• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں علی الصباح بارش کے چھینٹے پڑتے ہی مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، بجلی جانے کے باعث دفاتر جانے والے افراد اور اسکول جانے والے بچوں کو شدید دشواریوں کا سامنا ہوا۔


شہرِ قائد میں بارش کا آغاز ہوتے ہی جن علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند ہو گئی ان میں سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نیو کراچی، یوپی سوسائٹی، ناگن چورنگی، شادمان ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، طارق بن زیاد سوسائٹی، فیڈرل بی ایریا، دستگیر، نصیر آباد، لیاقت آباد، گلستانِ جوہر، پہلوان گوٹھ، صفورا گوٹھ، اسکیم 33 سمیت متعدد علاقے شامل ہیں جبکہ محمود آباد میں پی ایم ٹی میں آگ بھڑک اٹھی۔

کے الیکٹرک کے ترجمان نے اس ضمن میں شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے موسم میں احتیاط ضروری ہے، ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں، پی ایم ٹیز اور بجلی کی دیگر تنصیبات سے دور رہیں۔

ترجمان کے الیکٹرک کا مزید کہنا ہے کہ برقی آلات، ننگے پاؤں یا گیلے ہاتھ کے ساتھ نہ چھوئیں، غیر قانونی ذرائع سے بجلی ہرگز حاصل نہ کریں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں 118 پر فوری رابطہ کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کے الیکٹرک کی ٹیم سی ای او کی سربراہی میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) حکام کے سامنے پیش ہوئی۔

اس موقع پر نیپرا حکام نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ متوقع بارشوں میں انسانی جانوں کا تحفظ اور بجلی کی فراہمی مؤثر بنائی جائے۔

نیپرا کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک ٹیم نے 29 اور 30 جولائی کو بارشوں کے دوران کراچی شہر میں کرنٹ لگنے کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر وضاحت پیش کی۔

نیپرا نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ اگلے چند روز میں متوقع بارشوں کے پیش نظر مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انسانی جانوں کا تحفظ اور بجلی کی فراہمی مؤثر بنائی جائے۔

نیپرا نے کے الیکٹرک کو متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضہ دینے پر غور کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ ماہ 29 اور 30 جولائی کو ہونے والی بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے معصوم بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

تازہ ترین