آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹر محمد اقبال کی سیرت اور زندگی کا سب سے زیادہ ممتاز، محبوب اور قابل قدر وصف جذبہ عشق رسول ﷺ ہے۔ ذات رسالت مآب کے ساتھ انہیں جو والہانہ عقیدت تھی، اس کا اظہار ان کی چشم ناک اور دیدہ تر سے ہوتا تھا کہ جہاں کسی نے حضور ﷺ کا نام ان کے سامنے لیا، ان پر جذبات کی شدت طاری ہو گئی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوگئے۔ 

کفار مکہ نے انسانیت کے اس محسن اعظم کو کس کس طرح ستایا اور کیسے کیسے ظلم و ستم ڈھائے۔ طائف میں حضور کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، غرض حضور ﷺ کی پریشانی اور مظلومیت کا کوئی واقعہ بھی ڈاکٹر صاحب کے سامنے بیان کیا جاتا، تو ان کے احباب نے بارہا دیکھا ہے کہ ڈاکٹر صاحب چیخیں مار مار کر رو رہے ہیں اور نڈھال ہوئے جا رہے ہیں۔

عشق رسولﷺ، ڈاکٹر اقبال کے رگ و پہ میں سرایت کر گیا تھا اور ان کے ذہن و فکر پر چھا گیا تھا۔ وہ کتنے بڑے فلسفی تھے اور فلسفہ کا سارا معاملہ عقل کے بل بوتے پر چلتا ہے مگر رسول ﷺ کی سیرت کو وہ عقل کی کسوٹی پر جانچنے کی جرأت نہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں وہ ایمان بالغیب کے قائل تھے بس حضورﷺ نے جو فرمایا وہ دین اور ایمان اور سر آنکھوں پر۔ اس معاملے میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں تھی اطاعت، فرمانبرداری اور غلامی۔ یہی ایمان کی دلیل بلکہ بنیاد ہے۔

بہ مصطفیٰ برساں خوشِ را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ اُو نہ رسیدی تمام بولہبی است

اقبال کی شاعری کا خلاصہ جوہر اور لب لباب عشق رسول ﷺ اور اطاعت رسول ﷺ ہے۔ میں نے ڈاکٹر اقبال صاحب کی صحبتوں میں عشق رسولﷺ کے جو مناظر دیکھے ہیں، ان کا لفظوں میں اظہار بہت مشکل ہے۔ وہ کیفیتیں محسوس کرنے کی تھیں۔ جب یہ ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو جی چاہتا ہے، ایک واقعہ بیان کر ہی دوں۔

ایک دن سیرت نبوی ﷺ پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے خاص انداز میں ایک واقعہ سنایا۔ فرمانے لگے، ایک معرکہ میں مسلمان سالار کا گھوڑا زخمی ہو گیا زخموں کی یہ حالت تھی کہ گھوڑے کا میدان کار زار میں کھڑا ہونا دشوار تھا۔ وہ بیٹھنا چاہتا تھا۔ دوسری طرف کافر یلغار کرتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ اس عالم میں امیر العسکر نے گھوڑے کو مخاطب کر کے کہا۔ 

اگر تم نے اس نازک وقت میں میرا ساتھ نہ دیا تو اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے تمہاری شکایت کروں گا‘‘۔ یہ واقعہ بیان کر کے ڈاکٹر صاحب زار و قطار رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ اس واقعے سے سپہ سالار کے عشق رسول ﷺ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

(روزگار فقیر از فقیر سید وحید الدین) 

اسپیشل ایڈیشن سے مزید