آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

احتساب کی تلوار صرف ’’ناپسندیدہ سیاست دانوں‘‘ ہی کو کاٹتی ہے

عکّاسی :عرفان نجمی

محمد بلال غوری کا شمار اُن کالم نگاروں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنی تخلیقی سوچ اور منفردزاویۂ فکر کے سبب نہایت قلیل عرصے میں قارئین کی توجّہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ 

گرچہ ان سے اختلاف رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں، لیکن ان کا منفرد اسلوب ، تیکھا پن، تحقیق سے معمور عبارت ہر قاری ہی کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

ضلع ملتان کی تحصیل، شجاع آباد کے گائوں، ظریف شہید میں پیدا ہونے والے محمد بلال غوری کو اس بات پہ فخر ہے کہ انہوں پاک فوج کے ایک شہید کے نام سے موسوم گاؤں میں جنم لیا۔ 

نیز، وہ پاک فوج کی قربانیوں کے بھی معترف ہیں۔ معروف سرائیکی شاعر، شاکر شجاع آبادی کا تعلق بھی ظریف شہید جیسے مردم خیز گائوں سے ہے۔

بلال غوری نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی اور پنجاب یونی ورسٹی سے سیاسیات اور ابلاغیات میں ماسٹرز کرنے سے پہلے ہی صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ 2013ء میں ’’روزنامہ جنگ‘‘ سے بہ طور کالم نگار وابستہ ہونے سے قبل مختلف صحافتی اداروں سے بہ حیثیت ادارتی نگراں منسلک ہونے کی وجہ سے انہیں کم عُمر ترین ’’سینئر صحافی‘‘ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 

نیز، ایک قومی روزنامے کے کم عُمر ترین مدیر کے فرائض بھی انجام دیے۔ علاوہ ازیں، 2010ءمیں اے پی این ایس کی جانب سے بہترین کالم نگار کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

حال ہی میں ان کے ناقابلِ اشاعت کالمز پر مبنی کتاب، ’’لاپتا کالم‘‘ شایع ہوئی ہے۔ گزشتہ دنوں ہماری بلال غوری سے ایک خصوصی نشست ہوئی۔ اس موقعے پر ہونے والی تفصیلی گفتگو میں ان کے تیکھے اور تیز و تُند افکار کی تپش محسوس کی جا سکتی ہے، تاہم اس اضطراب میں قومیت اور انسانیت کا درد بھی پنہاں ہے۔ مُلک کے مایہ ناز کالم نگار سے ہونے والی بات چیت نذرِ قارئین ہے۔

احتساب کی تلوار صرف ’’ناپسندیدہ سیاست دانوں‘‘ ہی کو کاٹتی ہے
اہلیہ اور بچّوں کے ساتھ

س :صحافت کی پرُخار وادی میں کیسے قدم رکھا؟

ج :چوں کہ ہمارے خاندان میں دُور دُور تک کسی چھوٹی، بڑی ادبی یا صحافتی شخصیت کا نام و نشان تک نہیں ملتا، چناں چہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لکھنے لکھانے کے جراثیم مُجھے وَرثے میں ملے۔ البتہ بچپن ہی سے لکھاری اور مقرّر بننے کا شوق تھا۔ میرا شمار اسکول کے بہترین مقرّرین میں ہوتا تھا اور سالانہ تقریری مقابلوں میں کوئی دوسرا مقرّر مجھ پر سبقت حاصل نہیں کر پاتا تھا۔ 

چوں کہ مَیں زبان کی چاشنی سے آگاہ تھا، اس لیے اپنی تقاریر خود لکھتا۔ اس ریاضت کا ثمر مُجھے آٹھویں جماعت ہی میں مل گیا کہ جب 14اگست 1997ء کو پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقعے پر منعقدہ تقریری مقابلے میں شرکت کے لیے ملتان گیا۔ 

وہاں میری ملاقات ایک قومی روزنامے کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر سے ہوئی، تو مَیں نے اُن کی خدمت میں ’’یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی‘‘ کے زیرِ عنوان اپنا مضمون پیش کیا۔ مذکورہ تحریر میں یہ سوال اُٹھایا گیا تھا کہ بچّے کی تربیت میں والدین، اساتذہ اور معاشرے میں سے کس کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ 

یہ مضمون شایع ہونے کے بعد اخبارات کے لیے لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مَیں نے مدیر کے نام خطوط اور بچّوں کی کہانیاں یا لطائف لکھنے کے مختلف مدارج طے کرنے کی بہ جائے لکھاری کے طور پر اپنے سفر کا آغاز سنجیدہ موضوعات سے کیا۔ 

ایک عرصے تک میرے مضامین تصویر کے بغیر شایع ہوتے رہے، کیوں کہ مَیں چاہتا تھا کہ قارئین میرا وزن عُمر کے ترازو میں تولنے کی بہ جائے قابلیت اور تحریر کی پختگی کے پلڑے میں جانچیں۔ اس دوران کئی دِل چسپ واقعات بھی رُونما ہوئے۔ مثال کے طور پر ملتان کے ایک اخبار کے مدیر نے میری تحریر دیکھ کر مُجھے اپنے دفتر طلب کیا۔ 

غالباً وہ مُجھے کوئی اہم ذمّے داری سونپنا چاہتے تھے۔ جب مَیں اُن کے سامنے حاضر ہوا، تو انہوں نے حیرانی کے عالم میں کہا کہ’’ مضمون دیکھ کر تو مُجھے محسوس ہوا تھا کہ شاید یہ کسی ادھیڑ عُمر فرد کی تحریر ہے۔‘‘ 

پھر میری حوصلہ افزائی کرنے کے بعد بولے کہ ’’جائو! پہلے اپنی تعلیم مکمل کرو۔‘‘ اسی طرح یونی ورسٹی کے زمانے میں لاہور کے دو اخبارات میں مُجھے اہم ذمّے داریاں سونپ دی گئی تھیں۔ کئی بزرگ صحافی میرے ماتحت کام کرتے، تو نہ صرف انہیں یہ بات ناگوار گزرتی، بلکہ خود مُجھے بھی نہایت عجیب لگتا۔ دراصل، المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ’’سینیارٹی‘‘ کا پیمانہ قابلیت کی بہ جائے دورانیہ ہے۔ 

عموماً کہا جاتا ہے کہ فلاں صاحب کو صحافت کی خاک چھانتے چھانتے اتنی دہائیاں بیت گئیں، جب کہ اگر کسی میں آگے بڑھنے کی جستجو نہیں اور وہ اپنے کام سے عشق نہیں کرتا، تو پھر محض بزرگی کی بنیاد پر کسی کو بڑا صحافی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ ’’جوانوں کو پِیروں کا استاد کر۔‘‘

احتساب کی تلوار صرف ’’ناپسندیدہ سیاست دانوں‘‘ ہی کو کاٹتی ہے
زمانۂ طالب علمی کی ایک یادگار تصویر

س :دہائیوں سے مُلک میں موجود سیاسی خلفشار، معاشی ابتری اور بنیادی سہولتوں کی کم یابی کا ذمے دار کِسے سمجھتے ہیں؟

ج :یہ ایک طویل داستان ہے۔ یاد رہے، جب پسپائی کا سفر شروع ہوتا ہے، تو پہاڑ سے لڑھکتے پتّھر کی طرح آپ مسلسل گرتے ہی چلے جاتے ہیں ، سنبھل نہیں پاتے۔

گرچہ ’’وقت کرتا ہے پرورش برسوں‘‘ کے مصداق اس تنزّلی، پستی کا ذمّے دار کسی ایک واقعے یا دَور کو قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم میرے نزدیک اس کا آغاز تب ہوا کہ جب مُلک کے پہلے وزیرِ اعظم، لیاقت علی خاں نے سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کر کے ایّوب خان کو آرمی چیف بنایا، حالاں کہ قبل ازیں نہ صرف قائد اعظم اُن کے بارے میں اپنے تحفّظات کا اظہار کر چُکے تھے، بلکہ پاکستان کے دوسرے کمانڈر اِن چیف، جنرل گریسی بھی کہہ چکے تھے کہ’’ ایّوب خان سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ وہ اقتدار کے رسیا ہیں۔‘‘ 

لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدّین کو وزیرِ اعظم بنا دیا گیا۔ وہ ایک کم زور شخص تھے ، انتظامی معاملات پر ان کی گرفت مضبوط نہیں تھی، جب کہ ان کے مقابلے میں بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والے گورنر جنرل، غلام محمد خاصے با اثر تھے۔ نتیجتاً، ملکی معاملات میں بیورو کریسی بہ تدریج حاوی ہوتی چلی گئی۔ پھر جب ایّوب خان نے اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے ’’ایبڈو‘‘ جیسے کالے قانون کے ذریعے سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی میدان سے باہر کر دیا۔

یوں پاکستانی سیاست میں ایک خلا پیدا ہو گیا۔ بعد ازاں، ذوالفقار علی بُھٹّو نے وقت کا دھارا بدلنے کی کوشش کی، لیکن مُلکی و غیر مُلکی نادیدہ قوّتوں نے انہیں بھی ناکام کر دیا، البتہ وہ عوام کو تھوڑا بہت سیاسی و سماجی شعور دے کر اس دُنیا سے رخصت ہوئے۔ بُھٹّو کے بعد میاں نواز شریف نے، حالاں کہ وہ خود فوج کی نرسری میں پروان چڑھے (جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے) اقتدار پر سیاست دانوں کی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات بھی مرتّب ہوئے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ وقت کا دھارا بدلنے میں کام یاب ہوئے یا نہیں۔ 

البتہ بُھٹّو کی پھانسی کو آج سرِ عام ’’عدالتی قتل‘‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام پر امریکی دبائو قبول نہیں کیا اور اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے اسلامی بلاک بنانے کی کوشش کی ، جس کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، جب کہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے والے عالمِ اسلام کے دیگر اہم رہنمائوں، شاہ فیصل، معمر قذافی، شیخ مجیبُ الرّحمٰن، انور سادات اور یاسر عرفات کا انجام بھی ہمارے سامنے ہے۔ کیا یہ ایک سوالیہ نشان نہیں؟

س :عام طور پر کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف کی فوج سے کبھی نہیں بنی؟

ج :نواز شریف کیا، کسی وزیرِ اعظم کی بھی نہیں بنی۔ آج تک کوئی بھی وزیرِ اعظم اپنی آئینی مدّت پوری نہیں کر سکا۔ محمد خان جونیجو اور میر ظفر اللہ جمالی جیسے مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک وزرائے اعظم بھی، جو عاجزی و انکساری کا نمونہ تھا، راندۂ درگاہ ٹھہرے۔ بھارت کی 72سالہ پارلیمانی تاریخ میں نریندر مودی 14ویں وزیرِ اعظم ہیں ۔ 

اگر دو بار نگراں وزیرِ اعظم بننے والے گلزاری لال نندا کو بھی شامل کرلیا جائے، تو یہ تعداد 15بنتی ہے۔ اس اعتبار سے بھارتی وزرائے اعظم کی اوسط مُدّت چار سال آٹھ ماہ یعنی 1,752دن بنتی ہے، جب کہ اس کے برعکس پاکستان میں 47برس میں، کیوں کہ 25برس ہمارے ہاں وزیرِ اعظم کا منصب ہی خالی رہا، 22وزرائے اعظم آئے ، اگر 7نگراں وزرائے اعظم کا بھی شمار کیا جائے، تو یہ تعداد 29تک جا پہنچتی ہے اور یوں پاکستان میں وزرائے اعظم کی اوسط مُدّت ڈیڑھ سال یعنی 591دن ہے۔

س :اس کا سبب کیا ہے؟

ج :بنیادی سبب یہ طے نہ ہونا ہے کہ زمامِ کار کس کے ہاتھ میں ہو گی اور فیصلے کا اختیار کِسے ہو گا۔ ہمارے ہاں وزیرِ اعظم یہ سمجھتا ہے کہ چوں کہ عوام نے اُسے مینڈیٹ دیا ہے، لہٰذا وہی سربراہِ حکومت اور تمام اختیارات کا منبع ہے، جب کہ بعض نادیدہ طاقتوں سے وابستہ کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے مداخلت نہ کی، تو سیاست دان مُلک کا بیڑا غرق کر دیں گے، چناں چہ وہ زمامِ اقتدار خود سنبھال لیتے ہیں۔ 

اب تک اس مُلک میں یہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ اگر ایک کشتی کے دو ملاّح یا ایک گاڑی کے دو ڈرائیورز ہوں اور دونوں مخالف سمت میں جانے کی تگ و دو میں ہوں، تو پھر اس کشتی یا گاڑی کا مستقبل اور اس میں بیٹھے مسافروں کی حالت وہی ہو گی، جو آج ہماری ہے۔

س :کیا یہ بات دُرست نہیں کہ سیاست دانوں نے اکثر عوام کو مایوس ہی کیا ۔ کتنے ہی سیاست دانوں پر کرپشن کے ذریعے اربوں کے اثاثے بنانے کے سنگین الزامات ہیں، جب کہ مُلک قرضوں میں ڈُوبا ہوا ہے اور عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے؟

ج :کرپشن کو ہر دَور میں سیاست دانوں کو بدنام کرنے کے لیے ایک’’ ٹُول‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسی طرح غدّاری کے الزام کو بھی ان کے خلاف ہتھیار کے طور پربرتا گیا۔ حتیٰ کہ قرار دادِ پاکستان پیش کرنے والے سیاسی رہنما، مولوی فضل الحق کو بھی غدّار کہا گیا۔ 

سہروردی، بھاشانی یہاں تک کہ فاطمہ جناح تک کو نہیں بخشاگیا۔ اگر احتساب کی بات کی جائے، تو یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف سیاست دان ہی بد عنوان ہیں ، باقی سب متّقی و پرہیز گار؟ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ باقی سب کو استثنیٰ حاصل ہے اور ہم نے صرف سیاست دانوں ہی کو ٹکٹکی پر چڑھانا ہے، تو اب تک کسی سیاست دان کے خلاف کرپشن ثابت کیوں نہیں ہوئی؟ 

زرداری گیارہ سال جیل میں رہے، کیا اُن کے خلاف کوئی الزام ثابت ہو سکا؟ نواز شریف کو پاناما کی بہ جائے اقامہ پر نا اہل کر دیا گیا اور احتساب عدالت میں بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے کھربوں کی کرپشن کی۔ ٹھیک ہے، کی ہو گی، مگر ابھی تک ثبوت مہیّا کر کے سزا کیوں نہیں دی جا سکی؟ شرجیل میمن اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر، آغا سراج دُرّانی کے گھر سے اربوں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن مقدّمے کا کیا بنا؟ اسی طرح کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ کے گھر سے ’’خزانہ‘‘ نکل آیا تھا، تو اُس کا کیا ہوا؟ 

آج بھی احتساب زوروں پر ہے۔ پنجاب کے دو بیورو کریٹس بدعنوانی کے الزام میں گزشتہ ایک سال سے زیرِ حراست ہیں۔ ثبوت پیش کر کے اُنہیں سزا کیوں نہیں دی جاتی۔ رانا ثناء اللہ کے خلاف دو سماعتوں پر چالان پیش نہیں ہوتا اور پھر جج بدل جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسئلہ کرپشن نہیں، بلکہ کچھ اور ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب بے گناہ ہیں، لیکن اگر انہوں نے کرپشن کی ہے، تو پھر لائیں ثبوت۔

سیاست دان کسی جزیرے پہ نہیں رہتے۔ وہ جہاں رہتے ہیں، وہاں ججز، سول اور ملٹری بیورو کریٹس، صنعت کار اور تاجر وغیرہ بھی آباد ہیں۔ ان سب کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ گرچہ بعض ادارے یہ کہہ کر جان چُھڑوا لیتے ہیں کہ اُن کا اپنا نظامِ احتساب موجود ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ سب کو ایک ہی نظام کے تحت لا کر اُن کا احتساب کیا جائے۔

س :تو کیا ہمارا نظامِ احتساب عادلانہ نہیں اور انتظامی ڈھانچا بھی اصلاح طلب ہے؟

ج :کسی کو سزا دینے کے لیے خُرد بینی تحقیق ضروری ہے، لیکن جب مقدّمات غیر ضروری طوالت اختیار کر لیتے ہیں اور یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اُن کی نوعیت سیاسی و انتقامی ہے، تو پھر عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔ کب سے یہ نعرہ لگایا جا رہا ہے کہ ’’کسی کو نہیں چھوڑیں گے، مُلک و قوم کا لوٹا ہوا پیسا واپس لائیں گے‘‘، لیکن وصولی ندار۔ کسی سے کچھ وصول نہیں ہوا، اُلٹا ان مقدّمات پر حکومت کے لاکھوں خرچ ہو رہے ہیں۔ 

پھر جسے آپ نے کرپشن کے الزام میں اُٹھایا، کئی ماہ تحویل میں رکھا اور اُس کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا، تو کیا آپ کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں؟ اگر آپ کسی شخص کو اُٹھانے کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ اب اس پر کون سا کیس بنانا ہے، تو پھر رُسوائی و جگ ہنسائی کیسے نہ ہو۔ احتسابی نظام اور انتظامی ڈھانچے کو دانستہ کم زور رکھا گیا ہے، تا کہ جب جہاں چاہے، استعمال کر لیاجائے۔

س :آپ کا مطلب ہے کہ ’’نیب‘‘ بِلا سوچے سمجھے اور بے دریغ لاٹھی چارج کر رہا ہے؟

ج :ایسا برسوں سے ہو رہا ہے اور نیب کو یہ ’’روایات‘‘ وَرثے میں ملی ہیں۔ دراصل، ہمارے ہاں جب کبھی سِول ادارے مضبوط ہونے لگتے ہیں، سیاسی استحکام آنے لگتا ہے اور بعض حلقوں کو مُلکی معاملات پر اپنی گرفت ڈھیلی محسوس ہونے لگتی ہے، تو احتساب کی تلوار نکال لی جاتی ہے۔ یہ شمشیر محض اُن سیاست دانوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے کہ جو ڈکٹیشن لینے سے انکار کرتے ہیں یا نا پسندیدہ ہوتے ہیں۔ 

یہ سلسلہ جنرل ایّوب خان کے دَور سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ اگر صرف سیاست دانوں ہی کا احتساب کرنا ہے، تو قوم کو کم از کم یہ تو بتائیں کہ آج تک کسی کے خلاف کوئی الزام ثابت کیوں نہیں ہوا۔ لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد اُن کے خلاف ثبوت جمع کیے جاتے ہیں، جب کہ بندے کو اُس وقت پکڑنا چاہیے کہ جب اُس کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہوں اور گرفتاری کے دو، تین ہفتوں بعد ہی اُسے لازماً عدالت میں پیش کر دیا جائے۔

اب نیب کے قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے کہ وہ کسی کاروباری شخصیت یا بیورو کریٹ کو گرفتار نہیں کر سکے گا، لیکن یہ استثنیٰ بھی امتیازی سلوک کے مترادف ہو گا۔ یاد رہے، پارلیمنٹ سب سے بالا تر ادارہ ہے، اگر اس کے ارکان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے، تو دوسروں کو کیوں نہیں۔

س :کیااحتساب کا ٹھوس نظام قائم ہونے سے مُلک کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟

ج :ہم خوابوں، سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ یادش بہ خیر، وزیرِ اعظم عمران خان نے فرمایا تھا کہ مُلک سے سالانہ 10ارب ڈالرز مَنی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجے جاتے ہیں اور روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ اب اگر وہ مَنی لانڈرنگ اور کرپشن روک دی گئی ہے، تو پھر قومی خزانہ خالی کیوں ہے؟

وفاقی وزیرِ مواصلات، مُراد سعید نے کہا تھا کہ’’ عمران خان وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھاتے ہی سوئس بینکوں میں پڑے قوم کے 200ارب ڈالرز واپس لائیں گے اور آئی ایم ایف کے منہ پر دے ماریں گے‘‘، جب کہ سابق وزیرِ خزانہ، اسد عُمر اور موجودہ چیئرمین، ایف بی آر نے صراحتاً کہہ دیا ہے کہ اس رقم کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ سب ہوائی باتیں تھیں۔ 

دراصل، سیاست دان اپوزیشن میں رہتے ہوئے مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔ رُوسی مدبّر، نکیتا خورشیف نے کہا تھا کہ ’’ پوری دُنیا میں سیاست دان ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہ وہاں بھی پُل بنانے کا وعدہ کر لیتے ہیں کہ جہاں دریا ہی نہیں ہوتا۔‘‘ لیکن پی ٹی آئی نے تو نہ صرف ہوائی قلعے تعمیر کیے، بلکہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھی غلط فہمیوں پر استوار ان ہوائی قلعوں سے باہر آنے پر آمادہ نہیں۔ 

احتساب کا ڈھول پیٹتے رہیں گے، تو سرمایہ کار کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر لا تعلق ہوتا جائے گا اور مُلک کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے ، بے روزگاری و منہگائی پر توجّہ دے اور جب ان مسائل سے نمٹ لے، تو پھر احتساب کا شوق بھی پورا کرلے۔ مگر یہ مت بُھولیں کہ جمہوریت اور صرف جمہوریت ہی کے ذریعے ان مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔

س :تو کیا اس وقت مُلک میں جمہوریت نہیں؟

ج :کسی حد تک ضرور ہے، لیکن جمہوریت کا پودا پوری طرح جڑ نہیں پکڑ سکا۔ ہماری مثال اُس بچے کی سی ہے کہ جس نے گھر کے صحن میں ایک پودا لگایا اور پھر اپنے باپ سے شکوہ کیا کہ پودا جڑ نہیں پکڑ رہا۔ 

باپ نے پوچھا، ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ پودا جڑ نہیں پکڑ رہا؟‘‘ تو اُس نے جواب دیا کہ ’’روز صبح جا کر پودے کو زمین سے اُکھاڑتا ہوں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ اُس نے جڑ پکڑی یا نہیں۔‘‘ اسی طرح بار بار ’’پودے‘‘ کو اُکھاڑنے سے ہماری معیشت کو ریورس گیئر لگ جاتا ہے۔ 

ماضی کی بات رہنے دیں، سابقہ حکومت کے تمام معاشی اشاریے اور تازہ ترین معاشی اعداد و شمار دیکھیں، تو اندازہ ہو جائے گا کہ صرف ایک سال میں ہم معاشی اعتبار سے کتنے پیچھے چلے گئے۔ خوف ناک بات یہ ہے کہ مستقبل اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک لگ رہا ہے۔

س :لیکن اس وقت تو مُلک میں ایک جمہوری نظامِ حکومت ہے اور پارلیمنٹ بھی فعال ہے؟

ج :جی ، درست فرمایا آپ نے۔ بس یونہی غالب کا یہ شعر یاد آ گیا کہ ؎ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ…دیتے ہیں دھوکا، یہ بازی گر کُھلا ۔اور داغ دہلوی کے الفاظ مستعار لوں، تو؎ خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں…صاف چُھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔

س : کیا یہ دُرست نہیں کہ سویلین بالادستی کا جھنڈا اُٹھانے والے کئی رہنمائوں کی سیاسی پرورش آمریّت ہی کی نرسری میں ہوئی ہے؟

ج :دراصل، ہمارے ہاں ’’شیڈ فارمنگ‘‘ کا رجحان ہے۔ پودے نرسری سے باہر اُگ ہی نہیں سکتے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ بعض پودے مالی کی خواہشات اور توقّعات کے برعکس اُکھاڑے نہیں جا سکتے۔ یہ جڑ پکڑ لیتے ہیں اور تن آور درخت بھی بن جاتے ہیں۔ ان میں ذوالفقار علی بُھٹّو اور میاں نواز شریف شامل ہیں۔ 

یعنی آتے، تو سب اُسی راستے سے ہیں، مگر جب کسی منتخب وزیرِ اعظم کو پتا چلتا ہے کہ پرائم منسٹر ہائوس کی رجسٹری تو اُس کے پاس ہے، لیکن اس کی ڈپلی کیٹ چابیاں بہت سے لوگوں کے پاس ہیں، تو کچھ عرصے بعد اُس کے اندر کا سیاست دان جاگ اُٹھتا ہے۔ 

پھر وہ مزاحمت کے راستے پر چل نکلتا ہے اور یہی تصادم کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ اس مُلک میں ہمیشہ سے یہی ہوتا چلا آرہا ہے اور ہم مسلسل ایک ہی دائرے میں سفر کر رہے ہیں۔

س :مگر جب سیاست دانوں کی تاریخ مَنی ٹریل نہ دینے، کرپشن، ہارس ٹریڈنگ اور جاگیر دارانہ نظام کو تقویّت دینے جیسے الزامات سے پُر ہو، تو پھر انہیں اپنی جیبیں بَھرنے اور مُلکی مفاد دائو پر لگانے کے لیے کُھلی چُھٹی تو نہیں دی جا سکتی ناں؟

ج :مَنی ٹریل پر قانونی ماہرین نے دو اہم سوالات اُٹھائے ہیں اور خو د عدالتیں بھی اس پر غور کر رہی ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فرد کسی پر آمدن سے زاید اثاثوں کا الزام لگاتا ہے، تو پھرثبوت بھی اُسے ہی فراہم کرنے چاہئیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی فرد کی آمدن اور اثاثہ جات کا تخمینہ لگائے بغیر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ آمدن سے زاید ہیں۔ 

جہاں تک ہارس ٹریڈنگ کا تعلق ہے، تو رقم کے عوض ضمیر فروخت کرنے والا بھی اُتنا ہی ذمّے دار ہے، جتنا کہ پیسوں سے ضمیر خریدنے والا۔ ماضیٔ قریب میں سینیٹ میں جو کچھ ہوا، وہ سب کے علم میں ہے۔ 

تاہم، صرف اُنہی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ جنہوں نے مبیّنہ طور پر کچھ وصول کیا، لیکن دینے والوں کا ذکر تک نہیں ہوا۔ جہاں تک چیک اینڈ بیلنس کا سوال ہے، تو سیاست دانوں کے لیے تو ہر طرف ہی کٹہرے ہیں۔ 

میڈیا بھی اُن کا ٹرائل کرتا ہے اور ایف آئی اے، نیب، قومی محتسب، اینٹی کرپشن، اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ بھی۔ پھر جب وہ ووٹ مانگنے جاتے ہیں، تو عوام اُن کا احتساب کرتے ہیں۔

س :اگر کوئی سیاست دان قومی مفاد کے خلاف فیصلے کرے، تو کیا وہ سزا کا مستحق نہیں ٹھہرتا؟

ج : بالکل ٹھہرتا ہے، لیکن اس کی سزا کا تعین عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ قومی مفاد کا تعیّن کون کرے گا؟ آئین کی رُو سے عوام طاقت و اختیار کا مرکز و منبع ہیں۔ 

جب وہ ووٹ کے ذریعے اپنے نمایندوں کو منتخب کر کے پارلیمنٹ بھیجتے ہیں، تو گویا اپنا یہ اختیار اُن نمایندوں کو تفویض کر دیتے ہیں۔ لہٰذا، اب پارلیمنٹ ہی مُلکی مفاد طے کرے گی۔ 

اگر عوام کو محسوس ہو گا کہ اُن کی ترجمانی ٹھیک طور پر نہیں کی جا رہی، تو وہ انتخابات کے وقت اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنا ترجمان بدل دیں گے۔

س :تاریخ پر آپ کی خاصی دسترس ہے اور آپ نے اسے دُرست کرنے کا سلسلہ بھی شروع کررکھاہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ ہمارے ہاں دُرست تاریخ نہیں پڑھائی جاتی؟

ج :جی بالکل، یو ٹیوب پر ’’Tarazoo‘‘ کے نام سے شروع کیے گئے سلسلے کا مقصد ہی یہ ہے کہ مبالغے، مغالطے دُور کیے جائیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ کچھ زیادہ ہی کنفیوژن کا شکار ہے۔ ہر چیز سے متعلق شکوک و شُبہات پیدا کر دیے گئے ہیں۔

مثلاً، پاکستان کب وجود میں آیا؟ پہلا قومی ترانہ کس نے لکھا؟ 23مارچ یومِ جمہوریہ ہے یا یومِ پاکستان؟ خورشید کمال عزیز نے اپنی کتاب ’’Murder of History‘‘ میں لکھا ہے کہ قرادادِ پاکستان 24مارچ 1940ء کو منظور ہوئی اور اگر مزید نصف گھنٹے کی تاخیر ہو جاتی، تو 25مارچ کا آغاز ہو جاتا۔ 

23مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا، تو اس دن کو ’’یومِ جمہوریہ‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا، جس طرح بھارت 26جنوری کو یومِ جمہوریہ مناتا ہے، مگر بعد ازاں جب جمہوریت ہی نہ رہی، تو اس دن کو ’’یومِ پاکستان‘‘ میں تبدیل کر کے فوجی پریڈ شروع کر دی گئی۔ 

قائد اعظم، لیاقت علی خان، جنرل ضیاء الحق اور بے نظیر بُھٹّو کی اموات پر آج بھی پُر اسراریت کے سائے لہرارہے ہیں۔ پھر حمود الرحمٰن کمیشن سمیت جتنے بھی کمیشنز بنے، اُن میں سے کسی ایک کی رپورٹ بھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔ 

ممکن ہے کہ ایک کمیشن ہمیں اس حوالے سے بنانا پڑے کہ آج تک کتنے کمیشنز بنے اور ان کی رپورٹس کہاں گئیں۔ آپ اپنی قوم کو سچ بتائیں، چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو، کیوں کہ جب آپ سچ چُھپاتے ہیں، تو پھر حادثات جنم لیتے ہیں۔

س :کیا عمران خان امید کی کرن نہیں؟

ج :عمران خان بالکل امید کی کرن تھے، لیکن اُن کی ایک سالہ کار کردگی دیکھ کرتو 22کروڑ عوام سکتے کی حالت میں ہیں۔ عمران خان نے قوم سے 34وعدے کیے تھے اور اُن میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ وہ روزانہ کنٹینر پہ چڑھ کر کہتے تھے کہ ’’حُکم رانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے پاکستانی قوم کا ہر فرد مقروض ہے، جب کہ مَیں قرضے لینے کی بہ جائے خود کُشی کر لوں گا۔‘‘ 

اس کے برعکس پی ٹی آئی کے ایک سالہ دَورِ حکومت میں جتنے قرضے لیے گئے، اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس عرصے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی۔ بجٹ خسارہ 42سال کی بلند ترین سطح کو چُھو رہا ہے۔ نِت نئے ٹیکسز لگانے کے باوجود محصولات وصولی کا ہدف پورا نہیں ہو رہا۔ 

اقتصادی ترقّی کی شرحِ نمو، جو محض ایک سال پہلے5.7فی صد تھی، آئی ایم ایف کا تخمینہ بتا رہا ہے کہ 2.9فی صد تک گرنے کی توقّع ہے۔ اورنج لائن منصوبہ یہ مکمل کرنا نہیں چاہتے، کیوں کہ یہ سابقہ حکومت کا منصوبہ ہے اور خیبر پختون خوا میں بی آر ٹی منصوبہ، جو میرے خیال میں’’دُنیا کا آٹھواں عجوبہ‘‘ ہے، اُن سے مکمل نہیں ہو پا رہا۔ 

ابتدا میں بعض افراد نے اس نا اہلی کو ناتجربہ کاری پر محمول کیا، لیکن یہ حکومت تو ابھی تک خوابوں کی دُنیا سے نہیں نکلی۔ معیشت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہر شخص پریشان،بدحال ہے۔

س :مقبوضہ کشمیر میں جاری قابض بھارتی افواج کے ظلم و ستم پر دنیا ہماری ہم نوا ہے۔ کیا مسئلہ کشمیر عن قریب حل ہو جائے گا؟

ج :اگر ٹویٹر میدانِ جنگ ہوتا، تو ہم یقیناً کشمیر فتح کر چکے ہوتے۔ اگر کشمیر ہماری شہ رگ ہے، تو پھر اس کے کٹ جانے پر بھرپور ردِ عمل آنا چاہیے تھا۔ ردِ عمل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ خطّے کو جنگ میں دھکیل دیں، بلکہ ایسے تنازعات کے حل کے لیے کئی محاذوں پر بہ یک وقت لڑنا پڑتا ہے، مگر یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم نے ہر محاذ پر محض رسمی احتجاج پہ اکتفا کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 

یاد رکھیں، جنگ سے گریز اُسی صُورت ممکن ہے کہ جب آپ دُنیا کو یہ باور کروائیں کہ آپ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر دُنیا ہمارے ساتھ ہے یا نہیں سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ہم خود کس کے ساتھ ہیں۔

س :آپ ہر طرف سے مایوس نظر آتے ہیں، تو کیا مُلک کے حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے؟

ج :اہلِ قلم اُسی ماحول کی نشان دہی کرتا ہے، جو اُس کے ارد گرد موجود ہوتا ہے۔ وہ زہرِ ہلاہل کو قند کیسے کہہ سکتا ہے۔ اندھیرا ہے اور سُرنگ کے دہانے پر روشنی کی کوئی کرن بھی دکھائی نہیں دے رہی، مگرمَیں مایوس نہیں ہوں، کیوں کہ سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ ’’بلیک ہول‘‘میں گرنے کے بعد بھی اُمید ختم نہیں ہو تی، بلکہ اس میں گرنے والی اشیا روشنی کی شکل میں نمودار ہو سکتی ہیں۔

سو، جب بلیک ہول میں گرنے کے بعد بھی امید ختم نہیں ہوتی، تو مَیں کیسے یہ کہہ دوں کہ امید کی کوئی کرن باقی نہیں۔ لوگوں میں شعور بیدار ہو رہا ہے۔ ویسے بھی اقوام کی زندگی میں تبدیلی کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا، مُجھے امید ہے کہ کبھی نہ کبھی ہم منزل ضرور پالیں گے۔

س :اب کچھ گفتگو ذاتی زندگی کے بارے میں ہو جائے۔ آپ کتنے بہن، بھائی ہیں اور والدین کیا کرتے ہیں؟

ج :ہم کُل 9بہن، بھائی ہیں۔ 6بہنیں ،3بھائی۔ دونوں بھائی اور تین بہنیں مجھ سے بڑی ہیں۔ میرے والد ایک متحرک سیاسی کارکن تھے اور اُن کا ذریعۂ معاش کاروبار تھا۔ 

والدہ دست کاری سے منسلک رہیں اور وہ بھی ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ تاہم، انہوں نے ہم سب بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

س :آپ کی صبح کب ہوتی ہے ؟

ج :جب چاہوں، صبح ہو جاتی ہے۔ دراصل، مَیں اپنے سونے جاگنے کا معمول مصروفیت کے اعتبار سے طے کرتا ہوں۔ بعض اوقات ساری رات کُتب کی صحبت میں بسر ہو جاتی ہے، تو صبح سو جاتا ہوں۔ اگر رات بھر جاگنے کے بعد دن میں بھی آرام کا وقت نہیں ملے، تو سرِ شام سو جاتا ہوں اور پھر رات کے آخری پہر اُٹھ جاتا ہوں۔

س :فرصت کے لمحات میں کیا مشاغل ہوتے ہیں؟

ج :مجھے فرصت کے پل بہت کم میسّر آتے ہیں۔ اگر فراغت مل جائے، تو جی بھر کر آرام کرتا ہوں یا پھر بچّوں کے ساتھ کھیلتا ہوں۔ میری دو بیٹیاں، عیشل خان اور عبیرہ خان اور ایک بیٹا، بہروز خان ہے۔ علاوہ ازیں، معمول کے مطالعے سے ہٹ کر کچھ پڑھ لیتا ہوں یا پھر دوستوں کی تجویز کردہ کوئی مووی دیکھ لیتا ہوں ۔

س :زندگی کا کوئی یادگار لمحہ؟

ج :جس فرد کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہو، اُس کی کتابِ زیست کا ہر وَرق اور اس پر لکھے تمام حروف ہی یادگار ہوتے ہیں، مگر چوں کہ کوئی گھڑی چاہے کتنی ہی حسین کیوں نہ ہو، دُہرائے جانے کی صورت میں اپنی افادیت و اہمیت و افادیت کھو دیتی ہے، چناں چہ تکرار کی تمنّا نہیں ۔

س :کبھی عشق کیا؟

ج :؎کیا کہوں تم سے کہ کیا ہے عشق…جان کا روگ ہے، بلا ہے عشق۔ اور؎ دل میں طوفاں چُھپائے بیٹھا ہوں…یہ نہ سمجھو کہ مجھ کو پیار نہیں۔ آپ اسے عشق کہیں، محبت، پیار یا کچھ اور… چاہنا اور چاہے جانا انسان کی جبلّت میں شامل ہے۔ یہ وہ طوفان ہے، جو کبھی بھی ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ بہت پہلے اس کیفیت سے گزر چکا ہوں، اب تو محض ایک لطیف سا احساس باقی ہے اور بس کام ہی سے عشق کیے جا رہا ہوں۔

س :لَو میرج کی یا ارینجڈ؟ اور یہ بھی بتائیں کہ شادی سے پہلے کی زندگی بہتر تھی یا شادی کے بعد کی؟

ج :زندگی کے مختلف مدارج ہوتے ہیں اور ہر مرحلے ہی میں ایک منفرد احساس اور خوب صورتی پنہاں ہے۔ یوں تو لوگ شادی سے پہلے کی زندگی پر آہیں بھرتے ہیں اور شادی کے بعد آزادی کھو جانے پر افسردہ رہتے ہیں، مگر میرے خیال میں زندگی کا حقیقی حُسن شادی شدہ زندگی ہی میں ہے، بہ شرط یہ کہ آپ کا جیون ساتھی مزاج آشنا ہو۔ خیر، میری شادی سو فی صد ارینجڈ تھی۔ مَیں نے شادی سے پہلے اپنی رفیقۂ حیات کو دیکھا تک نہیں تھا۔

س :شاعری سے کس قدر شغف ہے اور کس شاعر سے متاثر ہیں؟

ج :گرچہ میری دل چسپی کا میدان نثر ہے، مگر نظم سے بھی لا تعلق نہیں رہا۔ اچھا شعر سُن یا پڑھ کر اتنی ہی خوشی و تسکین ملتی ہے، جتنی عُمدہ نثر پڑھنے سے۔ غالب، میر تقی میر، فیض احمد فیض اور محسن نقوی سمیت متعدد شعرا پسند ہیں۔

س :کس بات پہ غصہ آتا ہے؟

ج :جب کسی کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور وہ بات توجّہ سے سُنے بغیر ہی یہ کہہ دے کہ ’’یہ سب تو مجھے پہلے سے معلوم تھا۔‘‘ ہمارے ہاں ایسے احمقوں کی بہتات ہے، جو یہ تک نہیں جانتے کہ وہ کچھ نہیں جانتے۔

س :پریشانی کے عالم میں کیا کرتے ہیں ؟

ج :پریشانی میں تنہا رہنا پسند کرتا ہوں۔ بالعموم اپنے اسٹڈی رُوم کا رُخ کر لیتا ہوں۔ وہاں کچھ دیر مراقبے اور خود کلامی کے بعد افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

س :موسیقی اور فلمز سے لگائو ہے؟

ج :کائنات کی ہر شے اِک لے ، سوز میں محوِ گردش ہے اور ساز و آواز انسانی جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ سو، موسیقی سے گریز ممکن نہیں۔ عموماً کلاسیکی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ البتہ موقعے کی مناسبت سے فاسٹ میوزک بھی اچھا لگتا ہے۔ 

چوں کہ فلمز بھی کتابوں کی طرح بہترین معلّم ہیں، لہٰذا آرٹ موویز اور ہالی وُڈ کی سائنس فکشن اور تاریخ پر مبنی فلمز ضرور دیکھتا ہوں۔ آخری فلم جو پسند آئی، وہ ہسپانی مووی، ’’AGORA‘‘ہے۔

س :گھر سے نکلتے وقت کون سی تین چیزیں لازماً ساتھ رکھتے ہیں؟

ج :یوں تو ہمیشہ جان بھی ہتھیلی پہ رکھ کر باہر نکلتا ہوں، مگر پرس، موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں لینا کبھی نہیں بھولتا۔

س :زندگی کی پہلی کمائی کب کی اور کتنی تھی؟

ج :چوں کہ زمانۂ طالب علمی ہی میں غمِ روزگار نے گھیر لیا تھا، اس لیے پہلی کمائی یاد نہیں۔ البتہ ملتان سے لاہور آکر بہ طور سب ایڈیٹر کام شروع کیا، تو پہلی تن خواہ 4,500روپے تھی۔

س :کیا جو چاہا، وہ پالیا اور زندگی سے کیا سیکھا؟

ج :کچھ پایا، کچھ کھویا، مگر کبھی پانے کے خمار یا کھونے کے آزار میں مبتلا نہیں ہوا۔ زندگی سے یہی سیکھا کہ کسی مغالطے میں نہ رہو۔؎ ہم نہ ہوتے، تو کسی اور کے چرچے ہوتے… خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔

س :کہتے ہیں کہ ہر کام یاب مَرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟

ج :خواتین اس معاملے میں خاصی سمجھ دار ہوتی ہیں۔ وہ ہاتھ ہی کام یاب مَرد پر رکھتی ہیں اور پھر اُسے اپنی مُٹّھی میں قید کرنے کی جستجو میں ناکامی کے دہانے تک لے جاتی ہیں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ ہر کام یاب مَرد کے پیچھے بے شک کسی عورت کا ہاتھ ہو یا نہ ہو، مگر ناکامی کی ہر داستان میں کسی عورت کا کردار ضرور ہوتا ہے ۔

س :پسندیدہ سیاست دان؟

ج :حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بُھٹّو اور میاں نوازشریف۔

س :پسندیدہ ڈِش اور رنگ؟

ج :جو میسّر آئے، کھا لیتا ہوں، کبھی پسند، نا پسند کے چکر میں نہیں پڑتا۔ البتہ ذائقے اور معیار پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ رنگوں میں سیاہ رنگ پسند ہے۔

س :وہ دُعا، جو ہمیشہ لبوں پہ رہتی ہے؟

ج :بہ قول بشیر بدر؎ ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں، کوئی آئے گا کوئی جائے گا…تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا ،اسے بھولنے کی دُعا کرو۔اگر ساغر صدیقی کے الفاظ مستعار لوںتو؎ ہے دُعا یاد مگر حرفِ دُعا یاد نہیں،میرے نغمات کو اندازِنوا یاد نہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید