ڈاکٹر یاسمین شیخ
کھیل کود انسانی صحت کےلیے از حد ضروری ہیں، ان سے نہ صرف جسمانی نشوونما پر اچھا اثرپڑتا ہے، بلکہ اخلاق وکردار، عادات و اطوار پر بھی مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ فارغ اوقات میں اگر بچّہ یا جوان بے کار رہے، تو اس کے ذہن میں منفی رجحانات پرورش پاسکتے ہیںاور وہ بے راہ روی کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دَور میںکسی نہ کسی کھیل کو لازم سمجھا گیاہے۔ ان کھیلوں میںگھڑ سواری، تیر اندازی، بُل فائٹنگ ،کرکٹ، ہاکی، اسکواش، ٹیبل ٹینس، باکسنگ، کار ریسنگ، پانی کے کھیل، مثلاً کشتی رانی، مچھلی پکڑنا، غوطہ خوری وغیرہ اور موسمِ سرما کے کھیل جیسے اسکیٹنگ، آئس ہاکی اور برفانی پہاڑوں پر کوہ پیمائی جیسا صبر آزما، معلوماتی و جان لیوا کھیل سبھی شامل ہیں۔تاہم، کھیلوں کے دوران چوں کہ اندرونی اعضاء کی نسبت جِلد کو گرمی، سردی، برسات، دھوپ، ہوا، پانی، گرد وغبار اور مختلف چوٹوں سے براہِ راست نبردآزما ہونا پڑتا ہے، تو کھلاڑیوں کو جِلدی مسائل بھی زیادہ پیش آتے ہیں۔ مثلاًکھلاڑیوں میںپیروںکی پھپھوندی عام بیماری ہے،جو فنگس نامی طفیلی کیڑے سے ہوتی ہے۔اس سے عموماً مَرد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہ کھلاڑیوں کے علاوہ اُن تمام افراد کو بھی اپنا شکار بنا سکتی ہے،جو زیادہ وقت جوتے اورموزے پہنے رہتے ہیں۔اس مرض میں پسینہ آنے کی وجہ سےپھپھوندی پائوں کی انگلیوں یعنی چوتھی اور چھوٹی انگلی کے درمیان تنگ جگہ پر سُرخی پیدا کردیتی ہے۔اگر انگلیوں کو الگ الگ کرکے دیکھا جائے، تو جِلد سفیدی مائل دکھائی دے گی۔ یہاں جلن اور ہلکی کھجلی محسوس ہوتی ہے، تاہم انفیکشن ہونے کی صورت میں بُو بھی آسکتی ہے۔ بعد ازاں پیروں کے تلوے اور ناخن بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔چوں کہ بہت زیادہ تکلیف نہیں ہوتی، لہٰذا متاثرہ فرد زیادہ توجّہ نہیں دیتا۔یوںیہ مرض ماہ و سال تک بھی لاحق رہ سکتا ہے۔ بطوراحتیاطی تدابیر روزانہ پائوں دھوئیں،کوشش کریں کہ فرصت کے اوقات میں پیروں کو کُھلا رکھا جائے، تاکہ اُنھیں ہوا لگ سکے۔عام روٹین میں کُھلی چپل پہنیں۔ہمیشہ صاف ستھرے، دھلے ہوئے اور پسینہ جذب کرنے والے سوتی، خصوصاً تولیے والےموزےاستعمال کریں۔موزے روزانہ تبدیل کیے جائیں اور جوتوں کی بھی دو جوڑی رکھیں، تاکہ ایک دِن استعمال ہونے والے جوتے کواگلے دِن ہوا لگ سکے۔ یوں فنگس کو پنپنے کا موقع کم ملے گا۔ پھر متاثرہ فردکے موزے، جوتے دیگر افراد قطعاً استعمال نہ کریں۔علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوراًعلاج کروائیں۔اسی طرح عموماً کھلاڑی کُھلے میدانوں میں چمکتے سورج کے نیچے کھیلتے ہیں۔یوںسورج کی شعائیں جِلد پر خاص اثردکھاتی ہیں،نتیجتاً چہرے، سینے، گردن اور ہاتھوں کی پشت کی کھال نہ صرف سانولی، بلکہ پتلی اور خشک ہوجاتی ہے۔جُھرّیاں بھی پڑ جاتی ہیں۔ نیز، گردن کی پچھلی جگہ کی جِلد سخت، کھردری، موٹی ہوجاتی ہے اور اس پر موجود لائنیں واضح ہوجاتی ہیں۔یہ تمام تر علامات سفید چمڑی والوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔واضح رہے کہ ماہی گیر اور سمندر میں کام کرنے والوں کی جِلد بھی ایسی ہوسکتی ہے۔پھر جلد کا ایک مرض گٹّے بننا بھی ہے، جو مستقلاً جوتے پہننےیا پھر دبائو کے سبب پیروں میں بنتےہیں۔ یہ کھال کی رگڑ سے بننے والے موٹے موٹے اُبھار ہوتے ہیں، جو تکلیف دہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح ہاتھ میں ریکٹ، بلا، ہاکی وغیر پکڑ کر طویل عرصے تک کھیلنے والوں کی ہڈی کے اوپر والی کھال سخت ہوکر درد کا باعث بن جاتی ہے۔کھیل کے دوران چوٹ لگنا معمول کا حصّہ ہے۔ کبھی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے،تو کبھی جِلد کٹ کر ٹانکے لگنے کی نوبت آجاتی ہے۔ گو کہ یہ مسائل علاج سے ٹھیک ہوجاتے ہیں، مگر ٹانکوں کے نشانات اَن مِٹ ہوتے ہیں۔پھر چوٹ لگنے کے نتیجے میںاگرباریک خون کی رگیں پھٹ جائیں ،تو جِلد پر نیلے یا سُرخی مائل دھبّےظاہر ہوجاتے ہیں،جن میں درد ہوتا ہے۔تاہم، یہ نشانات وقت کے ساتھ صاف ہوجاتے ہیں۔ کھیلتے ہوئےگرجانے سےرگڑ لگتی ہے، تو جِلد کی اوپری تہہ اُدھڑ جاتی ہے یا پھرخراش پڑجاتی ہے۔تاہم، ٹھیک ہونے پرجِلد پر کسی قسم کا نشان نہیںر ہتا۔
اگرپانی کے کھیلوں کی بات کی جائے، تووہ پانی میںداخل ہوئے بنا کھیلناممکن نہیں، لہٰذا سمندر کی ریت یا ان میں پائے جانے والے آبی حشرات سےجسم پر الرجی وغیرہ ہوسکتی ہے۔ ان میں سب سے خطرناک جیلی فش ہے، جو انسانی لمس پاتے ہی جب اپنی ڈوری نما ٹانگوں کے ذریعے ڈنک مارتی ہے، تو اس میں موجود زہرشدید الرجی کا سبب بن جاتا ہے۔متاثرہ فرد کے جسم میں درد کی شدید لہر اُٹھتی ہے اور دِل ڈوبتاہوا محسوس ہوتا ہے۔ جسم پر لائنیں پڑ جاتی ہیں۔ تاہم، فوری علاج سے افاقہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دُنیا کے چند سمندروں مثلاً گلف، کیوبا کے ساحلی و سمندری علاقوں میں مارچ تا ستمبر کے دوران نہانے والوں کو سمندر سے باہر آتے ہی چند گھنٹوں کے بعد جسم کے وہ حصّے جو ڈھکے ہوتے ہیں،ان میں اچانک کھجلی اورجلن محسوس ہوتی ہے اور پتّی اچھلنےکے ساتھ ہی سُرخ دانے اُبھر آتے ہیں۔ بچّوں کو بخار کی شکایت بھی ہوسکتی ہے ۔ اس کی وجہ سمندر میں تیرتے چھوٹے لاروے یا سرکیریا (Serkaria)ہیں، جوپانی کے ساتھ کپڑوں میں داخل ہو کر جسم سے رگڑ کھا کر کچلے جاتے ہیں،تب ان سےجو مادّہ خارج ہوتا ہے،وہی کھجلی کا سبب بن جاتا ہے، لہٰذا احتیاطی تدابیر کا تقاضاہے کہ نہانے کے فوراً بعد صاف پانی اورصابن سےجسم دھولیں۔یہ تکلیف بھی وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتی ہے۔اسی طرح سی ارچن(Sea Urchin)ایک گول جان دار سمندری مخلوق ہے، جس کا جسم خاردار شیل سے ڈھکا ہوتا ہے۔ جونہی پیشہ ور مچھرے، غوطہ خور، تیراکی یا سمندری کاموں اور کھیلوں میں مشغول افراد کی جِلدسی ارچن سے مَس ہوتی ہے، اس کے سخت کانٹے ٹوٹ کر کھال کے اندر چُبھ ہوجاتے ہیں ،نتیجتاً درد کے ساتھ خون رسنے لگتا ہےاور چندہ ماہ بعد اسی جگہ ایک گٹھلی سی بن جاتی ہے۔اصل میں اس کے خاردار کانٹوں میں زہر بَھرا ہوتا ہے۔ اگر یہ کسی کو چُبھ جائیں، تو انھیںفوراً نکال کر قریبی طبّی سینٹر سے رجوع کرلیں۔اسٹار فش کی کئی قسمیں ہیں،ان میں خطرناک ’’کانٹوں کا تاج‘‘ نامی مچھلی ہے، جو پیسفک اور بھارت کی سمندری حدود میں پائی جاتی ہے۔اس کے کانٹے جِلدپر لگتے ہی درد کے ساتھ متلی اور الٹی کا سبب بنتے ہیں۔پانی میںاسفنج نامی ایک غیر متحرک مخلوق پائی جاتی ہے، جو سمندر کی تہہ سے چپکی رہتی ہے۔اس کی ایک قسم ’’آگ اسفنج‘‘ ہے، جو میامی اور فلو رایڈا کے ساحلی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر اسے چُھو لیا جائے، تو جِلد سُرخ مائل ہوجاتی ہے، جلن، سوجن اور درد کے علاوہ ایگزیما جیسی تکلیف بھی ظاہر ہوسکتی ہے، البتہ یہ تمام تر تکالیف جلد ختم بھی ہوجاتی ہیں۔ جونکیں سمندرکے نمکین اور تالابوں، جھیلوں کے میٹھے پانی دونوں ہی میں پائی جاتی ہیں، ان کے کاٹنے سے کچھ افراد پتّی اچھلنے اور چھالے بننے کی شکایت کرتےہیں۔
سرما کے کھیلوں میں شرکت کرنے والوں کو ٹھنڈکےعلاوہ نامساعد حالات کا بھی سامنا کرناپڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی طرح کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ تاہم،یہ بیماریاں اس امر پر منحصر ہیں کہ متاثرہ فرد کتنی دیر تک ٹھنڈ میں رہا، درجۂ حرارت کس حد تک گرا، تیز ہوائوں اور جھکّڑ کی شدّت کتنی رہی۔ نیز بُلندی، چوٹ، تھکن، حرکت کی کمی، متوازن خوراک کی عدم دستیابی، تمباکو، الکوحل کا استعمال، اعصابی یا دورانِ خون کے کسی مرض کی پیشگی موجودگی وغیرہ ٹھنڈ سے ہونے والے مضر اثرات کو بڑھا دیتی ہے ۔ گرم علاقوںکےرہایشی، سرد علاقوں کے مکینوں کی نسبت سردی برداشت کرنے کی صلاحیت کم رکھتے ہیں، اسی طرح گہری رنگت کےافراد سفید چمڑی والوں کے برعکس ٹھنڈ ذرا مشکل سے سہہ پاتے ہیں، لہٰذا ان میں ٹھنڈ سے زخم بننے کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔فراسٹ بائیٹ(frost bite)مرض کوہ پیمائوں، فوجیوں اور سرد علاقے میں رہنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ ابتداء میں ٹھنڈ کی وجہ سے ناک، کان، رخسار، ہاتھ اور پائوں کی انگلیوں کی جِلد یخ ہوکر جمنے لگتی ہے، لیکن ٹھنڈ ختم ہونے پر پھر گرم ہوجاتی ہے۔ اگر علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً علاج کروا لیا جائے، تو مضر اثرات کم ظاہر ہوتے ہیں، ورنہ جِلد پر سُرخی، جلن، درد کے علاوہ چھالے اور زخم بھی بن سکتے ہیں، لہٰذا سردیوں کے کھیل کھیلنے کے شائقین متوازن، خاص طور پر جسم کا درجۂ حرارت گرم رکھنے والی غذائیں استعمال کریں۔
(مضمون نگار، معروف ماہرِ امراضِ جِلد ہیں اور انکل سریا اسپتال، کراچی میں خدمات انجام دے رہی ہیں)