آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ اور دھرنے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سمیت جو سیاسی، مذہبی یا قوم پرست جماعتیں اس لانگ مارچ اور دھرنے میں شرکت کا ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکی ہیں،

ان کی قیادت سیاسی دھارے سے الگ ہونے کا خدشہ بہرحال محسوس کر رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کے دفاع میں فی الحال کوئی قابل ذکر سیاسی قوت سامنے نہیں آئی ہے اور عوامی سطح پر بھی حالات حکومت کے حق میں نہیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مولانا کی اس احتجاجی سیاست کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ یہ تو ایک عمومی سوال ہے، جو پوری دنیا کے ان لوگوں کے ذہنوں میں ہے جو پاکستان کی سیاست میں تھوڑی سی بھی دلچسپی رکھتے ہیں لیکن پاکستان کی بعض سیاسی جماعتوں کی قیادت اس سوال میں الجھی ہوئی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پیچھے چلنا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا انہیں فوری جواب حاصل کرنا ہے، ورنہ ان کو بہت دیر ہو جائے گی۔

یہ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس کی توقع تھی مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس قدر جلدی ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ توقع اس لئے تھی کہ وزیراعظم عمران خان کے لئے سیاست میں خلا ان کوششوں سے پیدا ہوا، جو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو سیاسی طور پر غیر موثر بنانے کیلئے اب تک کی گئیں۔

جو لوگ سیاست کو ایک سائنس سمجھتے ہیں، وہ بہت پہلے سے یہ پیشگوئی کر رہے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ایک طرف دھکیل کر جو سیاسی خلا پیدا کیا گیا ہے، اس میں تحریک انصاف زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ اس کے طرزِ سیاست اور طرزِ حکمرانی سے لوگوں میں مایوسی پیدا ہوگی اور اس کا فائدہ غیر سیاسی قوتیں اٹھائیں گی۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ سیاسی خلا انتہا پسند قوتیں پُر کریں گی۔

کچھ حلقے ایسے حالات کی پیشگوئی کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی ایجنڈے سے بھی تعبیر کر رہے تھے اور وہ پاکستان میں مصر، عراق اور لیبیا جیسے حالات پیدا ہونے کے خوف میں بھی مبتلا تھے۔ لہٰذا موجودہ صورتحال غیر متوقع نہیں۔ وہی ہو رہا ہے، جس کی پیشگوئی کی جا رہی تھی۔ پاکستان کے لوگوں میں سخت مایوسی ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اس مایوسی اور ناامیدی کو مولانا فضل الرحمٰن ایک سیاسی رخ دے رہے ہیں۔ ورنہ مایوسی اور سیاسی بے چینی انارکی اور انتشار میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی قیادت لانگ مارچ اور دھرنے میں شرکت کے حوالے سے اس لئے تذبذب کا شکار ہے کہ سیاست دائیں بازو کی قیادت کے ہاتھ میں جا رہی ہے۔

حالانکہ جمعیت کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ اس نے کبھی غیر سیاسی، غیر جمہوری اور غیر آئینی راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس نے ہمیشہ ووٹ کا راستہ اختیار کیا۔ خیبر پختونخوا میں دو مرتبہ 1971اور 2002ء میں اس کی حکوتیں قائم ہوئیں۔ ان کے طرزِ حکمرانی سے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ اس کے رجحانات ایسے ہیں، جنہیں بعض حلقے انتہا پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔

مولانا فض الرحمٰن سے میں بہت پہلے سے واقف ہوں، جب وہ قومی سیاست میں آئے تو پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کو بیگم نصرت بھٹو منظم کر رہی تھیں۔ کراچی میں مشتاق مرزا کی رہائشگاہ پر اس کا پہلا اجلاس ہوا۔

اس میں نوجوان فضل الرحمٰن نے شرکت کی۔ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بحالی سے متعلق مولانا کے خیالات سے میں بہت متاثر ہوا۔ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے داعی ہیں۔ انہوں نے بعد ازاں جنرل پرویز مشرف کیخلاف اے آر ڈی میں بھی سیاسی اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔ بعض مراحل پر انہوں نے بھی مقتدر قوتوں سے اتنا ہی جوڑ توڑ کیا جتنا اوروں نے لیکن وہ انتہاپسند نہیں بلکہ آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔

نواز شریف نے مولانا کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کرکے اپنی زندگی کے اس مرحلے پر بہترین سیاسی فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی صورتحال کا ادراک کرنا چاہئے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے نصف صدی سے زیادہ سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور وہ ہمیشہ جمہوری تحریکوں کی سرخیل رہی ہے۔ میں بھی بطور سیاسی کارکن کئی تحریکوں میں شامل رہا ہوں۔ اسلئے سمجھتا ہوں کہ مولانا کی تحریک اگر نتیجہ خیز نہ ہوئی تو اگلے مرحلے میں سیاسی خلا انتہاپسند قوتیں پُر کریں گی۔

نتیجہ خیز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سسٹم کو لپیٹ دیا جائے۔ بلکہ یہ کہ مایوسی کا خاتمہ ہو اور لوگوں کو سیاسی سمت ملے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں بھی سب سے آخر میں شرکت کی۔ اس تحریک میں بھی اگرچہ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن تحریک کو کچھ اور قوتوں نے ہائی جیک کر لیا۔

اب قیادت کیلئے ایک آزمائش ہے۔ اس وقت لوگوں میں سخت مایوسی اور سیاسی بے چینی ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اس مایوسی کو سیاسی سمت دی جا رہی ہے۔

یہ لانگ مارچ اپنے اسباب اور سیاسی خصوصیات کے حوالے سے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور دھرنوں سے مختلف ہے۔ اس لانگ مارچ کی حمایت تو ہے، مخالفت نہیں۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لانگ مارچ اور دھرنوں کی ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں مخالف تھیں۔