آپ آف لائن ہیں
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

16دسمبر ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کہ 16 دسمبر 1971ء کو ہمارے قومی وجود کے دوحصے کردئیے گئے تھے اور پاکستان دشمنوں نے پاکستانی قومیت کے تصورپر نہایت کاری ضرب لگائی تھی جس سے ابھی تک خون رس رہا ہے۔ اس سانحے نے جہاں ہماری قومی سوچ اور لاشعور پر گہرے اثرات مرتب کئے اور قوم کو مستقل طور پر بے یقینی کے خوف میں مبتلا کردیا وہاں ملک کے اندر بھی علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو ایک ’’ رول ماڈل‘‘ مہیا کردیا۔ 

باشعور قومیں اس طرح کے سانحات سے سبق سیکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری قیادت، سیاستدانوں اور رائے عامہ کی تربیت کرنے والے اداروں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب اور نتائج پر اس طرح غور نہیں کیا کہ وہ اس کے ذمہ دار عوامل کی روشنی میں مستقبل کے لئے حکمت عملی وضع کرتے اور اس پرُخلوص نیت سے عمل کرتے، ہر سال کی طرح اس بار بھی ہمارے لیڈران باقی قومی ایام کی مانند16 دسمبر کے حوالے سے بیانات جاری کریں گے جو ان کے کارندوں نے لکھے ہوں گے لیکن بدقسمتی سے ہماری سیاسی قومی قیادت ان عوامل کاا دراک حاصل کرنے کی ہرگز کوشش نہیں کرتی جس نے ہمارے قومی وجود کے دو حصے کردئیے۔ 

بلاشبہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت نے فیصلہ کن کردار سرانجام دیا اور اگر بھارت پاکستان سے 1947ء کی تقسیم کا بدلہ چکانے اور سبق سکھانے کے لئے عوامی لیگ کی سرپرستی نہ کرتا، مکتی باہنی کو اسلحہ اور تربیت سے لیس نہ کرتا اور مشرقی پاکستان پر فوجی یلغار کرکے ہمارا بازو نہ کاٹ دیتا تو شاید ہم اس سانحے سے دوچار نہ ہوتے۔ 

بھارت کے علاوہ پاکستان کو توڑنے میں روس نے بھی اہم کردار سرانجام دیا جس کی مکمل اور خوفناک حمایت بھارت کو حاصل تھی۔ اس حمایت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دس سالہ دوستی کے معاہدے کی آڑ میں جہاں روس نے بھارت کو بے پناہ اسلٓحہ فراہم کیا گیا وہاں روس نے بھارتی کارروائی کو ڈپلومیٹک چھتری بھی فراہم کردی۔ چنانچہ روسی کھلم کھلا حمایت نے نہ ہی صرف اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قراردادوں کا راستہ روکے رکھا بلکہ امریکہ کے بحری بیڑے کو بھی آگے نہ بڑھنے دیا اور چینی مداخلت کے امکانات بھی معدم کر دئیے۔ 

امریکی صدر نکسن پاکستان کی حمایت کرنا چاہتے تھے لیکن امریکہ رائے عامہ پاکستانی فوج کے مارچ 1971ء کے آرمی ایکشن کے بعد حکومت پاکستان کی ’’آمرانہ‘‘پالیسیوں سے متنفر ہو چکی تھی کیونکہ بھارت نے پراپیگنڈے کے میدان میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے عوامی لیگ کی علیحدگی پسند تحریک پر جمہوریت کا رنگ چڑھا دیا تھا۔ 1970ء کے انتخابی نتائج کی روشنی میں اسے عوامی فیصلہ کی علامت قرار دے دیا تھا چنانچہ عالمی رائے عامہ کی ہمدردیاں عوامی لیگ کے ساتھ تھیں۔ 

اس جھکائو کی ایک بنیادی وجہ پاکستان کی فوجی حکومت اور مارچ کا آرمی ایکشن تھا، اسی لئے اکثر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ دراصل پاکستان آرمی ایکشن کے وقت ہی ٹوٹ گیا تھا باقی صرف رسم کی ادائیگی رہ گئی تھی جو 16 دسمبر کو جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال کر پوری کردی، میں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے عالمی قوتوں کے کردار پر اپنی حد تک خاصی تحقیق کی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ امریکہ کے صدر نکسن کا اصل ہدف مغربی پاکستان کو بھارتی جارحیت سے بچانا تھا نہ کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو کیونکہ بقول اس وقت کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر:

East Pakistan was gone in any case.

چین آغاز ہی سے پاکستان کی قیادت پر سیاسی حل کیلئے زور دیتا رہا تھا کیونکہ چین روسی بھارت گٹھ جوڑ، مخالف عالمی رائے عامہ، شیخ مجیب اور عوامی لیگ کی زبردست مقبولیت اور چین کے اپنے داخلی مسائل اور حدود وقیود کے پیش نظر فزیکل مداخلت کی پوزیشن میں نہیں تھا اور نہ ہی اس نے مداخلت کا کوئی اشارہ دیا تھا حتیٰ کہ جب بھٹو صاحب بھی وفد لے کر چین پہنچے تو چو این لائی نے سیاسی حل پر زور دیا، جنگ سے بچنے کی تلقین کی اور کہا کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے حاضر ہے جس کے جواب میں بھٹو صاحب نے پاکستان واپس پہنچ کر دما دم مست قلندر کا نعرہ لگا دیا۔ 

1971ء کی جنگ نے پاکستان پر واضح کردیا کہ اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے کیونکہ دور سے پانی لاکر اپنی آگ نہیں بجھائی جاسکتی اور نہ ہی دوسری قوتیں ہمیں تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہیں۔ اسی سوچ کا نتیجہ وہ ایٹمی پروگرام تھا جسے بھٹوصاحب نے شروع کیااور نواز شریف نے دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ بھارت کے اسی قرض کو چکانے کیلئے ضیاء الحق نے خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک کی بے پناہ حمایت کی اور کشمیر میں آزادی کی تحریک کو آگے بڑھایا۔ 

1980ء کی دہائی اس لحاظ سے قابل غور ہے کہ ایک طرف ضیاء الحق افغانستان میں روس کے خلاف مجاہدین کی سرپرستی کرکے اور روس کو شکست دے کر 1971ء کا قرض چکا رہا تھا تو دوسری طرف ہندوستان میں خالصتان تحریک کی مدد کرکے وہی کردار سرانجام دے رہا تھا جو بھارت نے عوامی لیگ کی مدد اور سرپرستی کرکے سرانجام دیا تھا۔ 

ضیاء الحق کی پالیسیوں کے نتائج آج ہم فاٹا اور بلوچستان میں بھگت رہے ہیں کیونکہ پاکستانی طالبان کو روس اور بھارت مدد فراہم کر رہے ہیں جبکہ بھارت کھل کر بلوچستان کے علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اسی لئے میرے نزدیک صوبائیت کے مسئلے کا سیاسی حل 1971ء کے سانحے کا اہم ترین سبق ہے اور پاکستان کے باطنی استحکام کا ضامن ہے۔

دراصل مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک گھمبیر اور وسیع موضوع ہے جس کے بے شمار پہلو ہیں اور جس کے پیچھے تاریخی، سیاسی، معاشی اور کئی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔ میں نے کئی برس محنت اور تحقیق کرکے اس موضوع پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ’’ پاکستان کیوں ٹوٹا‘‘ اور انگریزی میں اس کا نام ہے (Pakistan Divided) جو اس موضوع پر کسی حد تک تجسس کی پیاس بجھا سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ وسیاست کے تناظر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کیسے پروان چڑھی یہ ایک طویل داستان ہے۔ 

لیکن اس کی ایک بنیادی وجہ صوبائی خودمختاری کاتصور اور مطالبہ تھا جس کے تحت صوبوں کو اس قدر خودمختاری دی جانی تھی کہ وہ اپنے معاملات میں آزاد ہوں اور اپنے وسائل پر قادر ہوں جبکہ پاکستان کی مرکزی حکومت مضبوط مرکزی کی حامی تھی۔ صوبائی خودمختاری پر پابندیوں نے محرومی کے احساس کو جنم دیا اور آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ بے انصافی کے احساس میں مبتلا ہوگیا۔ 

اس احساس کو لسانی تحریک، معاشی بے انصافی، اکثریتی صوبہ ہونے کے باوجود سروسز میں کم کوٹہ، سیاسی و قومی ڈھانچے میں احساس شرکت کی کمی اور سب سے بڑھ کر طرز حکومت نے دوآتشہ کرکے دونوں بازوؤں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کردی اور بنگالی بھائی یہ سوچنے لگے کہ پنجاب فوج کے ذریعے پاکستان پر قابض ہے اور بنگالی اکثریت کے باوجود اقتدار سے محروم ہیں اس لئے اس نظام میں ان کو انصاف ملنے کے امکانات مفقود ہوچکے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھئے کہ مسلمان متحدہ ہندوستان میں اقلیت میں تھے لیکن پنجاب بنگال، سرحد، بلوچستان، سندھ جیسے صوبوں میں اکثریت میں تھے چنانچہ مسلم لیگ کئی دہائیوں تک زیادہ سے زیادہ صوبائی خودمختاری کیلئے جدوجہد کرتی رہی۔23 مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور (بعدازاں قرارداد پاکستان) ڈرافٹ کرنے کیلئے سبجیکٹ کمیٹی بنائی گئی تو اس کا سربراہ مولوی فضل الحق شیر بنگال تھا جس نے یہ قرارداد پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اس کمیٹی میں پنجاب کے سر سکندر حیات بھی شامل تھے جو متحدہ ہندوستان میں صوبائی خودمختاری کے داعی تھے۔ 

جناح آف پاکستان کے مصنف سٹینلے والپرٹ کا کہنا خاصی حد تک درست ہے کہ قرارداد پاکستان مبہم اور کنفیوز تھی کیونکہ اس سے کئی مفہوم نکلتے تھے۔ مولوی فضل الحق اس میں آزاد بنگال اور سر سکندر حیات خودمختار پنجاب دیکھ رہے تھے لیکن قائداعظم نے اسی روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ قرارداد پاکستان کا مطلب صرف اور صرف ایک پاکستان ہے (سٹینلے … صفحہ نمبر185)۔قائداعظم صوبائی خودمختاری کے حامی تھے کیونکہ وہ خود اس کیلئے جدوجہد کرتے رہے تھے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ صوبائی خودمختاری پاکستان کی بنیاد میں شامل ہے اور ہماری قیادت نے اس اصول کو جھٹلا کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار کی چنانچہ 1971ء کے سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر پاکستان کو داخلی اور باطنی طور پر مضبوط بنانا ہے تو صوبائی خودمختاری کے تصور کو شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا۔ 

یقین رکھئے کہ اکائیاں مضبوط ہوں گی تو ملک مضبوط ہوگا، تمام صوبوں اور تمام پاکستانیوں کو اقتدار کے ڈھانچے میں احساس شرکت حاصل ہوگا تو وہ ملک کے جسم میں خون بن کر دوڑیں گے اور قومی جسم مضبوط ہوگا۔ فوجی حکومتوں نے جہاں ہمارے ملک کے جسم پر اور بہت سے کاری زخم لگائے ہیں وہاں صوبائی خودمختاری کے تصور سے انکار کرکے اتنا گہرا زخم لگایا ہے جس کے خون سے علیحدگی کی تحریکیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ جمہوری حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ جمہوریت کے تقاضے پورے کرے اور ان زخموں پر مرہم رکھے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید