آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی چیمپئن انگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان اوئن مورگن کا کہنا ہے کہ لارڈز فائنل کا نتیجہ فیئر نہیں تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان فرق بہت بڑا نہیں تھا۔ سپر اوور قانون سمجھ سے بالاتر ہے، میرے خیال میں فائنل کا نتیجہ فیئر اور درست نہیں تھا۔ پاکستان اور سری لنکا سے ہار انگلش ٹیم کے لئے دھچکا تھی۔ دونوں شکستوں کے بعد ہم نے سیکھنے کی کوشش کی اور ٹیم نے اس کے بعد مزید غلطیاں نہیں کیں۔

کرکٹ کے 12ویں ورلڈ کپ کے فائنل میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلہ انتہائی ڈرامائی انداز میں سپر اوور تک گیا جہاں دوبارہ اسکور ٹائی ہونے کی وجہ سے انگلینڈ کو زیادہ باؤنڈریز لگانے پر ورلڈ کپ کا فاتح قرار دیا گیا۔

میچ ٹائی ہونے پر سپر اوور کروائے گئے، جس میں انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 15 رنز بنائے۔ جواب میں حیران کن طور پر نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی اپنے سپر اوور میں 15 رنز ہی بنا پائی اور آخری گیند پر مارٹن گپٹل دوسرا رن لیتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔

قواعد کے مطابق آخر میں میچ کا فیصلہ دونوں ٹیموں کی جانب سے لگائی گئی باؤنڈریز کی تعداد پر کیا گیا۔ انگلینڈ نے اپنی اننگز میں 26 جبکہ نیوزی لینڈ نے 17 باؤنڈریز لگائی تھیں اور اس طرح سپر اوور ٹائی ہونے پر ورلڈ کپ انگلینڈ نے جیت لیا۔

ہفتے کو ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو میں اوئن مورگن نے کہا کہ یہ درست ہے کہ فائنل میچ اچھا ہوا لیکن ہم ورلڈ کپ جیت کر بھی مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ اگر ہارجاتے تو ہماری مشکلات زیادہ بڑھ جاتیں۔

نیوزی لینڈ نہ جانے کیوں ہارا میری فائنل کے بعد کین ولیم سن سے کئی بار بات ہوئی اس کا بھی کہنا ہے کہ سپر اوور کا قانون میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو موقع دے رہی ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو جیت کے لئے کئی مواقع دیئے۔ بتا بتا کر تھک گئے ہیں کہ فائنل میں کیا ہوا۔

اوئن مورگن کا کہنا ہے کہ سپر اوور کے دوران ہماری نظریں تماشائیوں کے ایک حصے پر بھی تھیں۔ ایک تماشائی کو لارڈز کے کسی انکلوژر میں دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔ اس وقت پاگل پن عروج پر تھا۔ دل کا دورہ پڑنے والا تماشائی بھی ہماری نظروں میں تھا، اسے طبی امداد دی جارہی تھی۔

مورگن نے کہا کہ ایسا لگا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان فرق کم تھا۔ لیکن فائنل میں جس طرح اتار چڑھاؤ دکھائی دے رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے کسی بھی ٹیم کے لئے جیت آسان نہیں تھی۔

ورلڈ کپ متنازع قوانین کا ذکر لندن میں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں بھی ہوا۔ آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹیو کمیٹی نے کرکٹ کمیٹی سے کہا ہے کہ ورلڈکپ قوانین پر نظر ثانی کرے۔

انیل کمبلے کی سربراہی میں کرکٹ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں اگر اس طرح کی کوئی صورتحال ہوتی ہے تو اس کے لئے متبادل قانون بنایا جائے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید