آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تقرری غیرآئینی، چیف الیکشن کمشنر کا 2 نئے ارکان کو حلف دینے سے انکار

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے صدر مملکت کی جانب سے مقرر کیے گئے دو نئے اراکین الیکشن کمیشن سے حلف لینے سے معذرت کر لی ہے،اس صورتحال پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ نہایت افسوسناک ہے جبکہ اپوزیشن رہنمائوں سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی،پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمن ،جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق و دیگر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مثال قائم کی ہے،ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کا مؤقف ہے کہ نئے ارکان کا تقرر آئین کے خلاف کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے دونوں نئے اراکین الیکشن کمیشن سے حلف لینے سے معذرت کرتے ہوئے وزارت پارلیمانی امور کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔صدر نےبلوچستان سے منیر احمد کاکڑ اور سندھ سے خالد محمود صدیقی کو الیکشن کمیشن کا ممبر مقرر کرنے کی منظوری دی تھی ۔جس کا نوٹیفکیشن وزارت پارلیمانی امور نے جاری کر دیا تھا ، اس نوٹیفکیشن کیساتھ دونوں شخصیات نے

منیر کاکڑ اور خالد صدیقی جمعہ کو سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ ممبرز کی حیثیت سے چارج لینے آئے ہیں ان کی جوائننگ رپورٹ تیار کی جائے ۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ یہ کوئی سرکاری ملازمت نہیں جس میں چارج لیا اور دیا جاتا ہے بلکہ بطور ممبر الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 214کے تحت اس کا حلف ہوتا ہے ۔ بعد ازں چیف الیکشن کمشنر نے اس حوالے سے آرڈر جاری کیا جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کیلئے آرٹیکل 213اور218کو فالو نہیں کیا گیا ۔ اور صدر کو ممبران کی نامزدگی کا اختیار نہیں ۔ اس لئے اس تقرری کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر کے مقرر کردہ ارکان کا حلف لیاجائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر آرڈر کی کاپی وزارت پارلیمانی امور کوبھیج دی گئی ہے ۔ادھروفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ نہایت افسوسناک ہے۔ الیکشن کمیشن اہم ترین آئینی ادارہ ہے،آئینی ذمہ داریوں کی انجام دہی کیلئے الیکشن کمیشن کی تکمیل اہم تقاضا ہے۔ وفاقی حکومت کی نامزدگیوں کو کسی طور خلاف آئین یا قانون سے متصادم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اعظم سواتی نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کے مؤقف اور اسکے اثرات کا مفصل جائزہ لے رہے ہیں، کسی بحران کا شکار ہوئے بغیر الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کا عمل مکمل کرلیں گے۔ دوسری جانب سابق چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے صدر کے مقررکردہ دو ارکان سے حلف نہ لینے کے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے کا خیر مقدم کیاہے اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ اچھا اقدام ہے ۔

اہم خبریں سے مزید