون ماں کی چھتری تلے ہی ملتا ہے۔
ماں کی عظمت دیکھئے کہ صحیح و مسلم میں ہے کہ ایک آدمی حضو ر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ماں ، باپ میں سے کس کا حق ِخدمت مجھ پر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا، پھرپوچھا تو آپ نے فرمایا تیری ماں کا، تیسری مرتبہ پوچھا تو یہی فرمایا اور جب چوتھی مرتبہ پوچھا گیا تو فرمایا تیرے باپ کا۔ماں کے درجے کا اندازہ اس واقعہ سے لگا یا جاسکتا ہے کہ حضور ﷺ 8ہجری شوال میں ایک مرتبہ جنگ حنین کا مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک خاتون حضور ﷺکے ہاں آئی تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے ، آپ ﷺ نے اس کیلئے اپنی چادر بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئی ۔ ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے پوچھا یہ کون ہے تو بتایا گیا کہ قبیلہ ہوازن کی بی بی حلیمہ ہے جو آپ ﷺکی رضائی ماں ہیں۔ حضرت مغیرہ ؓسے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺے فرمایا بلاشبہ تم پر اپنی مائوں کی نافرمانی اور حق تلفی حرام کر دی ہے۔
ذراسنئے ماں کی عظمت ، تفسیر ابن کثیر میں ہے ایک شخص اپنی والدہ کو کمر پر اٹھائے طواف کروا رہا تھا اس نے حضور ﷺسے عرض کیا کہ کیا میں نے اس طرح خدمت کرتے ہوئے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیاہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک سانس کا حق بھی ادا نہیں ہوا۔
اس ماں ( عورت )کی حیثیت کے بارے میں انسانی حقوق کے مثالی چارٹر خطبہ حجتہ الوداع میں محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ نے فرمایا لوگو!عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔ ماں کا جتنا بلند درجہ ہے ، اس کی اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ اچھی مائوں کا کردار یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کر کے ذمہ دار بنائے کل وہ ذمہ دار بیوی ہی نہیں بلکہ ذمہ دار ماں بھی بنے گی۔ ماں کے بارے میں شیکسپیئر کا کہنا تھا کہ عورت ایسی کتابیں ، ایسی تصاویر اور ایسے دبستان ہیں کہ جن میں ساری دنیا بستی ہے۔ جو تمام دنیا کی پرورش اور تربیت کر تی ہے۔
ایرانی کہاوت ہے کہ ماں کا پیار ایسے چشمے کی مانند ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا ، ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ دنیا میں گھر کے علاوہ کوئی ایسا کالج نہیں جس میں انسانیت کی تعلیم اس سے بڑھ کر ہو، آدمی میں آدمیت گھر ہی پیدا کرتا ہے اور گھر کی پرنسپل ماں ہوتی ہے۔ اب مائوں کو چاہئے کہ وہ بچوں کو نیکی کی راہ دکھائیں، اس پر چل کر وہ خوش رہیں گے ورنہ وہ نیک نہ بنے تو دولت کے انبار بھی انہیں خوشی نہیں دے سکیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ جس قوم میں نظم وضبط نہ ہو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی اور یہ نظم و ضبط ماں ہی پیدا کر سکتی ہے۔ کیونکہ بچے کی جیسی تربیت کی جائے وہ ویسا ہی بن جاتا ہے یہ سب کچھ ماں باپ خصوصاً ماں کے طرز زندگی سے ہی ممکن ہو سکتاہے۔
اب مائوں اور اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں اور بچیوں کو وہ علم دیں جو کام کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھائے، یہ کام تو اچھی مائیں ہی کر سکتی ہیں۔ وہ جو نپولین نے کہا تھا کہ ایک عورت کی تعلیم پورے کنبے کی تعلیم ہے، مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔ مائوں کو چاہئے کہ حضور ﷺ کی اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ’’ علم جنت کے راستوں کا نشان ہے‘‘ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں تاکہ وہ اچھی قوم بن سکیں۔
( عالمی یوم خواتین کے حوالے سے اپنے آبائی شہرحافظ آباد کے ایک تعلیمی ادارے میںپڑھا گیا میرا مقالہ)
تازہ ترین