کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی ، نئےمالی سال 20۔2019 کے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغازہوگیا،حکومتی اراکین نے تعریفیں جبکہ اپوزیشن نے تنقید، بحث کا آغازپیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سہراب سرکی کی تقریر سے ہوا،ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کی ترقی کے لیئے بڑی رقم مختص کی ہے،کراچی سے گھوٹکی تک پیپلز پارٹی نے کام کئے مخالفین خراب باتوں کے فوٹو تو فیس بک پر شیئر کرتے ہیں مگر اچھے کاموں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا،جی ڈی اے رکن رزاق راہموں نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ترقی کے دعوے کئے جاتے ہیں،اگر سندھ نے ترقی کی ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آتی ؟ حقیقت یہ ہے کہ پیسے یا تو استعمال نہیں ہوتے یا لیپس یا بیرون ملک منتقل ہوجاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ تھر کی ترقی کی باتین کی جاتی ہیں مگر آج بھی تھر کے بچے مررہے ہیں،پی ٹی آئی رکن بلال غفار نے کہا کہ بجٹ آمدنی کی تقسیم کا نام ہے ،سندھ کے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ مسلسل 12ویں بجٹ میں کیا سہولتیں دی گئی ہیں؟صحت تعلیم اورصاف پانی کی سہولتیں نہیں،کراچی میں ٹرانسپورٹ تک نہیں،پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید ذوالفقار شاہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں،وفاقی حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے،ایم کیو ایم کے و سیم قریشی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وزیربلدیات نے کراچی کو پیاسا کردیا ہے وہ بجائے دلائل دینے اورکارکردگی دکھانے کے صرف ایم کیوایم پر الزامات لگارہے ہیں،انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ نے آتے ہی تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا،لیکن نقل مافیا کو بے لگام کردیا گیا،قابل طلبہ مایوس ہیں کیا یہ ہے ایمرجنسی کا نتیجہ؟ان کا کہناتھا کہ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ پانی کی قلت ختم کی جائے گی لیکن افسوس کہ نارتھ کراچی اورنیوکراچی کا پانی دوسرے ضلع کو دیا گیا،ویسٹ کو حب ڈیم کا پانی ملنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہورہا،پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی راجہ اظہرنے کہا کہ اپریل 2018 کو 40ہزارٹن گندم افغانستان کو دی گئی،جبکہ تھر میں 450بچے خوراک کی قلت کے باعث وفات پا گئے،راجہ اظہر نے کہا کہ 5ملین کی اسکیمز 114ملین پرپہنچ جاتی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں،کاش اسکیمز وقت پر مکمل کی جائیں،پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے کہا کہ سندھ حکومت نے بہتر بجٹ پیش کیا ہے ،تعلیم کے فروغ کے لئے مثبت اقدمات کئے گئے ہیں،اے ون گریڈ کو ایک لاکھ روپے انعام دیا جائیگا،یونیورسٹی طلبہ کے لئے12اسکالرشپس دی جارہی ہیں،چھ ہزار نوکریاں دینے کا اعلان خوش آئند ہے،200نئے اسکول قائم کئے جائیں گے ،ملازمین کے لئے وفاق نے پانچ فیصد تنخواہ بڑھانے کااعلان کیا جبکہ سندھ حکومت نے 15فیصد بڑھائی ہے،بحث میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن حنا دستگیر،گھنور خان اسران،شہناز بیگم، سید فرخ شاہ اور تنزیلہ قمبرانی نے بھی حصہ لیا بعدازاں اسپیکر نے اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا۔