آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گھر کی تعمیر کے دوران پاور سسٹم کی تنصیب

ہم گھر کی تعمیر و آرائش پر تو لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں لیکن پاور سسٹم کی تنصیب پر خاص دھیان نہیں دیتے اور روایتی طریقے اپناتے ہوئے بجلی کی زیر زمین (انڈر گراؤنڈ) وائرنگ کروالیتے ہیں۔ پاورسسٹم کی تنصیب کے نئے اور متبادل طریقے بھی دستیاب ہیں، جس میں سب سے زیادہ خیال معیاری تاروں (کیبلز) کے استعمال کا رکھا جاتاہے، جس سے بجلی کی یقینی بچت ہوتی ہے۔ 

جتنا خالص اور بہترین کوالٹی کا تار استعمال کیا جائے گا، اتنی ہی بجلی کی ترسیل یا  کنڈکٹیویٹی بہتر ہوگی۔ معیاری کیبل کے استعمال کی وجہ سے دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے گھر کی برقی مصنوعات زیادہ عرصہ چلتی ہیں۔

گھر کی تعمیر کے وقت الیکٹرک وائرنگ کیلئے تینوں آپشنز جیسے کہ پاور اسٹیشن سے آنے والی بجلی، یوپی ایس اور جنریٹر کی الگ وائرنگ کروانی چاہئے۔ ان کے استعمال کے آپشن یا ایک سسٹم سے دوسرے سسٹم پر منتقل کرنے کا عمل بھی آسان ہوناچاہئے، اتنا آسان کہ آپ کے گھر کا کوئی بھی فرد ضرورت کے وقت اسے آپ کی غیر موجودگی میں انجام دے سکے۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ کیا آپ نے ہر کمرے اور باورچی خانے کے لیے علیحدہ سرکٹ بریکر دینا ہے یا پھر پورا گھر ایک ہی بریکر اور ایک ہی مین سوئچ پہ چلانا ہے؟ 

یاد رکھیے کہ اس مد میں معمولی سا خرچ آپ کو کسی بھی مہلک حادثے سے بچا سکتا ہے اور ذرا سی لاپرواہی بہت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے بجلی کے آلات کا جائزہ لیجیے، زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات مثلاً موٹر، ائیر کنڈیشنر، ریفریجریٹر وغیرہ کے اگر علیحدہ سے ارتھ ہوں تو بہتر ہے تاکہ ان آلات کو پورا وولٹیج ملتا رہے۔

معیاری انڈرگرائونڈ وائرنگ کیا ہوتی ہے؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب ہےکہ گھر کی تعمیر کے دوران جو بھی تار، ساکٹس اور سرکٹس استعمال کیے جارہے ہیں، وہ میعاری ہوں۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ تانبے سے بہتر بجلی کاکوئی موصل(Conductor)نہیں اور اگر آپ نے خالص تانبے کے تاروں کا استعمال کیاہے توپھر ایک طویل عرصے تک آپ کو پریشان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جب آپ گھر کیلئے نئی وائرنگ کرنے کی منصوبہ بندی کریں تو چند باتیں یاد رکھیں۔

1-کنڈکٹرکی موجودہ درجہ بندی لوڈ کی ضرورت کے مطابق ہونی چاہئے۔

2-ایک سرکٹ بریکر یا لنک کے اندراج کے نقطہ پر ایک فیوز کے ساتھ سپلائی ہر کنڈکٹر پر نہیں ہونا چاہئے۔

3- مین سوئچ بورڈ ایسی جگہ پر ہونا چاہیےکہ آگ لگنے یا ہنگامی حالات کی صورت میں بجلی کی فراہمی فوری منقطع کی جاسکے۔

4-مین سوئچ بورڈکو چھیڑچھاڑ سے بچانے کیلئے حفاظت کے طور پر تالا لگا کےرکھنا چاہئے۔

5-گیس یا چولہے یا سنک کے اوپر یا واشنگ ایریا میں2.5میٹر کے اندر اندر سرکٹ نہیں ہونا چاہئے۔

6-بجلی کی فراہمی کیلئے لکڑی سے بنے مین بورڈز یا ذیلی بورڈز استعمال کیے جانے چاہئیں۔

7-ہر سرکٹ علیحدہ ایک سوئچ کے ساتھ فراہم کیا جائے۔

8-تمام سوئچ آپریٹ کرنے کے لئے رسائی ہونا چاہئے۔

9-مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرکٹ کوممکنہ طور پر ہونےوالے 20فیصد بجلی کی طلب میں اضافہ کے ساتھ ڈیزائن کیا جانا چاہئے۔

10-سرکٹ میں تمام ڈسٹری بیوٹربورڈز فرش کی سطح سے 2میٹر بلندی پر نصب کیے جانے چاہئیں۔

بجلی کی وائرنگ کا معیار

کسی بھی مکان میں بجلی کے حصول کے لیے وائرنگ کی جاتی ہے۔ اس کام کے لئے کسی پیشہ ورانہ الیکٹریشن کی خدمات حاصل کرنا سب سے بہتر رہتا ہے، لیکن کچھ مالکان چند کام الیکٹریشن سے کرواتے ہیں اور باقی کے نسبتاً چھوٹے کام خود ہی کرلیتے ہیں، جس کے لئے وہ اپنے حساب سے وائرنگ کا کام انجام دیتے ہیں۔ 

دراصل یہ کام بھی مکان کے دیگر کاموں کی طرح منصوبہ بندی سے شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے اپنی حفاظت اور پھر سہولت یقینی بنائیں۔ ذرا سی بھی غفلت ناقابل قبول ہے کیونکہ بجلی کے کام میں ذرا سی لاپروائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

متبادل انتظام

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث کسی زمانے میں جنریٹرز کی بڑی مانگ تھی، اس کے بعد یوپی ایس نے گھر وں میں جگہ بنانی شروع کی۔ تاہم گیس سے چلنے والے سسٹم گیس میں کمی یا لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتے، تاہم آپ پھر بھی ان کو اپنے پاور سسٹم کا حصہ بناسکتے ہیں۔ 

آجکل سولر پینلز بھی دستیاب ہیں، جن سے لوڈ شیڈنگ کے وقت گھر کا ایک کمرہ روشن رکھنے کیلئے چھوٹا جبکہ زیادہ استعمال کیلئے بڑا سولر سسٹم نصب کیا جاسکتاہے، ضرورت کے مطابق پینلز کی تعداد بڑھاکر اس سسٹم کو وسیع کیا جاسکتا ہے۔ سولر سسٹم کے استعمال میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں سولر انرجی سے چلنے والے اپلائنسز جیسے کہ پنکھے، روم کولرز اور بلب بھی دستیاب ہیں۔ 

بجلی اسٹو ر کرنے والے یوپی ایس اور گیس سے چلنے والے جنریٹرز بھی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے بعد جواب دے جاتے ہیں، ایسے میں سولر یوپی ایس سسٹمز کی صورت میں متبادل توانائی آپشن موجود ہے۔ سولر یوپی ایس دراصل ایک انورٹر ہے، جس میں سولر چارج کنٹرول موجود ہوتاہے ، یہ سولر ہائبرڈ کنورٹر بھی کہلاتا ہے۔ 

پاکستان میں عموماً سورج دن میں کئی گھنٹے پوری آب و تاب سے چمکتا رہتا ہے، جس کی توانائی سے فائدہ اٹھا کر پاور سسٹم کو تقویت دی جاسکتی ہے۔

تعمیرات سے مزید