• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احسن اقبال نے گرفتاری سے قبل کیا کہا؟


سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے گرفتاری سے قبل گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کو ہدف تنقید بنایا۔

میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال نے استفسار کیا کہ کیا ایک نیوکلیئر طاقت رکھنے والے ملک کو اناڑی کے سپرد کیا جاسکتا ہے؟ خان صاحب عالم اسلام کے لیڈر بننے چلے تھے وہ پاکستان کے بھی نہ بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ پی  ٹی آئی نے اقتدار میں آکر کوئی کارکردگی نہیں دکھائی، 12 لاکھ برسر روزگار پاکستانی بےروزگار ہوچکے ہیں، داخلی انتشار اور انتقامی ایجنڈے سے ملک کا استحکام برباد ہوگیا ہے۔

ن لیگی رہنما نے مزید کہا تھا کہ احتساب کو سیاسی ایجنڈے سے جوڑدیں تو انتقامی ایجنڈا بن جاتا ہے، حکومت کی ناکامی پر اٹھنے والی ہر آواز خاموش کروائی جارہی ہے، عمران نیازی کی دھمکیوں سے ن لیگ جھکی ہے نہ خاموش ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب عالم اسلام کے لیڈر بننے چلے تھے، ان کی حکومت نے 3 دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو تماشا بنادیا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ 2013 میں جب پلاننگ منسٹری میں آیا تو ادھورے منصوبے مکمل کرنے کا پروگرام بنایا، 2017ء میں دنیا کا ہر سفیر پوچھتا تھا کہ سی پیک میں کیسے شامل ہوا جاسکتا ہے؟

انہوں نے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ 2009ء میں منظور ہوا، جب میں اپوزیشن میں تھا، یہ ساڑھے 7 سو ملین کا منصوبہ تھا، اس پر سال کے بعد کام روک دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے پر اب تک ڈھائی ارب روپے خرچ ہوئے ہیں، وہاں 6 ارب کی کرپشن کیسے ہوسکتی ہے؟ نیب سے کہتا ہوں یہ کیس میڈیا کے سامنے چلایا جائے۔

تازہ ترین