• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


کراچی کے علاقے ڈیفنس سے قانون کی طالب علم دعا منگی کے اغوا کے سلسلے میں پولیس نے ان کے گروپ کے لڑکے لڑکیوں سمیت 22 افراد کے بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں، تفتیش کے دوران مغویہ کی بہن کی بھی موقع پر موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق ملنے والی اہم معلومات سے تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، پولیس کی تفتیشی ٹیم نے بڑا بخاری میں واقع ریسٹورنٹ ’ماسٹر چائے‘ کو اس اہم کیس کے لیے مرکزِ تفتیش بنا لیا ہے۔

ڈیفنس فیز 6 کے علاقے بڑا بخاری اور اطراف میں اس طرح کے ریسٹورنٹس نوعمر لڑکے لڑکیوں کی بیٹھک بن چکے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ماسٹر چائے کے تمام ویٹرز، سیکورٹی گارڈ، کئی دیگر چوکیداروں اور افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور انکشاف سامنے آیا ہے کہ واردات کے وقت دعا کی بڑی بہن بھی اسی ریسٹورنٹ پر اپنے دوست کے ساتھ موجود تھی۔

بہن کے مطابق دعا اور حارث بات چیت کرنے کے لیے اُٹھ کر ٹہلنے لگے کہ گولی چلنے کی آواز آئی، بیانات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مغوی دعا منگی کئی ماہ سے وقفے وقفے سے دوستوں کے ساتھ ماسٹر چائے پر آکر بیٹھتی تھی تاہم گز شتہ چار پانچ دن سے وہ مسلسل اور طویل دورانیہ کے لیے بیٹھک کر رہی تھی۔

اس بیٹھک کے 3 لڑکوں کو بھی پولیس نے بیانات کے بعد مزید تفتیشی مدد کے لیے روک لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ سے پہلے اور بعد میں علاقے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں نظر آنے والی ملزمان کی کار جیسی ایک مشکوک گاڑی بھی پکڑلی گئی ہے اور اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔

تازہ ترین