آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’لال لال لہرائے گا‘‘ کے نعروں سے پاکستان کے شہر کیا گونجے کہ فرسودہ روایتوں کے پنڈت ایسے بھڑکے جیسے کسی بِھڑ نے کاٹ لیا ہو۔ ان بیباک نوجوانوں کی اس طرح کی نعرے بازی سے فیض میلے کے منتظمین تک نالاں ہوئے، لیکن جب سوشل میڈیا پہ ’’لال لال لہرائے گا‘‘ کے نعرے ڈھول کی تھاپ پہ وائرل ہوئے تو ملک بھر میں طلبا اور نوجوانوں کو ایسے لگا کہ کسی نے اُن کے دلوں میں چھپے انقلابی جذبات کو اچانک چابک لگا دی ہو۔

شاید ان توتلی نوخرام روحوں کہ جن کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے. وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کے نعروں کو اتنی پذیرائی ملے گی۔ بڑھتی مہنگائی، پھیلتی بیروزگاری، چوپٹ تبدیلی، ووٹ کو عزت دو کی آبروریزی اور بھٹو کی یادیں محو ہونے سے سیاسی و نظری خلا پیدا ہوا تو درسگاہوں میں اُڑتی خاک سے نالاں نوجوانوں کو بس ایک بہانہ چاہیے تھا اور وہ اپنی بے طاقتی کو ختم کرنے کے لیے طلبا یونینز کی بحالی کا نعرہ لے کر میدان میں کود پڑے۔

ان کے ساتھ مزدور، انواع و اقسام کے دانشور، ادیب اور مجھ جیسے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ بھی شامل ہو گئے۔ سرما کے پت جھڑ میں سُرخ پرچموں کی بہار نے پھر سے انقلابی یادیں تازہ کیں اور میری آنکھوں کے سامنے 1968 کے عظیم نوجوان اُبھار کے مناظر گھومنے لگے، جن کے ہاتھوں فیلڈ مارشل ایوب خان کی طبقاتی و علاقائی تفریق کی ترقی کا ماڈل زمین بوس ہوا۔

اُس وقت لاکھوں طلبا، مزدور اور شہری و دیہی غربا قریہ قریہ میدان میں اُترے تھے اور ایک عوامی انقلاب بپا ہو چلا تھا۔ کسی کو اُس وقت بھی خبر نہیں تھی کہ راولپنڈی کے پولی ٹیکنیکل کالج کے ایک طالب علم کی شہادت پر عوام کا ایسا انقلابی لاوا پھٹ پڑے گا۔ اسی طرح نقیب اللہ محسود اور مشال کے قاتلوں کو خبر نہ تھی کہ اُن کے خون کا حساب لینے اور شہری حقوق کی بازیابی کے لیے دور دراز کے قبائل کے نوجوان گیاہستان میں چنگاری ثابت ہوں گے۔

اسٹوڈنٹس مارچ میں ابھی تو شہروں کے متوسط طبقوں کے نوجوان نکلے ہیں، جب غریبوں اور مدرسوں کے بے یارومددگار طالب علم کتاب و قلم کا تقاضا کرنے میدان میں نکلیں گے تو پھر دیکھیے لال لال کیسے لہرائے گا۔ بحث ایشیا سرخ ہے یا سبز کی نہیں، نہ ہی صوفیا کے انسان دوست بسنتی رنگ اور سیفرون کے تنگ نظر ہندتوائی رنگ کی ہے۔

یہ تو محض علامتیں ہیں، افکار کی۔ اصل لڑائی وہی ہے جو شکاگو کے مزدوروں، چین کے کسانوں، روس کے محنت کشوں اور ویت نام کے حریت پسندوں اور سامراجیوں اور استحصالیوں کے مابین ہوئی تھی۔ بھلے سوویت یونین ٹوٹ گیا اور سوشلسٹ چین گلوبلائزیشن کا انجن بن گیا۔

جب تک سماج طبقات میں تقسیم ہے، طبقاتی جدوجہد ہوتی رہے گی۔ یہ بھی طبقاتی تعصب ہے کہ امرا اپنی لوٹ مار اور طبقاتی مفادات کے لیے ہر طرح کے مقدس نظریات، قوانین اور اداروں کو بے رحمی اور چالاکی سے استعمال کریں تو جائز اور جب افتادگانِ خاک ظلم و استحصال کے خلاف آواز اُٹھائیں تو وہ دین و دُنیا کے دشمن قرار دیے جائیں۔

حیرانی تب ہوتی ہے جب متوسط طبقے کے دانشور سرمایہ داروں اور سامراجیوں کے نظریاتی دفاع کے لیے میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اب اس کا کیا کیجیے کہ دُنیا کے مٹھی بھر مسلم بڑے سرمایہ دار دُنیا کی 80 فیصد دولت کے مالک ہو چکے لیکن انہیں سرمایہ دارانہ عافیت نہ ملی.

امیر غریب کی طبقاتی خلیج جب اپنی انتہائوں کو پہنچے گی تو لال لال تو لہرائے گا، بھلے آپ سوشلزم کو کیسے ہی ناکام قرار دیئے جانے کی بھڑاس نکالتے رہیں۔ لیکن سرمادیہ دارانہ یا نیولبرل اکنامکس کے داعی بتائیں تو کہ کیوں انسانیت کو اور کرئہ ارض کو اس کے استحصال سے عافیت ملی۔

یہ اب سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں پوری انسانیت کے استحصال اور کرئہ ارض کی تباہ کُن آلودگی سے نجات کی عالمی جدوجہد بن گئی ہے۔ اب لوگ اِک کھیت نہیں، اِک دیس نہیں، پوری دُنیا مانگیں گے۔

یہ تاریخی مضحکہ ہے کہ اب اُمرا کی جماعتیں اور طبقاتی جدوجہد کو کفر قرار دینے والے مذہبی پیشوا بھی غریب غریب کی مالا جپتے ہیں۔ آج کل تو فیشن ہو گیا ہے کہ ہر طرح کا سیاسی اُٹھائی گیر بھی سب کے ساتھ یکساں سلوک، سب کے لیے ایک قانون کی منافقانہ گردان میں اپنے اپنے حریفوں کو پچھاڑنے کے چکر میں ہے، لیکن طبقاتی معاشی و سماجی نظام اور طبقاتی قانون و ریاست کو بدلے بنا۔ اور اپنے اپنے استحصال کے کاروبار چھوڑے بنا۔

ابھی یہ کافی نہیں تھا کہ ریاست و حکومت بجائے اس کے کہ چوتھے صنعتی و اطلاعاتی و تکنیکی انقلاب کی جانب توجہ دیتی، یہ چل پڑی ہے پانچویں پیڑھی کی عجیب الخلقت جنگ کی طرف۔ ایک سلامتی کی ریاست کو خطرہ دہشت گردوں اور مذہبی انتہاپسندوں سے نہیں، اُسے فکر لاحق ہے تو انسانی، شہری، سماجی اور طبقاتی حقوق کی فریاد کرنے والوں سے۔ جعلی سول حکمرانی کے دور میں ایک فسطائی لہر آ رہی ہے جو سوچنے والے ناقدین، عوامی حقوق کی آواز اُٹھانے والوں اور لال لال کے نعرے لگانے والوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے جتن کر رہی ہے۔

اب اگر طلبا اپنے بنیادی حقوق بشمول، اعلیٰ تعلیم، خواندگی، روزگار اور انجمن سازی مانگ رہے ہیں تو اس میں کیا فتنہ گری ہے سوائے سازشی نظریہ دانوں کے فکری جنجال کے؟ اگر موجودہ اُجرتوں پہ اُجرتی مزدور دو وقت کی روٹی سے محروم ہو کر روٹی روزگار مانگتے ہیں تو وہ صرف اپنے خالی پیٹوں کی بھوک مٹانے کی التجا کر رہے ہیں؟ اسی طرح غریب کسان فاقہ کشی کے ہاتھوں مرنے کی دہائی دے رہے ہیں تو وہ کیسے کسی غیرملک کے ایجنٹ ہو گئے؟ ہمارے محروم علاقوں کے لوگ پاکستان میں مساوی شرکت کی آواز اٹھاتے ہیں، وہ کیسے قومی سلامتی کے لیے ناسور قرار دیئے جاتے ہیں؟ عورتوں کا تو ذکر ہی کیا، غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے معاشرے میں وہ جب اپنے جسم و جان اور مرد سے برابری کا حق مانگیں تو انہیں مغرب زدہ کہہ کر پدرشاہی مظالم پہ پردہ ڈالا جا سکتا.

یہ سب بڑے مسئلے اور بڑے مدے ہیں جن سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں. اگر آپ اتنے ہی سلامتی کے داعی ہیں تو ان مسئلوں کو حل کرو تو خطرہ ناپید ہو جائے گا. لیکن آپ یہ کرنے سے رہے. یہ کام بھی ایک انقلابی جمہوری تحریک ہی کر سکتی ہے. اور کوئی تحریک یا نظریہ انقلابی کہلانے کے لائق نہیں جو عوامی مدوں اور حقوق کی جدوجہد سے کسی خیالی انقلابی مجرد درفنطنی کے بہانے اس سے کنارہ کشی کرے. بھلا لال لال لہرانے میں کیا قباحت ہے؟