آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قلعہ سیف اللّٰہ، برف میں پھنسے 500 افراد کو بچا لیا گیا

بلوچستان : شدید برف باری میں کامیاب ریسکیوآپریشن


شدید برف باری کے بعد بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے علاقے کان مہتر زئی میں برف میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے جاری آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے اور تمام مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان میں تاریخ کی ریکارڈ برفباری ہوئی ہے، جس سے بالائی مقامات برف سے اٹ گئے، کان مہتر زئی کے مقام پر سیکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔

شدید سردی میں پھنسے کئی مسافروں کی حالت خراب ہونے لگی، کھانے پینے کا سامان، گاڑیوں کا ایندھن بھی ختم ہو گیا، منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے۔

یہ بھی پڑھیئے: پسنی، جزیرے میں پھنسے 15 سیاح بحفاظت پہنچ گئے

500 سے زائد افراد منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے، ریسکیو آپریشن صبح ساڑھے 5 بجے کے قریب مکمل کیا گیا۔

مشکل میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے صوبائی حکومت حرکت میں آئی، رات بھر ریسکیو آپریشن جاری رہا، جس کے دوران 500 سے زائد افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

پی ڈی ایم اے، ایف سی، لیویز اور ضلعی انتظامیہ نے برفیلی طوفانی ہواؤں میں رات بھر ریسکیو آپریشن کر کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،متاثرہ افراد کو خوراک، دوائیں اور کمبل بھی دیے گئے۔

مسلم باغ اور کان مہتر زئی میں سڑک کلیئر ہونے پر ٹریفک بحال کی جائے گی، 3 روز سے بند کوژک ٹاپ کھول دی گئی۔

ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللّٰہ ڈاکٹر عتیق شاہوانی کے مطابق کان مہتر زئی میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن 24 گھنٹے جاری رہا۔


ڈی سی نے یہ بھی بتایا کہ الحمد للّٰہ تمام مسافر خیریت سے ہیں، سب کو خوراک پہنچا دی گئی ہے۔

آپریشن میں لیویز، ایف سی اہلکاروں اور آفیسران نے بھرپور حصہ لیا، اس دوران برف باری کے باعث پھنسے تمام مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے: بلوچستان، برفباری میں پھنسے مسافر کی گفتگو

بیشتر گاڑیوں کو نکال کر منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے اور جو گاڑیاں خراب ہیں، ان کے مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

آج کوئٹہ اسلام آباد شاہراہ کو بند رکھا جائے گا، مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ منگل کو اس شاہراہ پر سفر نہ کریں اور کوشش ہے کہ بدھ 15 جنوری سے اس شاہراہ کو آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیں۔

دوسری جانب کوژک ٹاپ کے مقام پر 20 کلو میٹر کے علاقے میں کوئٹہ چمن شاہراہ سے برف ہٹا کر راستہ کلیئر کردیا گیا۔

برف باری کے باعث 3 دن سے بند کوئٹہ چمن شاہراہ کو ون وے ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، 2 روزہ آپریشن میں لیویز، ایف سی اور این ایچ اے نے حصہ لیا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کہ صوبے میں 800 کلو میٹر رقبے پر برف باری ہو رہی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔

قومی خبریں سے مزید