• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہندو انتہا پسندی، ملازمتیں ،خارجہ پالیسی ،شعبہ زراعت اورآلودگی مودی کیلئے بڑے چیلنجز

نیو دہلی (اے ایف پی) بھارت میں لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے واضح برتری توحاصل کرلی ہے لیکن مودی حکومت کوآئندہ پانچ سا ل میں 5بڑے چیلنجز ’’ہندو انتہا پسندی، ملازمتیں ،خارجہ پالیسی ،شعبہ زراعت اورآلودگی‘‘کا سامنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اپنے پچھلے دور حکومت میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے، بھارت کی لیبر مارکیٹ میں ہر مہینے تقریباً10 لاکھ سے زیادہ افراد داخل ہوتے ہیں جو مودی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے،مودی حکومت کو زراعت کے شعبہ میں بھی بڑے چیلنج کا سامنا ہے،گرائونڈ واٹر لیول گرجانےکے باعث کسانوں کو اپنی فصلوں کو پانی دینا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے،زراعت کے شعبہ میں صورتحال اتنی خراب ہے کہ کسان خود کشی کرنے پر مجبو ر ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق بھارتی کسان اپنی پیداوار کی کم قیمت لگنے سے بھی پریشان ہیں جبکہ انفرااسٹرکچرکی کمی کے باعث 40 فیصد پھل اور سبزیاں صارفین تک پہنچنےسے پہلے ہی سڑ جاتے ہیں،آلودگی بھی بھارت کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔گرین پیس کے مطابق بھارت کی فضا بھی صحت کیلئے خطرناک ہے،دنیا کے 30 آلودہ ترین شہروں میں بھارت 22 ویں نمبر پر ہے۔لانسٹ پلینری ہیلت میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق2017 میں زہریلی فضاہونے کے باعث بھارت میں 1.24 ملین پری میچیوراموات ہوئیں تھیں۔ہندوں انتہاپسندی بھی مودی حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے۔تنقید نگاروں کے مطابق ان کی پارٹی ملک کے اقلیتی مذاہب کیخلاف نفرت پھیلارہی ہےخاص طور پر بھارت میں مقیم 170 ملین مسلمانوں کے خلاف جس پر مودی حکومت کو قابو پانے کی ضرورت ہے۔نریندر مودی کو خارجہ پولیسی کے چیلنچ کا بھی سامنا ہےجیسا کہ بھارت 1947 سے اب تک پاکستان سے تین مرتبہ جنگ کرچکا ہےجو کہ بھارت کی کمزور خارجہ پولیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
تازہ ترین