آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نو نومبر کو بھارتی عدالت عظمیٰ نے ایک متنازع فیصلے میں ہندوئوں کے حق میں فیصلہ سنایا ہے کہ متنازع اراضی مندر کو دے دی جائے اور مسجد کے لئے پانچ ایکڑ اراضی کسی دوسرے مقام پر مسلمانوں کو دی جائے۔اس فیصلے کے بعد بابری مسجد کی متنازع جگہ پر اب مندر کی تعمیر کو قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ بابری مسجد بھارت کی سب سے بڑی ریاست یا صوبے اترپردیش جسے یوپی کہا جاتا ہے، میں ایودھیا کے قدیم شہر میں واقع ہے۔یہ مقدمہ اس عدالتی مقدمے سے الگ ہے جس میں بابری مسجد کے انہدام کے الزام میں بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن ایڈوانی کے خلاف سماعت عرصے سے چل رہی ہے۔ اب وہ مقدمہ بھی اس فیصلے سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ 

دوسرے مقدمے میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ بابری مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ سازش کے تحت کیا گیا ۔یعنی ان دو مقدمات میں سے ایک مقدمہ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے بارے میں تھا جس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جب کہ دوسرا مقدمہ مجرمانہ سازش کا مقدمہ تھا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بھارتی عدالت عظمیٰ نے ملکیت کے مقدمے کی سماعت تیزرفتاری سے کی لیکن اس پر حملے کی سازش کا مقدمہ سست رفتاری سے چل رہا ہے۔ 

اب معلوم ہوتا ہے کہ اس ملکیت کے تنازع پر فیصلہ آنے کے بعد دوسرے مقدمے میں بھی اس فیصلے کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس میں فیصلہ ایڈوانی کے حق میں ہو جائے۔اس مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں انتہاپسند ہندوئوں نے بابری مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا تھا۔ 

یہ سب مشتعل ہندو رضاکار یا سیوک کہلاتے ہیں، جنہوں نے اس کے بعد ہونے والے فسادات میں بھی دو ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔اس طرح یہ ایک مجرمانہ سازش تھی جس کا مقدمہ27برس سے چل رہا ہے۔ مقدمے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے سترہ سال تحقیقات کرنے کے بعد2009ء میں اپنی تفتیش تحریری طور پر پیش کی تھی، جس میں کہا تھا کہ، بابری مسجد کے خلاف یہ اقدام کوئی اتفاقی یا فوری ردعمل کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے گہری سازش تھی، جس میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کا بھی کہا گیا تھا جن میں بی جے پی کے رہنما لال کرشن ایڈوانی کے علاوہ آٹھ دیگر بڑے ہندو رہنما بھی شامل تھے جنہوں نے اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں۔

پہلے تو صرف اشتعال انگیز تقاریر پر مقدمہ چلتا رہا پھر2017ء میں بھارت کے مرکزی تحقیقاتی ادارے، سی بی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ، ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت آٹھ رہنمائوں پر مجرمانہ سازش کا مقدمہ بھی قائم کیا جائے۔یاد رہے کہ1992ء میں بابری مسجد پر حملے سے پہلے اترپردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ تھے جنہوں نے عدالت عظمیٰ میں تحریری ضمانت دی تھی کہ بابری مسجد کو محفوظ رکھا جائے گا مگر پھر جو ہوا اس میں کلیان سنگھ بھی ملوث پائے گئے لیکن وہ بھی ضمانت پر آزاد ہیں۔

بھارت کے سپریم کوٹ کے چیف جسٹس، رنجن گوگئی ہیں ،جن کا تعلق آسام سے ہے اور وہ کئی متنازع فیصلے دے چکے ہیں۔ خود اپنے صوبے آسام میں مسلمانوں کے خلاف شہریت کی منسوخی پر بھی چیف جسٹس خاموش رہے، پھر کشمیر میں ہونے والے واقعات پر بھی انہوں نے بی جے پی حکومت کا ساتھ دیا ہے اور اب وہ سترہ نومبر کو سبکدوش ہونے والے ہیں لیکن اس سے قبل انہوں نے اس فیصلے کے ذریعے بی جے پی حکومت کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔

معلوم یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی سبکدوشی کے بعد بھی حکومت سے کوئی عہدہ حاصل کرنے کے لئے خود کو، بی جے پی کے ہمدرد کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جس میں انہیں کامیابی ہوئی ہے۔اس مسجد کا اصل تنازع یہ ہے کہ ہندوئوں کا دعویٰ ہے کہ مغل بادشاہ بابر نے اس جگہ مسجد تعمیر کی جہاں ان کے دیوتا رام کی جائے پیدائش تھی اور ایک مندر بھی تھا جسے گرا کر مسجد بنائی گئی تھی۔1992 میں اس مسجد کو شہید کرنے کے بعد مقدمات چلتے رہے اور قطعہ زمین کی ملکیت کا مقدمہ الہ آباد کی عدالت میں دائر کیا گیا جس کا فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ نے2010ء میں سنا کر تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ تقریباً تین ایکڑ کی متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ مندر کو، ایک مسجد کو اور ایک اکھاڑے کو دے دی جائے۔ اب پانچ رکنی بنچ نے اس فیصلے کی نوعیت بالکل بدل دی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے2010ء کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ، متنازع اراضی رام کی جائے پیدائش ہی ہے ،جہاں مسجد کی تعمیر مندر کو گرا کر کی گئی تھی۔ اس فیصلے کو ہندو اور مسلم دونوں نے تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیںدائر کر دی تھیں، جس کے بعد بھارتی عدالت عظمیٰ نے2011ء میں اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔اب سپریم کورٹ کی جس پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا ہے، اس میں صرف ایک مسلمان جج جسٹس ایس عبدالنذیر شامل ہیں۔

اس اراضی کے بارے میں مسلمانوں کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ1949ء تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں پھر اچانک ایک رات کچھ ہندوئوں نے بت مسجد میں رکھ دیئے اور پوجا شروع کر دی تھی۔ 2010ء کا فیصلہ سنانے والی بنچ کے مسلمان جج نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد کی تعمیر ایک کھنڈر پر ہوئی تھی، جس کے لئے کسی مندر کو نہیں گرایا گیا تھا۔

جب دسمبر1992ء میں بابری مسجد پر حملہ کیا گیا اس میں کوئی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہندو انتہاپسند شامل تھے ،جو وشواہندو پریشد یعنی عالمی ہندو مجلس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کئی گھنٹے لگا کر اپنے ہاتھوں سے کدالیں اور ہتھوڑے چلائے اور مسجد کو شہید کر دیا ، جس کے بعد بھارتی صدر ،شنکر دیال شرما نے یوپی اسمبلی برخواست کر کے صدارتی راج قائم کر دیا تھا اور صدارتی حکم سے مسجد اور اس کے اردگرد تقریباً ستر ایکڑ رقبہ وفاقی تحویل میں دے دیا تھا۔

اب فیصلے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن بھارت میں جو ہندو قوم پرستی اور انتہاپسندی کی لہر چل رہی ہے اس میں مسلمان بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں، کیونکہ بہرحال انہیں رہنا بھارت میں ہے اور وہ کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں جن سے پھر فسادات پھوٹ پڑیں ،اس لئے مسلم تنظیموں نے کشمیر کے مسئلے پر بھی بھارتی حکومت کے خلاف کوئی واضح موقف نہیں اپنایا ہے ،بلکہ کئی مسلم تنظیموں نے مودی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے صرف یہ کہا ہے کہ، کشمیر میں پابندیاں اٹھائی جائیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔

کئی مسلم رہنمائوں کا خیال ہے کہ اب اس مسئلے کو پیچھے چھوڑ کر مسلمانوں کو خود اپنی حالت بہتر کرنے کے لئے تعلیم پر توجہ دینی چاہئے، تاکہ وہ بھارتی معاشرے میں آگے بڑھ سکیں،گو کہ پاکستان کا قیام برصغیر کے تمام مسلمانوں کے لئے عمل میں آیا تھا مگر اب بھارتی مسلمان تو کجا بنگلہ دیش میں موجود بہاری بھی پاکستان نہیں آ سکتے اس لئے بھارتی مسلمان بشمول کشمیری مسلمانوں کے اب کسی ایسے فریب میں مبتلا نہیں ہیں کہ انہیں پاکستان میں پناہ مل سکتی ہے۔ 

اس وقت پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی کے مقابلے میں بھارت میں تقریباً پچیس کروڑ اور بنگلہ دیش میں تقریباً بیس کروڑ مسلمان آباد ہیں، جن کا مستقبل خود ان کے ممالک سے وابستہ ہے اور وہ اب کسی غلط فہمی میں آ کر خود اپنے مستقبل کو دائو پر نہیں لگا سکتے اور نہ ہی انہیں ایسا کرنا چاہئے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید