آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عذیر احمد

ناسا کے مطابق گزشتہ عشرے میں مغربی انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کی شرح تین گنا ہوچکی ہے

2014 ء میں ناسا نےIce Bricgeنامی ایک آپریشن شروع کیا تھا ، جس کی تحقیقی پرواز نے مغربی انٹارکٹیکا کے گلیشیئرز کی ایک تصویر 29 اکتوبر 2014 ء میں لی تھی ۔بعد ازاں اسی سال 2 دسمبر کو ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ انٹارکٹیکا کے سب سے تیزی سے پگھلنے والے علاقے کے 21 برس پر محیط جامع تجزیے سے پتا چلا ہے کہ گزشتہ عشرے میںاس کے گلیشیئرزکے پگھلنے کی شرح تین گنا ہوگئی ہے۔

اس تحقیقی مطالعے کےلیے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اروائن (یو سی آئی) اور ناسا نے مشترکہ طور پر کام کیاتھا۔ اس مطالعے میں پہلی بار پیمائش کے چار مختلف طریقوں سے حا صل ہونے والےمشاہدات کا جائزہ لیا گیاتھا۔ اور ان میں مطابقت پیدا کی گئی تھی تا، کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران برف پگھلنے کی مقدار اور اس کے ضائع ہونے کی شرح کا مستند تخمینہ لگایا جاسکے۔یاد رہے کہ مغربی انٹارکٹیکا کی بحیرہِ امنڈسن کی خلیج میں گلیشیئرز میں برف ختم ہونے کی رفتار انٹارکٹیکا کےدیگر تمام علاقوں سے زیادہ ہے۔ سمندر میں پانی کی سطح کو بلند کرنے میں بھی انٹارکٹیکا کے یہ گلیشیئرزسب سے زیادہ اہم ہیں۔

سائنس دانوں نے بحیرہِ امنڈسن کی خلیج میں گلیشیئرز سے گرنے والی برف (mass balance) کی پیمائشوں کو ہم آہنگ کیا۔واضح رہے کہ( mass balance )سے مراد یہ پیمائش کرنا ہے کہ ایک خاص مدت میں گلیشیئرزکی برف میں کتنا اضافہ ہوتا ہے اور کتنی برف پگھلنے کے عمل کے دوران، برف کے تودوں کی شکل میں اور دوسری وجوہات سے ضائع ہوجاتی ہے۔اس سائنسی تحقیق میں اعداد و شمار کے جو مختلف سیٹ استعمال کیے گئے تھے ان کا تعلق 1992ء سے 2013ء تک کی درمیانی مدت سے تھا۔اس پورے عرصے میں خلیج میں پائے جانے والے گلیشیئرز کا حجم کم ہواتھا۔

ماہرین کے مطابق ایک تحقیق سے پتا چلا تھا کہ نقصان کی شرح 83 گیگا ٹن (91.5 ارب امریکی ٹن) فی سال تھی۔ اس کے مقابلے میں ماؤنٹ ایورسٹ کا وزن 161 گیگا ٹن ہے۔ یعنی انٹارکٹیکا کے گلیشیئرز میں پانی کی جتنی مقدار کم ہوتی رہی وہ 21 برسوں کے دوران ہر دو سال بعد، ماؤ نٹ ایوریسٹ کے وزن کے برابر بنتی رہی۔اسی طرح 1992ء سے پانی کی کمی کی شرح اوسطاَ 6.1 گیگا ٹن (6.7 ارب امریکی ٹن) سالانہ کی اسراعی رفتار سے بڑھتی رہی ۔اس عرصے میں جب مشاہدے کی چار تیکنیکیں بہ یک وقت استعمال کی جا رہی تھیں، برف پگھلنے کی اوسط شرح میں 16.3 گیگا ٹن سالانہ کا اضافہ ہوا۔ — یعنی پورے 21 سال کے عرصے میں اضافے کی شرح کے تقریباً تین گنا کے مساوی۔ کمی کی کُل مقدار کی اوسط تقریباً 84 گیگا ٹن کے برابر تھی۔

مشاہدوں کے جو چار سیٹ استعمال کیے گئے تھے ان میں ناسا کے گریویٹی ریکوری اینڈ کلائمیٹ ایکسپیر یمنٹ سیٹلائٹس، ناسا کی آپریشن آئس برج فضائی مہم اور اس سے پہلے والے ICESat سیٹلائٹ، یورپ کی خلائی ایجنسی کے Envisat سیٹلائٹ کے ریڈار سے حاصل شدہ بلندی کی پیمائش کے اعداد و شمار، اور ریڈار اور یونیورسٹی آف اوتریخت Utrecht کے علاقے کی فضا کی آب و ہوا کے ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے اجتماعی تجزیے شامل تھے۔

سائنس دانوں نے اس تحقیق سے یہ جانا کہ مستقبل میں سمندر کی سطح کے بارے میںپیشگوئی کے ضمن میں سب سے زیادہ غیر یقینی عنصر ساری دنیا میں گلیشیئرز اور برف کی تہہ کا رویّہ ہے۔ ویلی کوگنا کے مطابق اب ہمارے پاس مشاہدہ کرنے کا نہایت عمدہ نیٹ ورک موجود ہے۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ہم اس نیٹ ورک کو برقرار رکھیں، تا کہ ہم تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کرتے رہیں ،کیوں کہ تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہے۔

امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ امریکا نےاعلیٰ سائنسی تحقیق کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور اس تحقیق کےنتائج میں عالمی برادری کی شمولیت کے ذریعے آب و ہوا میں تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کا جو عزم کیا ہے انٹارکٹیکا کی برف پر تحقیق اُس کی صرف ایک مثال ہے۔

دوسری جانب دنیا بھرکےماحول کے تحفظ کی کو ششو ں کے ضمن میںماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ گرم علاقوں کے جنگلات کی نگرانی کا نظام، عالمی جنگلات کی نگرانی، 60 ملین مقامی افراد سمیت دنیا کے 350 ملین غریب ترین لوگوں کے گھروںاور ذرائع معاش کا تحفظ کرنے میں مدد کررہا ہے۔واضح رہے کہ یہ نظام امریکا کے جدید ترین سیٹلائٹ اور موبائل ٹیکنالوجی کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق استوائی خطوں کے جنگلات کا زیاںدنیا کی آب و ہوا کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہےجو موسمیاتی تبدیلی سے منسلک کاربن سے مجموعی آلودگی کے پانچویں حصے کی وجہ بنتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں تقریبا ًان ایک ارب لوگوں کی صحت اور فلاح کے لئے بھی فوری خطرہ ہے، جن کی خوراک اور ذرائع معاش کی سرگرمیوں کا انحصار جنگلات پر ہے ۔

یو ایس ایڈ کا کہنا ہے جنگلات کی مسلسل تباہی کا نتیجہ دنیا کے 350 ملین سے زائد غریب ترین افراد کی موت بھی ہو سکتی ہے - یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی بقاء اور معاش کے لئے وسیع پیمانے پر جنگلات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس تعداد میں تقریباً 60 ملین وہ مقامی لوگ بھی شامل ہیں جن میں جنگلات کے بہت اندرونی علاقوں میں رہنے والے قبائل کی ایک چھوٹی سی تعداد بھی ہے ،جس کا اب تک جدید تہذیب سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

جی ایف ڈبلیو کے زیادہ تر شراکت دار اور حامی وہی ہیں جو استوائی خطوں کے جنگلات کا اتحاد 2020 کے شراکت دار تھے۔ یہ اتحاد امریکا اور 2012 میں 400 سے زائد عالمی کاروباری اداروں کے اشیائے صارفین کے فورم کے(Consumer Goods Forum) نیٹ ورک کی جانب سے شروع کی جانے والی نجی اور سرکاری شعبوں کی شراکت داری ہے۔ یو ایس ایڈ نے جی ایف ڈبلیو کے لئے 5.5 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔ اس کے علاوہ جی ایف ڈبلیو کو30 ملین سے زائد رقم اکٹھی کرنے میں بھی مدد فراہم کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں