آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’موئن جو دڑو کی اشکالی زبان‘ دنیا بھر کے لسانی ماہرین اس پر تحقیقی کام میں مصروف ہیں

سندھ کی تہذیب ہزاروں سال قدیم ہے۔ دنیا میں کہیں بھی تاریخ اور تہذیب کے حوالے سے جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے تو سندھ کی قدامت کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔ موئن جو دڑو دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا وہ شاہکار ہے جہاں ترقی یافتہ قوم کی علامتیں موجود ہیں۔ اس عظیم تہذیب پر محققین نے کافی عرصے سے کام جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے موئن جو دڑو کی حقیقت جاننے کے لیے صرف نتائج اخذ نہیں کیے بلکہ الگ الگ نظریات بھی پیش کیے۔ پرانا نظریہ جو محققین نے اخذ کیا وہ یہ ہے کہ پندرہویں صدی قبل مسیح سے پہلے یہاں اندھیرا تھا جو کہ رگ وید کی بنیاد پر کہا جاتا تھا۔ ایک سو سال قبل 1921ء میں موئن جو دڑو کی کھدائی کے بعد محققین کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ 

موہن جو دڑو کی تہذیب کے حوالے سے ماہرین نے اپنی رائے دی کہ وہ 1800 اور 2500 سال قبل مسیح کے درمیان کا عرصہ ہے۔ یہ اپنی معاصر تہذیبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تہذیب یافتہ مانی گئی۔ ماہرین کی رائے کے مطابق موئن جو دڑو کے باشندے تجارت پیشہ تھے۔ یہاں سماجی، ثقافتی اور اقتصادی سلسلے چلتے تھے جن کے شواہد بھی ملے ہیں۔

موئن جو دڑو کے پاس ایک زبان بھی موجود تھی جو بولی اور لکھی جاتی تھی۔ اس زبان کے الفاظ انتہائی صفائی اور خوبصورتی سے مٹی، پتھروں اور دیواروں پر لکھی جاتی تھی۔ اس عظیم تہذیبی سرمائے کی ایک صدی قبل سندھ کے انگریز حکمرانوں نے تحقیق کی شروعات کی تھی اور کافی حد تک اچھے نتائج اخذ کرلیے تھےلیکن پاکستان بننے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس پر تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تھاجو ہو نہ سکا۔

موئن جو دڑو کی تحریر قدیم آثار کے ماہرین نے مختلف آراء قائم کی ہیں۔ انہوں نے اس قدیم تحریر کو سنسکرت، آریائی اور سمیری زبانوں کے خاندانوں سے جوڑا۔ کسی نے مذہبی اور دھرمی روپ دیا اور کسی نے دیوتاؤں اور سلطنتوں کے دور سے اندازہ لگایا۔ ایک عالم دین مولانا ابو حلال ندوی نے اس زبان کو عربی کے رسم الخط سے ملا دیا ہے اور کہا کہ موئن جو دڑو کے نقوش عربی زبان کے حروف سے بنائے یا لئے گئے ہیں۔ 

ہر محقق اور ماہر نے جتنی بھی کوشش کی مگر اس کو اصل نتیجہ نہیں مل سکا۔ سندھ کی نامور محققہ اور ماہر لسانیات ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے اپنی تحقیق میں بیان کیا ہے کہ: "زبانوں کے گروہ ہوتے ہیں، خاندان ہوتے ہیں۔ ہر زبان کے گروہ کا دوسری زبان کے گروہ سے تعلق ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر زبان کی کچھ آوازیں دوسری زبان کی آوازوں سے مماثلت رکھتی ہیں،آپس میں ملتی ہیں۔"

اب تک موئن جو دڑو کی زبان کا گروہ اور اس کی آواز کا تعین ہی نہیں ہوسکا ہے تو حقیقت تک رسائی حاصل کرنا کافی دشوار ہے۔ کچھ ماہرین نے اپنی تحقیق سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ موئن جو دڑو کی زبان سندھ کے خطے کی اپنی زبان ہے اور سندھی زبان اس کا بدلا ہوا روپ ہے۔ مگر اس نظریے کے مخالفین نے یہ سوالات اٹھائے کہ وہ اس بات کو اس لیے تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہاں اگر کوئی تحریر رائج تھی تو پھر یہاں اشکال اور نشانات کیوں ملے ہیں؟ اس بات کو تقویت تب ملی جب 1957 ءمیں کوٹ ڈیجی اور چانیھو جو دڑو کے آثار بھی سندھ کے مختلف مقامات سے دریافت ہوئے۔ 

موئن جو دڑو کی زبان کو پڑھنے کے حوالے سے ایک لمبے عرصے سے دنیا بھر کےقدیم آثار اور لسانیات کے ماہرین کی ٹیمیں یہاں آتی رہی ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ محققین اپنی کھوج کے لیے بنیادی اصول مرتب نہ کر سکے۔ گو کہ موئن جو دڑو کی تحریر کے بارے میں کئی زاویئے واضح کیے ہیں۔ اس میں ایک اختلاف اس کی ممکنہ مکتب زبان کا ہے کہ آیا یہ زبان انڈوسمیرین تھی یا پروٹو انڈک؟

ویڈل پہلے ماہر تھے جنہوں نے موئن جو دڑو اور سمیری تہذیبوں سے ملنے والے آثار کی مماثلت کا نظریہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں اس زبان کو ویڈون اور اس کے بزرگان کے ناموں سے منسوب کیا تھا۔جدید انداز سے بھی موئن جو دڑو کی زبان کو پڑھنے کے لئے تجربات کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ کمپیوٹر پر موئن جو دڑو کی زبان کو تلاش کر چکے ہیں اور زبانوں کے علم سے پڑھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ماسکو کے روسی ماہرین نے کمپیوٹر کی مدد سے پوری دنیا کی زبانوں کا کھوج لگایا ہے۔ اس تحقیق کے دوران پانچ سو سے زائد تحریروں کو زیر غور لایا گیا مگر چند اشکال اور نقوش کی یکسانیت میں ہی مل سکی ہے۔ 

اس تجربے سے یہ فائدہ ہوا کہ آئندہ ہونے والی ریسرچ میں آسانی ہوگی۔ ماہرین نے دوران تحقیق تمام مہروں کو چار بڑے درجوں میں تقسیم کیا: جانوروں، انسانوں، درختوں اور پرندوں کی اشکال میں۔ ان اشکال کا کئی طرح سے مطالعہ کیا گیا۔ مثلاً یہ کہ ان میں بنیادی خطوط کس طرح لکھے گئے تھے اور وہ کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 

ان نقوش کی ابتدا اور اختتام کس طرح ہوتی ہے اور لکھنے میں اگر کوئی تبدیلی ہے تو کس اصول سے ہے۔ ان کو ایک مشکل یہ پیش آئی کہ اس کی کوئی تفصیلی اور بڑی تحریر دستیاب نہیں تھی۔ یہ زیادہ سے زیادہ دو سطروں پہ مشتمل ہے جس پر پہلا اختلاف یہ آیا کہ دائیں سے بائیں جانب لکھی ہوئی ہے یا اس کے برعکس۔ کچھ نقوش صرف مہروں پر ثبت کیے گئے ہیں جن کے بارے میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ صرف نام ہو سکتے ہیں۔ 

کچھ نقوش ظروف پہ کنندہ ہیں۔ بہرحال ان تمام حقائق سے جو امکانات پائے جاتے ہیں وہ کمپیوٹر کو مہیا کئے گئے تھے جس سے اس زبان پڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ برصغیر میں اس کو قبل آریائی زبان تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس پر بھی تحقیق جاری ہے کہ یہ قدیم دراوڑی نسل کی زبان ہے۔ ایک نتیجہ یہ بھی نکالا گیا کہ موئن جو دڑو کی اشکالی تحریر، تامل اشکالی تحریر سے مشابہت رکھتی ہے۔ مگر پھر وادیء سندھ کا تاریخی، تمدنی اور تہذیبی حوالے سے جائزہ لیا گیا تو چند ایک دو اشاروں اور گمان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر فرینکفرٹ اسٹنٹ، افغانستان میں انیس سو اسی کی دہائی میں جب آثار قدیمہ کی کھدائی کے بعد دریافت ہونے والے آثار، مہروں اور دیگر اشیاء کی تحقیق کرنے کے بعد انہوں نے عجائب گھر میں اپنے لیکچر میں کہا تھا پاکستان میں موہن جو دڑو دنیا کی سب سے بڑی تہذیب ہے۔ انہوں نے جغرافیائی نقطہ نگاہ سے موہن جو دڑو کی تہذیب کو افغانستان اور روسی حدود تک پھیلی ہوئی قرار دیا تھا۔

وادیء سندھ کی اس قدیم تہذیب کی تحریر کو کھوجنے کیلئے دنیا کے بڑے بڑے محققین اب جدید انداز سے دیکھ رہے ہیں، امید ہے اس کام میں وہ اچھے نتائج نکالیں گے۔

وادی مہران سے مزید