آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

طوبٰی

بچو! شہد کی مکھیوں سے آنے والی بھنبھناہٹ کی آواز ان کے پروں کی تیز حرکت سے پیدا ہوتی ہے ۔ پروں کی تیز حرکت سے ہوا میں ہلکورے بنتے ہیں اور یہ گونج تخلیق کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ تمام پتنگے اپنے پروں کو ایک مخصوص حرکت دے کر اُڑتے ہیں ۔ یہ حرکت پروں کو پھڑ پھڑا نے یعنی اوپر سے نیچے لانے پر مشتمل ہوتی ہے اور بہت تیز ہوتی ہے لیکن کچھ پتنگے اپنے پروں کو بہت آہستہ حرکت دیتے ہیں ۔ مثلا تتلی اپنے پروں کو ہر سکنڈ میں چھ سے دس مرتبہ ہلاتی ہے ۔ 

ایسی سست حرکت سے بھنبھناہٹ کی آواز نہیں پیدا ہوتی۔ دوسرے حشرارت الارض مثلاً مچھر وغیرہ اپنے چھوٹے چھوٹے پروں کو نسبتاً تیز حرکت دیتے ہیں چنانچہ ان کی آواز بھی کم ہوتی ہے اور صرف اس وقت سنائی دیتی ہے جب یہ ہمارے کانوں کے قریب ہوتے ہیں ۔ شہد کی مکھیوں کے پر بڑے ہوتے ہیں اور ان کی حرکت نہایت تیز ہوتی ہے ۔ یہ حرکت ایک سکنڈ میں 300 سے 400 مرتبہ عمل میں آتی ہے چنانچہ ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جو دور سے بھی سنائی دیتی ہے ۔