• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جون،جولائی میں فشنگ پر پابندی سے لاکھوں ماہی گیر بھوک و بدحالی شکار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مچھلی کے شکار پر دو ماہ جون اور جولائی میں فشنگ پابندی کی وجہ سے کراچی کی 129 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کی 150 سے زائد ماہی گیر بستیوں میں آباد لاکھوں ماہی گیر بھوک و بدحالی شکار ہوگئےہیں،سمندر سے ماہی گیر سالانہ 8 لاکھ میٹرک ٹن مچھلی کا شکار کر کے ملک کو 20 ارب روپے زرمبادلہ کے طور پر کما کر دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی ماہی گیروں کے روزگار اور سماجی بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کوئی بھی مثبت اقدام نہیں اٹھائے گئے ہیں،سمندر کی 17 کریکس میں موجود تمر کے گھنے جنگلات کی تیزی کٹائی کی وجہ سے جھینگے مچھلی کی نسل افزائش کے مقامات کو ختم کر کے ماحولیات کو تباہ کیا جارہا ہے،سمندری آلودگی سے مچھلی گہرے سمندر میں چلی گئی، سمندری سے غیر فطری طریقہ کار اور حد سے زائد کاروباری بنیادوں پر مچھلی کے شکار کی وجہ سے 75 فی صد مچھلی کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں،جبکہ ماہی گیروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہی صورتحال رہی کہ 2045ء میں سمندر مچھلی کے خزانے سے مکمل طور خالی ہوجائے گا،اس سلسلے میں ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں ناخدا عرفان، ناخدا جاوید، ناخدا محمد رفیق، حسین، کریم بخش، شہزاد و دیگر نے بتایا کہ ماہی گیر آج بھی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان میں انتہائی غربت اور محرومی کی زندگی بسر کر رہے ہیں
تازہ ترین