فیصل آباد(شہباز احمد) پاکستان حلال گوشت کی ایکسپورٹ پر توجہ دے کر سالانہ 90 ارب روپے سے زائد کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ لائیواسٹاک ماہرین کے اندازے کے مطابق پاکستان حلال گوشت کی ایکسپورٹ سے سالانہ 50 ارب روپے اور حج کے موقع پر سعودی عرب کو قربانی کے لئے زندہ جانوروں کی ایکسپورٹ سے سالانہ 40 ارب روپے سے زائد کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔تاہم پنجاب میں اس مقصد کے لئے قائم’’پنجاب حلال میٹ ایجنسی‘‘ کو ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود بھی فعال نہیں کیا جا سکا ۔ ایجنسی کے قیام کا بنیادی مقصد حلال سرٹیفکیشن جاری کرنا، حلال فوڈ اینڈ نان فوڈ اشیاء کی برآمدی تجارت کا فروغ دینا اور حلال انڈسٹری سے متعلقہ افراد کیلئے تربیت پروگرام منعقد کرنا تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت عالمی سطح پر حلال گوشت کی برآمدات کا مجموعی حجم سالانہ ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اس میں برازیل کا حصہ 54 فیصد، انڈیا کا 11 فیصد اور پاکستان کا شیئر چھ فیصد کے قریب ہے۔ تاہم پاکستان سے حلال گوشت کی بجائے زیادہ تر زندہ جانور کراچی، گوادر، کوئٹہ اور پشاور کے راستے ہمسایہ ممالک میں سمگل کئے جا رہے ہیں۔ اکثریت ایسے صحت مند مویشیوں کی ہے جو افزائش نسل بڑھانے کے لئے ضروری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دیہی علاقوں میں کمرشل فارمنگ پر توجہ دی جائے تو حلال گوشت کی ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ دودھ اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ کر کے بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے،جدید سلاٹر ہاؤس قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی مارکیٹس پاکستان کے لئے بڑی منڈیاں بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، اومان، قطر، بحرین، ایران اور افغانستان کے ساتھ ساتھ چین کا صوبہ ”شی چن“ اور ”چینڈو“ بھی پاکستانی حلال گوشت کی بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے جہاں بڑی تعداد میں مسلم آبادی موجود ہے۔