امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ’امن بورڈ‘ کی بنیاد رکھی ہے جس کا مقصد غزہ تنازع کو حل کرنا ہے، اس بورڈ کی تشکیل غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 60 ممالک کو اس’امن بورڈ‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور ساتھ ہی تمام ممالک کو بورڈ کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی شرط رکھی ہے۔
امریکی صدر خود ہی اس ’امن بورڈ‘ کے تاحیات چیئرمین ہوں گے۔ اس بورڈ کا آغاز غزہ تنازع کو حل کرنے سے ہوگا اور پھر دیگر تنازعات تک اس کی توسیع کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ’امن بورڈ‘ پر تنقید کرنے والے عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے کردار کو محدود کر دے گا۔
اس حوالے سے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربک سے سوال کیا گیا تو اُنہوں نے امریکی صدر کے’امن بورڈ‘ تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ہی ایسا واحد ادارہ ہے جس میں ہرچھوٹی اور بڑی قوم کو اکٹھا کرنے کی اخلاقی اور قانونی صلاحیت ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم اس طرح سے اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اُٹھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم تاریک دور میں واپس چلے گئے ہیں۔