ڈاکٹر عزیزہ انجم،کراچی
عالیہ بیگم کا بھوک سے بُرا حال تھا۔ اُن کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی اور وہ شادی کے کارڈز دینے حیدرآباد سے کراچی آئی تھیں۔ صُبح سویرے بھائی کے گھر پہنچیں۔ دو بھائی ایک ہی گھر میں اوپر نیچے رہتے تھے۔ بڑی بھابھی کا بلڈ پریشر ہائی تھا، وہ آرام کررہی تھیں،جب کہ چھوٹی بھابھی بچّوں کو اسکول بھیج کر سونے کے لیے لیٹ چُکی تھیں۔ بھائی نے ٹرے میں چائے، بسکٹ اور نمکو پیش کی۔ عالیہ ناشتا کرنا چاہ رہی تھیں،مگر خاموشی سے چائے بسکٹ کھالیے۔ پھر بھائی کے ساتھ مختلف رشتے داروں کے یہاں کارڈ دینے چلی گئیں۔ دِن کے ایک بجےبھوک سے نڈھال ہوچُکی تھیں،تو انہوں نے ممانی ساس کےگھر جاتے ہوئےسوچا کہ کھانے کا وقت ہے، شاید کوئی پوچھ ہی لے، مگر وہاں بھی صرف چائے ہی پینے کوملی۔ بھائی نے کہا بھی کہ گھر چل کر کھانا کھالو، لیکن عالیہ رشتے داروں کے سرد رویّے دیکھ کر حیدرآباد جانے والی کوچ میں بیٹھ گئیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا عمومی رویّہ ہے۔ ایسی کہانیاں اب ہمارے معاشرےمیں عام ہوتی جارہی ہیں۔ مہمان کے آنے پر خوشی کا اظہار، اچھے جملوں سے استقبال اور کھانے کے وقت کھانا کھلانے کی روایت تقریباً دَم توڑتی جارہی ہے۔
ایک دَور تھا، جب مہمان رحمت ہوا کرتے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی، کسی ملنے جلنے والے، قریبی یا دُور کے رشتے دار کا چہرہ نظر آیا اور گھر والوں کے چہروں پر خوشی دوڑ گئی۔ ’’جم جم آئو، ماشاءاللہ، تشریف لایئے‘‘ جیسے جملوں سے آنے والوں کا استقبال کیا جاتا۔ اگر کھانے کا وقت ہوتا، تو زبردستی روک کر کھانا کھلاتے۔ تھوڑی دیر کے مہمان کی چائے یا شربت سے تواضع کی جاتی۔ روز روز کے آنے والے بھی سَر آنکھوں پر بٹھائے جاتے اور کبھی کبھی تو دُور دیس سے آنے والے مہمانوں کا خاص انتظار رہتا۔ گھروں میں سگھڑ اور عقل مند خواتین، مہمانوں کے لیے بستر،چادر، تکیے،لحاف ،کمبل اور کھیس وغیرہ بنا کر صندوق میں رکھتیں کہ جانے کب کون آ جائے، کس موسم میں آئے۔ گرمی کی چھٹیوں میں رشتے دار اور عزیز دِنوں اور ہفتوں قیام کرتے، ناشتا، کھانا، چائے، محفلیں، باتیں اور پیشانی پر بل کا نام نہیں۔ مہمان داری کی اس خُوب صُورت روایت کا سہرا بالخصوص خواتین کے سَر تھا، جو خاندان کو جوڑ کر رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھیں۔ تنگی تُرشی میں بھی کچھ پس انداز کر کے رکھتیں کہ گھر کی عزّت برقرار رہے۔ ساتھ ساتھ سردی، گرمی ہر موسم میں آگ اور چولھے کے سامنے گھنٹوں کام کرکے بھی خوش رہتیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف ماضی کی یادوں میں کھوئے رہیں گے، ماضی کی باتوں، قصّوں کو بیان کر کے خوش ہوتے رہیں گے یا بدلتی اقدار کو درست کرنے کا بھی سوچیں گے۔ آج الحمدللہ، معاشی آسودگی پہلے سےکہیں زیادہ ہے۔ سُپر اسٹور سے خریدی گئی اشیاء سے کچن اور فریج بَھرے رہتے ہیں۔ ماہانہ خرچ کا بجٹ ہر مہینے بڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ دِل کی تنگی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملنا جلنا انتہائی کم، اس پر بھی آنے والے کو دیکھ کر سپاٹ اور سادہ چہرے سے استقبال، اپنی بیماری اور مصروفیت کا حد سے زیادہ ذکر، تکلّف اور سَردمہری عمومی رویّہ بنتی جا رہی ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے توقع رکھتے ہیں، شکایت کرتے ہیں، لیکن خود کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بھائی، بہن اور انتہائی قریبی عزیز بھی بغیر تقریب اور دعوت بہت کم ایک دوسرے کے گھر جانے کے لیے وقت نکال پاتے ہیں اور پھر تنہائی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے نہ دِل کشادہ کرتے ہیں، نہ ہی دستر خوان۔
مہمان داری انسانی تہذیب کا شان دار وَرثہ ،معاشرت کا حُسن اور حصّہ ہے۔ ہر مذہب،تہذیب، زبان اور نسل کے لوگوں میں مہمان داری کی روایت پائی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے گھر جانا، کبھی مہمان بننا ،کبھی مہمانوں کا استقبال اور ضیافت کرنا ہمیشہ سے انسان کی زندگی کا لازمی جزو رہا ہے،لیکن اب انسانی تہذیب کی یہ خُوب صُورت روایت ماضی کی حسین یاد بنتی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ صرف مہمان بننا پسند کرتے ہیں اور اپنے گھر آنے والوں سے لیا دیا رویّہ رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ کسی کے گھر جانا پسند کرتے ہیں ،نہ ہی کچھ کھانا پینا۔ دونوں رویّے غلط اور تکلیف دہ ہیں۔ آج ہر فرد اپنی آسودہ زندگی میں مگن ہے۔ گھر سے باہر جاکر ہزاروں روپے کا ڈنر کرلیتے ہیں، لیکن گھر آئے مہمان کی تواضع دِل اور جیب دونوں پر گراں گزرتی ہے۔ مہمان نوازی کی روایت کم ہونے اور رفتہ رفتہ ختم ہونے میں تکلّفات کا بھی بڑا دخل ہے۔ بہت زیادہ اہتمام بہت اچھا اور مہنگا کھانا کھلانا ہر فردکے بس کی بات نہیں۔ اس کی جگہ اگر محبّت سے سادہ کھانا پیش کر دیا جائے، تو شاید ملنا جلنا ایک دوسرے کے گھر جانا، جانے والے کو بھاری لگے، نہ گھر والوں کو۔
اسلام نے مہمان نوازی کا بہت زیادہ حکم دیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ’’جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ مہمان کا اکرام کرے۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام مہمان کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ ایک صحافی حضرت ابو طلحہ انصاریؓ نے رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے مہمان کو چراغ بُجھا کر اور بچّوں کے ساتھ خود بھوکا رہ کر کھانا کھلایا، تو اللہ تعالیٰ نے اس مہمان نوازی کو خاص طور پر قبول فرمایا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مہمان داری ہمارے دین کا حصّہ ہے،جسے پور ی خوش اسلوبی سے نبھایا جائے،لہٰذا نہ صرف رشتے داروں، کُنبے کے عزیزوں، دوست احباب سے ملنے جُلنے کا وقت نکالیں،بلکہ انہیں اپنے یہاں مدعو بھی کریں۔ تنہائی کے جزیرے سے نکل کر محبّت اور تعلق کے سلسلے مضبوط کریں۔ عید تہوار پر ملاقات کا اہتمام کریں۔ مانا کہ ہر فرد کی اپنی اپنی مصروفیات ہیں، پھر ماضی کی نسبت آج خواتین زیادہ تعداد میں ملازمت بھی کر رہی ہیں، پھر بھی کبھی کبھی خود کو زندہ رکھنے کے لیے مہمان بنیں اورمہمانوں کی تواضع کریں۔ یہ بھی اچھا ہے کہ وقت دیکھ کر، اطلاع دے کر، دوسرے کی مصروفیت اور آرام کاخیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے گھر جائیں، لیکن بہت زیادہ تکلّفات اور خود اختیار کردہ اجنبیت اور لاتعلقی بھی ٹھیک نہیں۔ مہمان داری کی خُوب صُورت روایت کو اب بھی کچھ اہلِ دِل زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جب کبھی کوئی ان کے گھر آئے قریبی پکوان سینٹر سے بریانی، قورمے، تافتان سے میز سج جاتی ہے۔ آنے والوں کے ساتھ خوش گپیاں ہوتی ہیں، ایک دوسرے کی خیریت پوچھی جاتی ہے اور واپس جانے والوں کی دُعائوں کا تحفہ اُن کا نصیب ہوتا ہے۔ حقیقت ہے کہ انسان کو انسان سے تعلق اور محبّت کی اب بھی اُتنی ہی ضرورت ہے، جتنی پہلے تھی۔ ایک دوسرے سے مِلیں، جُلیں اور گھر ہی کے نہیں، دِلوں کے دروازے بھی کُھلے رکھیں۔ گھر میں پکا سادہ کھانا بھی مل کر کھانے سے محبّت بڑھتی ہے، خوشی ملتی ہے اور محبّت اور خوشی کا یہ سودا مہنگا نہیں۔ بس ذرا دِل کو کشادہ کرنے، مزاج کی گراں باری دُور کرنے کی ضرورت ہے۔