سائنسدانوں نے ایک نہایت نایاب اور حیرت انگیز منظر کو کیمرے میں قید کر لیا، جہاں وہیل کو سمندر میں بچے کو جنم دیتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ دیگر وہیلز اس دوران اس کی مدد کرتی رہیں۔
یہ منفرد واقعہ 8 جولائی 2023ء کو پروجیکٹ ٹیم نے ڈومینیکا کے ساحل کے قریب ریکارڈ کیا، جہاں 11 وہیلز کے ایک گروہ میں 19 سالہ مادہ وہیل راؤنڈر اپنے دوسرے بچے کو جنم دے رہی تھی۔
سائنسدانوں نے تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تک اس پورے عمل کا مشاہدہ کیا، جس میں ڈرون کیمرے، زیرِ آب آوازوں کی ریکارڈنگ اور براہِ راست ویڈیو شامل تھی، یہ تحقیق معروف سائنسی جرائد میں شائع ہوئی اور اسے سائنسی تاریخ کا ایک نادر ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق 93 اقسام کے سمندری ممالیہ جانوروں میں سے صرف 9 کو ہی جنگلی ماحول میں بچے کو جنم دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جبکہ غیر متعلقہ وہیلز کا ایک دوسرے کی مدد کرنا اس سے بھی زیادہ نایاب ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے دوران دیگر مادہ وہیلز راؤنڈر کے قریب رہیں، اس کے نیچے تیرتی رہیں اور بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اسے ڈوبنے سے بچانے کے لیے اوپر اٹھاتی رہیں تاکہ وہ پہلا سانس لے سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہیل کے بچے دم کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں تاکہ پانی میں ڈوبنے سے بچ سکیں، تاہم پیدائش کے فوراً بعد وہ کچھ دیر کے لیے نیچے ڈوب سکتے ہیں، جس پر دیگر وہیلز انہیں سہارا دیتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس دوران وہیلز نے مخصوص آوازیں نکالیں، جن میں تبدیلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں تھیں یا نومولود کی حفاظت کے لیے حکمتِ عملی بنا رہی تھیں۔
سائنسدانوں کے مطابق سیٹاسینز Cetaceans (وہیلز، ڈولفنز اور پورپوسز) کی یہ سماجی اور باہمی تعاون پر مبنی عادت لاکھوں سال پرانی ارتقائی تاریخ کا نتیجہ ہے۔
یاد رہے کہ وہیلز کا حمل تقریباً 16 ماہ تک جاری رہتا ہے اور نومولود بچے کی لمبائی پیدائش کے وقت ہی تقریباً 4 میٹر ہوتی ہے، یہ بچے کم از کم 2 سال تک ماں کے دودھ پر انحصار کرتے ہیں۔