آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیدہ سوہا کی کتاب میں دل دہلا دینے والے جملے، گہری سوچ پر حیرت ہے، مقررین

کراچی(اسٹاف رپورٹر) نوجوان مصنفہ سیدہ سوہا عرفان کی کتاب دی مائنڈ لیس جینیئس (The Mindless Genius) کی تقریب رونمائی بدھ کی شب آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آڈیٹوریم میں ہوئی جس میںمقررین نے کہا کہ سیدہ سوہا عرفان کی کتاب میںدل دہلا دینے والے جملے ، گہری سوچ پر حیرت ہے ۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے شیخ الجامعہ پروفیسر خالد عراقی نے کہا ہے کہ کتاب لکھنا کوئی آسان کام نہیں اس کیلئے شوق مطالعہ کے ساتھ ساتھ مزاج میں تسلسل کا ہونا ضروری ہے۔ شیخ جامعہ نے مصنفہ کو جامعہ کراچی کی جانب سے گولڈ میڈل اور لائف ٹائم اسکالر شپ کا بھی اعلان کیا۔ مقررین میں شیخ الجامعہ کے علاوہ صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی ،آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ، سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق وفاقی وزیر برائے قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل ، سابق وفاقی وزیر جاوید جبار ، پروفیسر اعجاز فاروقی، ٹرنکی پبلشر کے ڈائریکٹر علی دانش شامل تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ مصنفہ سوہا عرفان کو سن رہا تھا تو یہی دعا مانگ رہا تھا کہ میرے بچے بھی سیدہ سوہا جیسے ہوجائیں جب یہ بچی بول رہی تھی تو میںنے احساس کیا کہ اس بچی میںلکھنے کے ساتھ ساتھ بولنے کی صلاحیت بھی ہے۔ معین الدین حیدر نے کہا کہ بہت کم عمری میں ایک مصنفہ نےاتنی ضخیم کتاب لکھی جو

قابل تحسین ہے۔ جاوید جبار نے کہا کہ کتاب کو پڑھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کس جذبہ سے تحریر کی گئی ہے۔ بیریسٹر شاہدہ جمیل نے کہا کہ اس کتاب میںدل دہلادینے والے جملے موجود ہیں اور حیرت ہوتی ہے کہ اتنی کم عمری میںکس طرح کوئی لڑکی اتنی گہری باتیںسوچ سکتی ہے۔ احمد شاہ نے کہا کہ جب تک دنیا باقی ہے کتاب باقی رہتی ہے،پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ ہم اس طرح کے بچوںکی حوصلہ افزائی کے لئے تمام تر کوششیں برائے کار لائیں گے۔ علی دانش نے کہا کہ اس تقریب کا مقصدصرف اس کتاب کی رونمائی نہیں بلکہ اپنے نوجوانوں کو کتاب لکھنے کی طرف راغب کرنا ہے۔کتاب کی مصنفہ سیدہ سوہا عرفان نے کہا کہ میںنے 16 سال کی عمر میں اس کتاب کو لکھا جب میںگریڈ 8 کی طالبہ تھی اس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہم آپ ،جو ہو وہ آپ ہو، آپ ہر ایک سے مختلف ہو،آپ کو خود پر اعتماد ہونا چاہئےآپ کیا ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید