آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جے پی ڈومینی، عمران طاہر، ڈیل اسٹین کے بعد رن مشین ہاشم آملہ نےبھی تمام طرز کی عالمی کرکٹ سےریٹائرمنٹ لے لی۔


جنوبی افریقا کے پہلے بھارتی نژاد مسلمان کھلاڑی بنے ہاشم آملہ  اوپننگ بیٹسمین تھے، انھیں ان کے پلیئنگ اسٹائل کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہاشم آملہ کو’’کوٹے‘‘ کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن انہوں نے انگلینڈ کیخلاف ٹرپل سنچری بنا کر ناقدین کے منہ بند کئے اور اپنے مثبت رویے اور منفرد کھیل سے مداحوں کو اپنا گروید ہ بنایا۔

وہ اپنے وقت کے جنوبی افریقا کے مقبول ترین کرکٹرز میں شامل رہے جن کے نام سے کئی یاد گار اننگز وابستہ ہیں۔

انہوں نے15برس تک جنوبی افریقی ٹیم کی نمائندگی کی،36سالہ ہاشم آملہ 31مارچ 1983 کو ڈربن، جنوبی افریقا میں پیدا ہوئے،ان کے بڑے بھائی احمد آملہ بھی پروفیشنل کرکٹر ہیں۔

احمد آملہ نے ہاشم آملہ سے دو سال قبل اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا اور دونوں نے  وازولوناٹل کرکٹ کلب کی نمائندگی بھی کی۔

صوبائی سطح پرعمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ان کو انڈر 19کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا اور 2002 انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے ان کو جنوبی افریقی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا۔

ان کی قیادت میں ٹیم ایونٹ کی رنرز اپ رہی۔ صوبائی کلب، وازولوناٹل کرکٹ کلب کے کوچ ہیلٹن مائیکل ایکریمن, ہاشم آملہ کی صلاحیتوں سے آگاہ تھے انہوں نے ہاشم آملہ کے کھیل کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

آملہ نے21 برس کی عمر میں 2004 میں بھارت کیخلاف کھیل کر اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا،انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز سست انداز میں کیا، اور اپنےپہلے میچ کی دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 26رنز بنائے اور ڈربن میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں صرف ایک رن بنایا، ان کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے ان کو قومی ٹیم سے ڈراپ کیا گیا۔

چنانچہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنی شروع کی جہاں انہوں نے عمدہ کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقن بورڈ کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کیا،اس طرح 14 ماہ بعد ان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں شاندار واپسی ہوئی۔

ہاشم نے 2005ء  میں جوہانسبرگ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 149رنز بنائے۔

جنوبی افریقی ٹیم نے 2010میں بھارت کا دورہ کیا اور دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریزکھیلی گئی۔

پہلےٹیسٹ میچ میں ہاشم آملہ اورجیک کیلس کی سنچریوں کی بدولت پروٹیز ٹیم نے 558رنز کا پہاڑ کھڑا کیا اور جنوبی افریقا نے بھارت کیخلاف ناگپور ٹیسٹ میں ایک اننگز اور6رنز سے کامیابی حاصل کی۔ آملہ نے ناقابل شکست ڈبل سنچری بناتے ہوئے 253رنز کی اننگز کھیلی،ہاشم آملہ اور کیلس کے درمیان 340رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ جیک کیلس نے 173رنز بنائے۔

دوسرا ٹیسٹ میچ میں کامیابی ضرور بھارت کو حاصل ہوئی لیکن ہاشم آملہ کو دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے پر میچ کا بہترین قرار دیا گیا۔

جنوبی افریقا نے2012میں انگلینڈ کیخلاف 1-2 سے ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی، اوول ٹیسٹ میں پروٹیز نے ہاشم آملہ کی ٹرپل سنچری کی مدد سے میزبان ٹیم کیخلاف ایک اننگز اور 12رنز سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں 35چوکوں کی مدد سے 311رنز بنائے اور اس میچ میں آملہ اور جیک کیلس کے درمیان 377رنز کی پارٹنر شپ بھی قائم ہوئی جو جنوبی افریقی ٹیم کی جانب سے تیسری بڑی پارٹنر شپ ہے۔

ہاشم آملہ نے 2014سے 2016 تک جنوبی افریقی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی، 2014میں گریم اسمتھ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہاشم آملہ کو قومی ٹیم کی کمان سونپی گئی،ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی یورپی یا غیر سفید فام کھلاڑی کو کپتان مقرر کیا گیا ہو۔

بحیثیت کپتان ان کا پہلا امتحان سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز تھی جس میں سری لنکا کیخلاف اہم کامیابی حاصل کی،2016میں ہاشم آملہ بھارت اور انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی خراب کارکردگی پر اپنے عہدے سےسبکدوش ہوئے اور بطور کھلاڑی وہ ٹیم کی نمائندگی کرتے رہے۔

وہ فروری 2019میں سری لنکا کیخلاف میچ میں آخری بار ایکشن میں نظر آئے، انہوں نے15سالہ کیرئیر میں 124 ٹیسٹ میچز کھیلتے ہوئے 46.64کی اوسط سے9,282 رنز بنائے۔جس میں 28سنچریاں اور41 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

انہوں نےرواں سال جنوری میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین 27 سنچریاں بنانے کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ انہوں نے یہ سنگ میل 167 اننگز میں عبور کیا۔

انھوں نے 2008 میں بنگلہ دیش کیخلاف ون کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔وہ 181 ایک روزہ عالمی میچز  کھیل کر 8000 سے زائد رنز اسکور کر چکے ہیں،اور ان  کی اوسط 49.74 فیصد ہے، انہوں نے 27سنچریاں اور 37نصف سنچریاں بنائیں جبکہ  44ٹی ٹوئنٹی میچز میں1,277 رنز بنائے۔

 ہاشم آملہ نے انٹرنیشنل کرکٹ کیریر میں کئی ریکارڈ اپنے نام کیے،انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین 7000اور 2000, 3000, 4000, 5000, 6000 رنز مکمل کرنے کاریکارڈ قائم کیا۔

2014میں 86اننگز میں تیز ترین 15سنچریاں بنائیں اور2015میں 108اننگز میں 20سنچریاں بناکرتیز ترین سنچریاں بنانے والو ں کی فہرست میں شامل ہوئے۔

2018میں ہاشم آملہ کو بین الاقوامی کرکٹ میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں ملکی ایوارڈ سے نواز دیا گیا، وہ  گزشتہ 10برسوں میں آرڈر آف ایکہا مانگا ایوارڈ پانے والے پہلے کرکٹر بنے۔

2006 میں جنوبی افریقا کی ٹیم سری لنکا کے دورے پر تھی، تب ہاشم آملہ نے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن کمار سنگاکارا کا کیچ لیا، کیمرہ بہت ہی زبردست کیچ پکڑنے والے ہاشم آملہ پر مرکوز تھا۔

اسی دوران آسٹریلیا کے سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر ڈین جونز  کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’’دہشت گرد نے ایک اور وکٹ لے لی، اس جملے کے فوراً بعد ہی میزبان براڈ کاسٹرز نے کمرشل بریک لیا لیکن ڈین جونز کا بیان مائیکرو فون میں ریکارڈ ہوچکا تھا۔

دوسری جانب جنوبی افریقا کے ٹی وی چینل نے بھی ان کے بیان کو ریکارڈ کرلیا،ڈین جونز نے اپنے اس بیان پر ہاشم آملہ سے معافی  مانگی۔

ہاشم آملہ صلوۃ و صوم کے پابند ہیں،وہ اس وقت بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بنے جب انہیں نےبھارت کیخلاف میچ کیلئے اسپانسر کردہ شراب بنانے والی کمپنی’’ کیسل کا لوگو‘‘ والی جرسی پہنےکیلئے کہا گیا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور میچ میں بغیر لوگو والی جرسی پہن کر شرکت کی۔ ان کے اس فیصلے پر بھی سخت تنقید کی گئی اور بورڈ نے ان پر 500ڈالر جرمانہ عائد کیا ۔

ہاشم آملہ اپنے ملک میں ہوں یا بیرون ملک، ماہ رمضان کے روزے رکھتے ہیں، رواں برس مئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ’’روزہ میری صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ماہ رمضان کا مجھے پورے سال انتظار رہتا ہے کیونکہ یہ سال کا بہترین مہینہ ہوتا ہے‘‘۔

خیال رہے کہ انہوں نے تمام طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد حج کی سعادت بھی حاصل کرلی ہے،جب بھی جنوبی افریقا کے عظیم کھلاڑیوں کی بات ہوگی تو ہمیشہ ان کا شمار عظیم کھلاڑیوں میں کیا جائے گا ۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید