آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

انسان کی تعلیمی وشعوری ذہانت اور تخلیقی سفر کی ابتدا ’سوال‘ سے ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے عظیم ماہر طبیعات آئن اسٹائن کہتے ہیں،’’انتہائی اہم چیز یہ ہے کہ سوالات کرنا بند نہ کریں‘‘۔ ان کے ہمنوا ماہرین تعلیم پال اور ایڈلر کہتے ہیں، ’’ادراک جوابات سے نہیں بلکہ سوالات سےبڑھتا ہے‘‘۔ جتنے سوال اتنے جواب، جتنی جستجو اتنی ندرت۔ سوالات ہی طالب علموں کی اسباق میں دلچسپی بڑھاتے اور بصیرت افروز خیالات سے سرشار کرتے ہیں۔

’سوال‘ کیا ہے؟

معلومات حاصل کرنے کیلئے ہم سوال کرتے ہیں اور جواب ملنے پر کئی اور سوال نکلتے چلے جاتے ہیں۔ معلومات کے حصول میں سوالات کے چھ زاویئے ( کیا؟ کون؟ کب؟ کہاں؟ کیسے؟ کیوں؟) ہمیں ابتدائی شعور سے آفاقی شعور تک پہنچاتے ہیں۔ سقراط کا طریقہ کار سوال در سوال سے منطق اور ادراک تک رسائی تھی۔ اس نے کہا تھا، ’’میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نہیں جانتا۔ بے امتحان زندگی جینے کے قابل نہیں‘‘۔ تحقیقی سوالات میں سقراط کا انداز تعلیم، ذہانت وتخلیق کی چابی مانا جاتا ہے۔اس میں بیانیہ سوال، متعلقہ سوال اور عمومی سوال شامل ہیں۔ پہلے ہم علم حاصل کرنے کیلئے ’کیا‘ کا سوال اٹھاتے ہیں۔ پھر اطلاق کیلئے کیسے؟ تجزیئے کیلئے کونسے؟ نتیجے پر پہنچنے کیلئے کیوں کر؟ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔

ذہانت وتخلیق پر مبنی سوالات کی اقسام

انسانی ذہن میں کئی قسم کے سوالات ابھرتے ہیں ۔ایک سرے سے دوسرے سرے تک سوالات کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوکر ذہن وتخیل کی مشعل روشن کرتا ہے۔ سوالات کی اقسام دیکھیں تو ہمارے سامنے انسانی ذہانت و تحیر کو مہمیز کرنے کے لیے کئی سوال مقابل ہوتے ہیں جیسے کہ بنیادی معلومات کے حصول کیلئے مختصر وسادہ سوال، معلومات کی گہرائی تک پہنچنے کے لئے مکمل سوال جبکہ ماخذ کی تلاش میں الجھانے والے غیرمتعلقہ سوال۔بار بار دہرانے والے، منضبط، تحریری ، منفی، مرکب، مبہم، سادہ، آسان اور مشکل سوالات کی ایک زنبیل ہے جو سوال در سوال ادراک وتخیل پروان چڑھا کر طالب علموں میں ناقدانہ اور منفرد سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اس طرح سوال پوچھنا بھی ایک فن ہے ،جس سے مکالمہ، منطق، سچ اور تخیل کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

دانشورانہ تاریخ میں ’سوال‘ کی اہمیت

ارسطو کا کہنا ہے،’’ ہم اچھائی سے زیادہ اچھے انسان کے خوگر ہوتے ہیں، وگرنہ ہمارے تمام سوالات بے معنی ہوتے ہیں‘‘۔ انسان کی دانشورانہ تاریخ میں نیکی وصداقت اوردنیا کو خوبصورت اور سہولت کار بنانےکے لئے آفاقی سوالات کی جستجو ہمارے سوالیہ ذہن کی مرہون منت ہے۔ نامعلوم سے معلوم کا سفر سوال سے شروع ہو کر سوال پر ہی اختتام پذیر ہوتا ہے۔ جو طالب علم سوال کرنے سے نہیں گھبراتے انہیں علم وہنر کی دیوی اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی ہے۔ میں کون ہوں؟ اس کائنات کوکس نے بنایا؟ ہم کب سے اس دنیا میں ہیں؟ پچھلے 10 ہزار سال کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو وہ فلسفہ و مذہب اورسائنس و ادب کے عظیم سوالا ت سے تعبیر ہے، جن کے جوابات سے آج ہم ڈیجیٹل دور میں زیست بسر کر رہے ہیں۔

متعدد ذہانتوں میں سوال کی اہمیت

انسانی ذہانت وفطانت کی 10اقسام ہیں، جن کے مطابق آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سوالات کے ذریعے پروان چڑھاسکتے ہیں۔ کلاس روم میں سب سے پہلے ہمارا تعارف الفاظ سے ہوتا ہے۔اگر آپ لسانی ذہانت کے مالک ہیں تو الفاظ کا جملے میں استعمال اور ان کے مابین تعلق کو کئی سوالات سے سمجھ سکتے ہیں۔ لسانی ذہانت میں آپ کی رہنمائی اساتذہ اور لغت کرسکتے ہیں۔ لفظ اور جملے کی منطق کے حوالے سے آپ کے متجسس ذہن میں جتنے سوالات اٹھیں گے، اتنے ہی جوابات کے لئے لغت یا ڈکشنری سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ منطقی و ریاضیاتی ذہانت رکھنے والے طالبعلم سوالات کے ذریعے اپنا علم بڑھا سکتے ہیں۔ تصویری ذہانت کے حامل طالبعلم کسی بھی لفظ یا منظرسےتصویری صورت سوال اٹھا سکتے ہیں۔ جسمانی ذہانت سے مزین طالبعلم ہاتھوں اور جسم کی حرکات سےسوال کی دنیا متحرک کر سکتے ہیں۔ موسیقی کی ذہانت رکھنے والے طالبعلم سُروں سے اپنی یادداشت کو تیز کر کے سوالات کے نئے جہاں معلوم کرسکتے ہیں۔ جذبات شناس ذہانت کے حامل چہرے کے تاثرات سے دلوں کا حال جان کر کئی سوالات وضع کر سکتے ہیں۔ روحانی ذہانت والے طلبہ و طالبات من کی دنیا سےسراغ ِ زندگی پاسکتے ہیںجبکہ فطری ذہانت رکھنے والے طالبعلم فطرت کے مشاہدات سے کئی سوالات اٹھاتے ہیں، جیسے نیوٹن کے سر پر سیب گرا تو سوال پیدا ہوا کہ ’’ یہ نیچے کیوں گر ا؟ اوپر کیوں نہیں گیا؟‘‘ ۔اس سوال کی جستجو نے نظریہ کشش کو ممکن کر دکھایا۔ سوالیہ ذہانت کو فروغ دینے والے طالبعلم جملہ ذہانتوں کے مالک بن کر اپنی کامیابی وکامرانی کو یقینی بنا لیتے ہیں۔ یاد رکھیے! یہ تمام ذہانتیں ہر طالبعلم میں پائی جاتی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سوالات کے ذریعے اپنی ذہانت کو نکھارتا ہے۔

ذہانت کا دانشمندانہ استعمال

ہر ایک طالبعلم ماضی وحال اور مستقبل کے تین زمانوں میں سفر کرتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں سوال سے جواب ملتا ہے۔ اگر آپ درج بالا ذہانتوںکو سوالیہ ذہانت سے آراستہ کریں گے جیسے کہ یہ سانس کیوں چلتی ہے؟ زمین وآسمان کی گردش کب تھمے گی؟ عدم سے وجو د کیا ہے؟ ستارے، چاند، سورج کیا ہیں؟ تو ہر سوال کا جواب آپ کوخوب سے خوب تر کی جستجومیں علم کے ختم نہ ہونے والے راستے پر لے جائے گا۔

تعلیم سے مزید