آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (تبصرہ :…انصار عباسی) پاکستان تحریک انصاف حکومت میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9؍ ماہ کے دوران ہر پاکستانی مزید 23؍ ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ 1947ء سے لے کر جون 2018ء تک 70؍ سال میں ہر آنے والی حکومت نے ہر پاکستانی پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 36؍ ہزار روپے قرض کا بوجھ ڈالا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 9؍ ماہ میں یہ قرضہ بڑھ کر اب ایک لاکھ 59؍ ہزار روپے تک جا پہنچا ہے یعنی اس میں ایک سال سے بھی کم عرصہ میں 23؍ ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔وزیراعظم عمران خان اپنے بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ قوم کو کڑوی گولی لینی پڑے گی جس کے بعد اچھا وقت آئے گا۔اپنی ماضی کی بیان بازی کے برعکس، پی ٹی آئی حکومت نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے دور میں لیے گئے مجموعی قرضہ جات کے مقابلے میں روزانہ کی بنیاد پر سرکاری قرضہ جات میں اضافہ کر رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد وشمار دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مارچ 2019ء کے آخر تک پاکستان پر مجموعی قرضہ جات اور واجبات 35؍ ہزار 94؍ ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ موجودہ حکومت میں

رواں مالی سال کے ابتدائی 9؍ ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران مجموعی قرضے اور واجبات میں 5؍ کھرب تک کا اضافہ ہوا اور یہ جون 2018ء کے 29؍ ہزار 879؍ ارب روپے سے بڑھ کر مارچ 2019ء میں 35؍ ہزار 94؍ ارب روپے تک جا پہنچیں۔ جی ڈی پی میں اگر فیصدی لحاظ سے دیکھا جائے تو مجموعی قرضے اور واجبات 91.2؍ فیصد ہیں۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی اور خدشہ ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو پی ٹی آئی کی حکومت کے پانچ سال میں قرضوں کے اعداد و شمار گزشتہ 70؍ سال میں لیے گئے قرضوں کے برابر ہو جائیں گے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ جون 2018ء تک ملک پر 30؍ ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے، یہ 2007ء میں 6691؍ ارب روپے تھا جو اب یہاں تک آ پہنچا ہے۔ وزیراعظم کی رائے ہے کہ اس بے مثال اور خطرناک انداز سے 2007ء کے 6691؍ ارب روپے سے جون 2018ء تک 30؍ ہزار ارب روپے تک پہنچنے والے قرضے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی گزشتہ حکومتوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا نتیجہ ہیں۔ تاہم، اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9؍ ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران مجموعی قرضے اور واجبات میں 5؍ کھرب تک کا اضافہ ہوا اور یہ جون 2018ء کے 29؍ ہزار 879؍ ارب روپے سے بڑھ کر مارچ 2019ء میں 35؍ ہزار 94؍ ارب روپے تک جا پہنچے۔ اگر پی ٹی آئی حکومت نے اپنے پانچ سال مکمل کیے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرضوں میں مزید 30؍ ہزار ارب کا اضافہ ہوگا جس سے مجموعی قرضہ جات 60؍ ہزار ارب روپے تک جا پہنچیں گے۔ بڑھتے ہوئے قرضوں کے تناظر میں دیکھیں تو گزشتہ 6؍ ماہ کے دوران ہر پاکستانی پر قرضوں کا 23؍ ہزار روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ جب نون لیگ کی حکومت مکمل ہوئی تھی تو (جون 2018ء تک) ہر پاکستانی ایک لاکھ 36؍ ہزار روپے کا مقروض تھا جو رواں مالی سال کے ابتدائی 9؍ ماہ میں بڑھ کر ایک لاکھ 59؍ ہزار روپے ہو چکا ہے۔ مختصراً، جون 2018ء میں قرضے اور واجبات 29؍ ہزار 892؍ ارب روپے تھے، 9؍ ماہ میں یعنی مارچ 2019ء تک یہ رقم بڑھ کر 35؍ ہزار 094؍ ارب روپے ہوگئی۔ یہ بہت زبردست اضافہ ہے۔ جون 2013ء تک اسٹیٹ بینک کے مجموعی قرضہ جات کے حوالے سے اعداد و شمار 16؍ ہزار 228؍ ارب روپے تھے۔ ستمبر 2013ء تک ہر پاکستانی 96؍ ہزار 422؍ روپے کا مقروض تھا۔ نون لیگ کی حکومت مکمل ہونے پر ہر پاکستانی ایک لاکھ 36؍ ہزار روپے کا مقروض تھا لیکن اب صرف 9؍ ماہ میں یہ رقم ایک لاکھ 59؍ ہزار ہوگئی ہے۔ 2008ء کے اوائل میں جب مجموعی قرضہ جات 6؍ ہزار 691؍ ارب روپے تھے، اس وقت ہر پاکستانی صرف 37؍ ہزار 172؍ روپے کا مقروض تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں