آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی شک نہیں کہ ٹرین کا سفر ہمارے ہاں مقبول اور سستا ترین ذریعہ رہا اور اب بھی ہے لیکن دوسری جانب پہلے جیسا فعال نظام عنقا ہو چکا ہے۔ آئے روز ٹرینوں کے حادثات اور اُن کا تاخیر سے چلنا معمول بن چکا ہے۔ دور دراز علاقوں میں جانے والے مسافر جو ٹرین کے ذریعے سفر کو ترجیح دیتے ہیں کہ اُن کا وقت بچے گا، اُنہیں تاخیر کے باعث گھنٹوں ریلوے اسٹیشنوں پر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کراچی سے متعدد ٹرینیں ہفتے کو بھی تاخیر سے اندرونِ ملک روانہ ہوئیں جس کے باعث مسافروں کو گھنٹوں انتظار کی کوفت سہنا پڑی اور ہزاروں روپے کے ٹکٹ خریدنے کے باوجود وہ سفری سہولتوں سے مسلسل محروم ہیں۔ 24اگست کو پاکستان ایکسپریس دوپہر ایک کے بجائے سہ پہر پونے تین بجے، پاک بزنس ایکسپریس سہ پہر چار کے بجائے شام سوا پانچ بجے اور کراچی ایکسپریس شام پانچ کے بجائے پونے چھ بجے روانہ ہوئیں۔ یہ ہماری حرماں نصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ انگریز سے ملنے والے متعدد شاندار ادارے ہمارے چند بدعنوان افراد کی دست برد کے باعث، سہولتیں فراہم کرنے اور نفع کمانے کے بجائے بوجھ بن گئے، جن میں ریلوے بھی شامل ہے، جس کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ نجی ٹرانسپورٹ کے کاروبار کے فروغ کیلئے دانستہ طور پر اس کو تباہ کیا گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اداروں کی خستہ حالی کی وجہ حد سے متجاوز سیاسی مداخلت ہی ہے، ہر کسی نے اپنے حامیوں کو نوازا جس سے اداروں پر بوجھ بڑھا اور پھر وہ تباہی کا شکار ہوتے چلے گئے، تاہم یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ طویل سفر کیلئے اب بھی ریلوے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لاہور سے کراچی یا پھر پشاور اور کوئٹہ جانے والی ٹرینوں میں مسافروں کا ہجوم اس بات کا گواہ ہے۔ ریلوے کو بچانا کوئی مشکل کام نہیں۔ وزراتِ ریلوے پہلے ہی ریلوے کے نظام کی بہتری کیلئے کوشاں ہے۔ امید ہے کہ متعلقہ حکام اِس حوالے سے سخت اقدامات کرتے ہوئے ٹرینوں کی بروقت روانگی کو یقینی بنائیں گے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998