آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’نیا پاکستان‘‘ کا ایجنڈا لیکر آنے والی حکمراں جماعت پی ٹی آئی نے اپنے پروگرام کی طرف جو پہلا ٹھوس قدم اٹھایا وہ کے پی اور پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی تحلیل تھا جس کے بعد اس میں اصلاح کر کے نئے نظام کے تحت فروری 2020میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے، جو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ بدھ کے روز اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے موقع پر کیا۔ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ بلدیاتی اداروں کو سیاست کی نرسریاں کہا جاتا ہے، جہاں سیاسی کارکنوں کی تربیت ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی غیر جماعتی انتخابات ہوتے رہے ہیں جن پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بہت لے دے ہوئی اس لئے مناسب ہوگا کہ غیر جماعتی انتخابات کے سوال پر سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لیا جائے ورنہ یہ ایک سیاسی بحث کا موضوع بن جائے گا، جس سے ان کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں سوالات اٹھیں گے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ آج تک ملک میں موثر اور پائیدار نظام نہ ہونے کے باعث بلدیاتی ادارے مستحکم نہیں ہو سکے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو ان سب باتوں کا ادراک ہے اور انہی پہلوئوں کو سامنے رکھ کر وزیراعظم عمران خان نے نیا نظام تشکیل دینے کی طرف قدم اٹھایا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی ملحوظ

رکھنا چاہئے کہ ماضی میں بھی بلدیاتی نظام تجربات سے گزارا گیا جس سے مسائل گھٹنے کی بجائے مزید بڑھے۔ اب فروری 2020میں کے پی اور پنجاب میں یہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ضروری ہوگا کہ ممکنہ قباحتوں سے بچنے کے لئے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے لیا جائے۔ بلدیاتی ادارے پارلیمنٹ تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی ہیں۔ یہ جس قدر مضبوط، متفقہ اور قابل قبول ہوں اتنا ہی جمہوریت کے استحکام کیلئے نیک فال ہوگا۔

ادارتی صفحہ سے مزید