آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ٹی ٹوئنٹی سے سرفرز احمد کو ہٹانا ناانصافی ہے، معین خان

ٹی ٹوئنٹی سے سرفرز احمد کو ہٹانا ناانصافی ہے، معین خان


پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے حال ہی میں قیادت سے برطرف ہونے والے سرفراز احمد کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی سے سرفرز احمد کو ہٹانا ناانصافی ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرفراز ضرور کم بیک کریں گے۔

معین خان نے کہا کہ اسپورٹس یہی سکھاتا ہے کہ روز میچ کھیلتے ہیں، روز آوٹ ہوتے ہو، پھر اگلے میچ میں پرفارم کرنا ہوتا ہے، گر کر اٹھنا ہی اسپورٹس کا سبق ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز کو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے، سرفراز محنتی لڑکا ہے، اسے بھی یقین ہوگا کہ وہ کم بیک کرے گا۔ مصباح بھی کافی دیر سے پاکستان ٹیم میں واپس آئے تھے اور کپتان بنے تھے، سرفراز کی تو ابھی کافی عمر پڑی ہے۔

معین خان نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی میں سرفراز کی کارکردگی عمدہ تھی، نہ صرف بطور کپتان بلکہ بطور پلیئر بھی بیس اوور کی کرکٹ میں سرفراز احمد کی کارکردگی مناسب تھی۔

انہوں نے کہا کہ یوں ٹیم سے باہر کرنا سرفراز کے ساتھ ذیادتی ہے اور اس فیصلے پر ہرکسی نے تنقید کی ہے، سرفراز نے ٹی ٹوئنٹی میں سال بھر ٹیم کو ٹاپ پر رکھا، یوں اس فارمیٹ سے باہر کردینا ذیادتی ہے۔

معین خان نے یقین ظاہر کیا کہ سرفراز احمد کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ازالہ ہوگا، لیکن سرفراز کو کم بیک کرنے کیلئے بہت محنت کرنا ہوگی، جن لوگوں نے باہر کیا ان کو جواب دینے کا بہترین طریقہ پرفارمنس ہے۔

معین خان نے مزید کہا کہ ہم آسٹریلیا کا طرز کرکٹ ڈومیسٹک میں اپنارہے ہیں لیکن کپتانی میں ان کا طریقہ کار نہیں اپنارہے، جیسے وہ کپتان کو گروم کرتے ہیں، پاکستان کو بھی ویسا کرنا ہوگا۔

معین خان نے اظہر علی کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم ایسے پلیئرز کو اچانک لاکر کپتان بنادیتے ہیں جو یا تو ریٹائرڈ ہورہے ہوتے ہیں یا خود کپتانی چھوڑ چکے ہوتےہیں، اس سے ٹیم نہیں سنبھلتی ہے۔

آسٹریلیا سے سیریز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دعا گو ہیں کہ پاکستان ٹیم آسٹریلیا میں اچھا پرفارم کرے اور کامیابی حاصل کرے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آسٹریلیا میں کنڈیشنز مشکل ہوگی۔

آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں کھیلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، کنڈیشن مختلف ہے، ٹیم بھی سخت ہے، بہت زیادہ محنت کرنا ہوگی، خوش فہمی کا شکار نہ ہوں اور بھرپور کرکٹ کھیلیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید