آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی ریاست آسام سے ویسے تو رقت آمیز خبریں ہی آتی ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور اُن کی آہ و بقا سننے والا کوئی نہیں مگر ایسے میں وہاں کے مسلمانوں کے حوصلے ابھی بھی پست نہیں ہوئے ۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست آسام کا رہائشی مقبول حسین نے اپنے پڑوسی ہندو ربن کی حاملہ بیوی نندیتا اواُس کےبچے کی کرفیو کے با وجود بر وقت مدد کرتے ہوئے جان بچا لی۔

رپورٹس کے مطابق آسام ریاست کا ضلع ہیلاکندی کے رہائشی مقبول حسین اور ربن پڑوسی ہیں اور سالوں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔

گزشتہ اتوار ربن کی بیوی نندیتا کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی اور وہ گھر میں تکلیف میں تھیں کیوں کہ شہر میں کرفیو نافذتھا، ربن بے حد پریشان تھا کیوں کہ آس پاس گاؤں میں کوئی اسپتا ل تھا نہ ایمولینس سروس موجود تھی۔

مقبول حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خبر جب مقبول حسین تک پہنچی تو اُس نے رضاکارانہ طور پر اپنے رکشے کی پرواہ کیے بغیر اپنے دوست ربن کی بیوی نندیتا کو اسپتال پہنچانے کا فیصلہ کیا، مقبول ربن اور نندیتا کو لیے شام 5 بجے رکشہ میں گھر سے نکلےاور 20 منٹ میں اسپتال پہنچ گئے۔

مقبول حسین نے مزید بتایا کہ شام ساڑھے پانچ بجےربن کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام نندیتا اور ربن نے ’ شانتی ‘ رکھا ہے۔

آسام کے ضلع ہیلا کندی کے ڈپٹی کمیشنر کیرتھی جلی اور پولیس کے سپرنٹنڈنٹ مونیش مشرا نے منگل کے روز ربن کے گھر کے دورے کے دوران نندیتا اور ربن کو مبارک باد دی اور کہا کہ ’ایسی اور مثالیں سامنے آنی چاہیے جسسےدنیا کو یہ تاثر جائے کہ مسلمان ہندو بھائی بھائی ہیں۔‘

واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں گزشتہ جمعے سے کرفیو نافر ہے، پولیس جھرپوں کے نتیجے میں 1 شخص ہلاک اور 15 ذخمی ہوئے، ہیلا کندی میں منگل سے انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں