آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حکومت کی بغیر بانڈ نواز شریف کے جانے کی مخالفت

نواز شریف کا نام ECL سے نکالنے کا کیس، سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی



سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے حکومتی شرائط کے خلاف شہبازشریف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر نیب اور وفاقی حکومت نے اپنا تحریری جواب لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا ہے جس میں حکومت نے نواز شریف کی بغیر سیکیورٹی بانڈز جمع کرائے بیرون ملک جانے کی مخالفت کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت شروع ہونے کے بعد کچھ دیر کے لیے ملتوی کی گئی، تاہم ساڑھے 3 بجے سماعت پھر شروع کی گئی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان وفاقی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے۔

نیب کے پراسیکیوٹر کے علاوہ شہباز شریف کی طرف سے امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اشتر اوصاف علی ایڈووکیٹ بھی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال بھی لاہور ہائی کورٹ میں موجود ہیں، اس موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری احاطۂ عدالت میں موجودہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی حکومت نے تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔

حکومت کی جانب سے جمع کروایا گیا جواب 45 جبکہ نیب کا جواب 4 صفحات پر مشتمل ہے۔

جواب میں وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے شہباز شریف کی درخواست کی مخالفت کی گئی۔

وفاق نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف سزا یافتہ ہیں، انہیں بغیر سیکیورٹی بانڈز کے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سیکیورٹی بانڈ کی شرط کو لاگو رکھا جائے۔

وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیسز زیرِ سماعت ہیں،ان کا نام نیب کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا، لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں ہے، اس لیے شہباز شریف کی درخواست ناقابلِ سماعت ہے،عدالت عالیہ اس درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کرے۔

نیب نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں، ای سی ایل سے نام نکالنا وفاقی حکومت کا کام ہے، سزا یافتہ شخص کو ہر سماعت پر پیش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ جو چیزیں ہمارے سامنے بلیک اینڈ وائٹ میں پیش کی گئی ہیں ہم نے ان کو دیکھنا ہے، جبکہ جو میڈیا پر چل رہا ہے ہم نے اس کو نہیں دیکھنا۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ وفاقی اداروں کے دفاتر پورے ملک میں ہوتے ہیں، آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کسی بھی وفاقی ادارے کے خلاف درخواست سن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نوازشریف کے بیرون ملک علاج کے لیے جانے پر بانڈ کی حکومتی شرط کے خلاف نون لیگ کی درخواست کی لاہور ہائی کورٹ میں آج دوبارہ سماعت ہو رہی ہے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے ای سی ایل سے نوازشریف کا نام مشروط طور پر نکالنے کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے نصف گھنٹہ سماعت کی۔

درخواست میں نواز شریف کا نام نکالنے کے لیے رقم جمع کروانے کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست گزار کے وکیل امجد پرویز سے استفسار کیا کہ نواز شریف کا معاملہ نیب لاہور سے متعلقہ ہے یا اسلام آباد سے؟

وکیل نے بتایا کہ اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا احتساب عدالت اسلام آباد کے فیصلے کے خلاف یہ عدالت سماعت کرنے کی مجاز ہے؟

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بنچ درخواست پر سماعت کر سکتا ہے، کسی عدالت نے نواز شریف پر ایسی شرائط عائد نہیں کیں جیسی وفاقی حکومت عائد کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو مشروط اجازت دینا آئین کے منافی ہے اور قانون میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔

بنچ نے قرار دیا کہ قانون کے تحت جہاں کا رہائشی ہو وہ ای سی ایل میں اپنے نام کے اندراج کے خلاف اسی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ احتساب عدالت اسلام آباد نے سزا کے ذریعے جرمانہ عائد کیا تھا، اسی کے مساوی رقم کا تقاضہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کی سزا معطل ہے کالعدم نہیں، بیرونِ ملک جانے والا واپس نہیں آتا تو ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈال دی جاتی ہے جیسے سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے پر ہوا۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا تھا کہ حکومت نے جو ضمانت مانگی، کیا یہ وہ رقم ہے جو احتساب عدالت نے جرمانہ کیا تھا؟ کیا ای سی ایل آرڈی نینس وفاق کو اختیار دیتا ہے کہ ایک بار بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے؟ کیا قانون میں وہ شرائط ہیں جو نواز شریف پرعائد کی گئیں؟ نواز شریف کا نام کس نیب آفس کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آج جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

قومی خبریں سے مزید