آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

متنازع بل، بھارت میں ہنگامے، فوج طلب، انٹرنیٹ بند

متنازع بل، بھارت میں ہنگامے، فوج طلب، انٹرنیٹ بند


شہریت کے ترمیمی قانونی بل( Citizenship Amendment Bill) کے خلاف شمال مشرقی بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے، اس حوالے سے سول انتظامیہ نے احتجاج کو کچلنے کے لیے فوج طلب کرلی ہے۔

ریاست تریپورہ اور آسام میں فوج کے تین کالم طلب کیے گئے ہیں۔ جبکہ آسام  کے دس اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بدھ کی شام سات بجے سے چوبیس گھنٹے کے لیے معطل کردی گئی ہے۔

فوج کے دو کالم ریاست تریپورہ میں متعین کیے گئے ہیں، جس میں جنرل ایریا کنچن پور اور جنرل ایرایا منو شامل ہیں جبکہ آرمی کا تیسرا کالم آسام کے علاقے بونگیا گائوں میں متعین کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سٹیزن شپ ترمیمی بل کی منظوری بھارتی آئین پر حملہ ہے، راہول

یاد رہے کہ بی جےپی حکومت کی جانب سے شہریت کے ترمیمی قانونی بل لانے کا مقصد ان غیرقانونی و غیر مسلم پناہ گزینوں کو بھارتی شہریت دینا ہے جو کہ پڑوسی ملکوں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 31دسمبر 2014تک بھارت آئے ہیں۔

ریاست آسام میں اس بل کے مخالف ہزاروں افراد مختلف مقامات پر سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین کی پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ بھی ہوئی، اس صورتحال کے باعث طویل عرصے سے بدامنی کا شکار آسام مزید طوائف الملوکی اور افراتفری کا شکار ہوگیا ہے۔

ہنگامے کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھ برسوں سے جاری طلبہ کی غیرقانونی امیگریشن کے خلاف تحریک میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی تھی، اور یہ تحریک معاہدہ آسام پر دستخط کے بعد ختم ہوگئی تھی۔

ہنگامہ آرائی کے حوالے سے کسی جماعت یا طلبہ تنظیم نے ہڑتال یا احتجاج کی کال نہیں دی، تاہم سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہاتھا پائی ریاست بھر میں جاری ہے بالخصوص سرکاری سیکریٹریٹ کے سامنے بھی یہی صورتحال ہے۔ بدھ کی شام کو حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے لکھمی پور، دہیماجی، تنسوکیا، دیبوروگڑھ، چرادیو، سیواسگر، جڑہاتھ، گولا گھاٹ، کمروپ اور کمرپ اضلاع میں چوبیس گھنٹے کےلیے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی جو جمعرات کی شام تک جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے: اسد اویسی نے متنازع سٹیزن شپ بل کی کاپی پھاڑ دی

متعدد مظاہرین نے ٹیلی ویژن چینلز کو بتایا کہ گوہاٹی میں سیکریٹریٹ کے سامنے مظاہرے کے دوران متعدد افراد پولیس ایکشن کے باعث زخمی ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد مظاہرین نے گوہاٹی اور شیلانگ کو ملانے والی سڑک رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردی۔

مظاہرین اس موقع پر سڑک پر بنائے گئے اس اسٹیج کو بھی نقصان پہنچایا جوکہ وزیراعظم نریندرمودی کی جاپانی وزیراعظم شینزو آبے سے آئندہ اتوار کو ہونے والی مجوزہ ملاقات کے لیے تیار کیا گیا تھا۔جبکہ گوہاٹی میں سیکریٹریٹ کے سامنے سڑک پر لگے اشتہاری ہورڈنگز اور بینرز بھی توڑ کر انھیں سڑک پر ڈالکر آگ لگا دی گئی۔

مظاہرین نے مذکورہ بالا بل کے خلاف  آسام  کے وزیراعلیٰ سربناندا سونوال کے آبائی شہر چابوا میں ایک موٹر سائیکل ریلی نکالی۔ مظاہروں اور ہنگاموں کے باعث گوہاٹی یونیورسٹی، کاٹن یونیورسٹی اور دبروگڑھ یونیورسٹی میں بدھ کو شیڈول امتحانات ملتوی کردیئے گئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید