آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حسان کو وزیراعظم کا بھانجا اورمیرا بیٹا ہونے پر نشانہ بنایا جارہاہے،حفیظ نیازی

دیکھئے جیو نیوز کا پروگرام ”رپورٹ کارڈ“


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان ابصاء کومل نے حفیظ اللہ نیازی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال حملے میں آپ کے صاحبزادے حسان نیازی کی شرکت نظر آرہی ہے، آپ کے صاحبزادے نے اس پر معذرت کرلی ہے اور ا ن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، آپ کا اس معاملہ پر کیا کمنٹ ہوگا؟

جس پر حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ اسپتال پر وکلاء کے حملے کو کوئی بھی درست قرار نہیں دے سکتا ہے، وکیلوں کو قطعی زیب نہیں دیتا تھا کہ قانون ہاتھ میں لیں، مجھے نہیں پتا اس واقعہ میں حسان کی کتنی انوالمنٹ ہے لیکن اسے سنگل آؤٹ کرنے کی دو وجوہات ہیں ایک وزیراعظم کا بھانجا ہونا دوسرا میرا بیٹا ہونا، وہ اکیلا تو نہیں تھا دو سو لوگ ہوں گے،

ابھی تک جتنی بھی ویڈیوز آئی ہیں اس میں نظر نہیں آیا کہ تشدد میں اس کا کوئی کردار تھا، حسان نیازی کی ہمدردیاں اپنے ماموں کے ساتھ ہیں، ینگ ڈاکٹرز کے ہاتھوں بھی دو دفعہ اسپتال کے شیشے ٹوٹ چکے اور مریض مرچکے ہیں۔ میزبان ابصاء کومل کے پہلے سوال نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ ترین رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع، کیا برطانوی ڈاکٹرز کی رپورٹ کے بعد نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے خدشات دور ہوجائیں گے؟

کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ شریف فیملی کو ڈھیل مل چکی ہے اور ڈیل کی کوششیں جاری ہیں، میاں نواز شریف کی بیماری سے متعلق وزراء کے بیانات سے ان کی کسمپرسی نظر آتی ہے۔ ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیرون ملک علاج کروارہے ہیں مگر ہم نے ابھی تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا، جو 77ہزار نواز شریف جیلوں میں بند ہیں ان کا بھی کوئی سوال پوچھ لیں،

ان قیدیوں میں دس ہزار بیماراور سات ہزار عام آدمی کی مریم بھی ہیں، بائیس کروڑ عوام کی صحت کا بھی پوچھ لیں انہیں اسپتال میں کوئی گھسنے نہیں دیتا، دوائیاں اتنی مہنگی ہوگئیں کہ وہ خرید نہیں سکتے لیکن یہاں صرف نواز شریف، نواز شریف، نواز شریف ہوتا ہے، میری بھی بات کرلیں کہ میرے پلیٹ لیٹس کتنے ہیں۔سلیم صافی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ شریف فیملی کو ڈھیل مل چکی ہے اور ڈیل کی کوششیں جاری ہیں، اعتمادی سازی کے اقدام کے طور پر مریم نواز خاموش ہیں اور نواز شریف کے بیانیہ کو دفن کردیا گیا ہے اور اب شہباز شریف کا بیانیہ آگے بڑھے گا،

نواز شریف کی بیماری کو جن لوگوں نے سیاست کی بھینٹ چڑھانا ہے وہ برطانوی ڈاکٹرز کی رپورٹ پر بھی یقین نہیں کریں گے۔محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ برطانوی ڈاکٹروں نے نواز شریف کی بیماری کی تصدیق کردی اب اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، نواز شریف کا بیانیہ دفن نہیں ہوا ہے،

مریم نواز کا ٹوئٹر ضرور خاموش ہے لیکن اس کی وجہ والد کی تیمارداری کیلئے باہر جانے کی خواہش ہے، نواز شریف کی بیماری کی وجہ سے فی الحال شہباز شریف کا بیانیہ چلے گا اور مریم نواز پیچھے ہٹ جائیں گی لیکن اگلے انتخابی مہم مریم نواز اور نواز شریف کا بیانیہ ہی چلائے گا۔

حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ نواز شریف کی بیماری سے متعلق وزراء کے بیانات سے ان کی کسمپرسی نظر آتی ہے، نواز شریف کے بیانیہ میں کوئی سقم ہوتا تو مخالفین کو پریشانی نہیں ہوتی، پاکستان میں کئی قوتیں آپس میں دست و گریباں ہیں، کچھ چاہتی ہیں نواز شریف سے صرفِ نظر کر کے پاکستان میں ایک اور جنگ شروع کی جائے، حکومت کو بنانے والے لوگوں کا اپنا الگ ایجنڈا ہے۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ اس نظام کے پلیٹ لیٹس پچاس ہزار سے کم نظر آرہے ہیں جو بہت تیزی سے کم ہورہے ہیں، نہ بیماری پر سیاست کرنی چاہئے نہ بیماری کی سیاست کرنی چاہئے، کئی لوگ واقعی بیمار ہوتے ہیں لیکن بہت سے لوگ جیل سے اسپتال پہنچ کر ٹھیک ہوجاتے ہیں،

حکومت نواز شریف کی بیماری سے متعلق برطانوی ڈاکٹروں کی رپورٹ کی عدالت میں مخالفت کرے گی۔

اہم خبریں سے مزید