• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلمان علی

اللہ نے موت اور زندگی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے ،موت یہ دیکھ کر نہیں آتی کہ کوئی اپنے گھر کا واحد کفیل ہے، کسی کے بچّے چھوٹے ہیں یا کوئی والدین کی اکلوتی اولاد ہے، وہ تو بس اللہ کے حکم کے مطابق کہیں بھی اورکسی بھی وقت آسکتی ہے۔ لیکن ہر کام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے،یعنی رب تعالیٰ اتنا رحیم ہے کہ وہ یتیم بچّوں کو تن تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ اُن کی کفالت کا ذمّہ معاشرے کی ذمّے داری ٹھہرتا ہے۔یہی اللہ کا نظام ہے،اس طرح وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں ’’یتیم‘‘ ان بچّوں کو کہا جاتا ہے، جن کے والد بہ رضائے الٰہی دُنیا سے رُخصت ہوچکے ہوں۔ عموماً یتیم بچّہ، شفقتِ پدری سے محروم ہوکر رشتے داروں اور معاشرے کے رحم و کرم پرہوتا ہے۔اسلام ایک مکمّل نظامِ حیات ہے، جس میں یتیموں کی بہتر طریقے سے پرورش اور تربیت پر خاص زوردیا گیا ہے۔اپنی ہی اولاد کی طرح یتیم بچّوں کا خیال رکھنا افضل اور اپنی استطاعت کے مطابق اُن کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یتیم کی کفالت اور پرورش کرنا، انہیں تحفّظ دینا اور اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا صدقۂ جاریہ ہے جس کے اَجر و ثواب کا اللہ نے خود وعدہ کیا ہے۔اس کے بر عکس یتیموں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں، اُن کا مال کھانے والوں اور اُن پر ظلم کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بہترین گھر وہ ہے، جہاں یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیکی کی جاتی ہو اور بدترین گھر وہ ہے، جہاں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بُرا سلوک کیا جاتا ہو۔‘‘یتیم بچّوں کے سرپرستوں کی ذمّے داری ہے کہ وہ پرورش و کفالت کے بعد ان کی بہتر اور مناسب جگہ شادی کا اہتمام کریں، خصوصاً بچیّوں کی شادی کرنا یا ان کی شادی کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنا بڑے اَجر و ثواب کا کام ہے۔یاد رکھیے! یتیم کی آہیں اور بددُعائیں عرش بھی ہلا دیتی ہیںاورروزِ قیامت ہم سب کو اللہ کے حضور ڈھائے گئے ظلم و جبر کا حساب دینا ہوگا۔

رمضان المبارک کے مہینے میں تو سب ہی زیادہ سے زیادہ کارِ خیر کرنے اور اللہ پاک کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہی معاشرے میںکچھ افراد اور ادارےایسی بھی ہیں ، جو سارا سال خلقِ خدا کی مدد کرکے اپنی آخرت سنوارنے میں مصروف رہتے ہیں۔ایسا ہی ایک ادارہ’’ الخدمت فاؤنڈیشن ‘‘ہے، جوصاحبِ ثروت افراد کی مدد سےمعاشرے کےکئی بے بس یتیموں کا سہارابناہوا ہے۔ بلا شبہ پاکستان میں یتیم بچّوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ ویسے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جب بھی یتیموں کی بات کی جاتی ہے، تو ذہن میں یتیم خانوں ہی کا تصوّر اُبھرتا ہے، لیکن ہمارے ارد گِردایسے یتیم بچّوں کی کمی نہیں ہے، جن کے سَروں پر چھت اورماں کا آنچل تو ہے، مگر انہیں دو وقت کی روٹی یا تعلیم میّسر نہیں۔اِسی ضرورت کے پیشِ نظراس ادارےنے2012ء میں’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے نام سے یتیم بچّوں کی کفالت کا منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام اُن ہی کےگھروں میں کیا جارہا ہے ۔ 5 سے 15 برس کا کوئی بھی یتیم بچّہ ، اپنی والدہ، نانا ، چچا یا کسی بھی عزیز ،رشتےدار کےساتھ رہنے والایااسکو ل جانے والا اس پروگرام کا حصّہ بن سکتا ہے۔ اس وقت ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے تحت کراچی اوراندرون سندھ سمیت تمام صوبوں میں 11ہزار437 سے زاید بچّوں کی کفالت کی جا رہی ہے۔ بچّوں کو مُلک بھر میں55 کلسٹرز(Clusters) میں سے چُنا گیا ہے،ہر کلسٹرکا ایک انچارج مقرر ہے،جسے ایف ۔ایس ۔اوکا نام دیا گیا ہے۔یہ فیملی سپورٹ آرگنائزر ز، بچّوں، ان کے خاندان اور تعلیمی ادارے کے سربراہان سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیںاور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بچّے باقاعدگی سےاسکول جائیں۔ انہیںگھروں اور اسکولز میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اورادارے کی جانب سےجاری کردہ وظائف ان کی فلاح و بہبود ہی کے لیے ہی استعمال ہوں۔ ایک بچّے کی کفالت پر 3,500روپے ما ہ واریا 42,000روپے سالانہ خرچ آتا ہے، جس میں اُس کی تعلیم ،خواراک اور صحت کے اخراجات شامل ہیں۔نہ صرف یہ، بلکہ وقتاً فوقتاً آرگنائزر زکے لیے مختلف تربیتی ورک شاپس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس اہم ذمّے داری کو احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔

ادارے کے تحت جہاں یتامیٰ پرو گرام میں بچّوں کی کفالت ان کے گھروں پر کی جا رہی ہے ،وہیں اٹک ،راول پنڈی ، راولا کوٹ ، باغ ،پشاور ، مانسہرہ ، اسلام آباد، شیخوپورہ اور مری میںبے گھر یتیم بچّوں کے لیے ’’ آغوش الخدمت ‘ ‘ کے نام سے سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد والدین سے محروم بچّوں کی پرورش و تربیت ، قیام و طعام، تعلیم و صحت اور ذہنی و جسمانی نشو ونما کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔اس وقت ان سینٹرز میں788بچّے قیام پزیر ہیں،جب کہ کراچی ، لوئر دیر، گوجرنوالہ اور اندرون سندھ کے ضلع مٹیاری میں منصوبے پر کام جاری ہے۔ ماں جیسی ’’آغوش‘‘ میں تعلیم یا فتہ انتظامی عملہ موجود ہے، جو بچّوں کے لیے مختلف نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کےذریعےاُن میں خود اعتمادی پروان چڑھاتا ہے۔آغوش کے قریب ہی ایک اسکول بھی قائم ہے، جب کہ اس دارالامان میں کمپیوٹر لیب ، لائبریری، اسپورٹس گراؤنڈسمیت، اِن ڈور گیمز اوربچّوں کی نفسیاتی نشو ونما کے لیے مختلف لیکچرز اور تعلیمی ٹورز کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔یہاں جس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی بچّے کو یتیمی و محرومی کا احساس نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے زیرِ کفالت بچّے احساسِ کم تری کا شکار ہونے کی بہ جائے بے حدپُر اعتماد ہیں ۔بہر حال، یہ معاشرے اور حکومت کی ذمّے داری ہے کہ یتیم بچّوں کا مستقبل محفوظ بنائے،تاکہ وہ بھی معاشرے کےکار آمد شہری بن سکیںاور اِس ضمن میںیہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یتامیٰ کی کفالت کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمّےداری نہیں، بلکہ پورے معاشرے اور قوم کی ذمّے داری ہےکہ یتیم بچّے بھی اتنے ہی ذہین اورصلاحیتوں سے بھرپور ہوتے ہیں، جتنے آپ کے اپنے بچّے ،مگر اُن کی اکثریت مناسب تعلیم و تربیت نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جاتی ہے۔

تازہ ترین