آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میڈیا ہر ملک میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں شائع اور نشر ہونے والی خبروں، رپورٹس اور پیکیج پر حکومت اور اعلیٰ عدالتیں نوٹس بھی لیتی ہیں، پاکستان میں بدقسمتی سے یہ انڈسٹری اپنے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔

جہاں ایک جانب مالکان پریشان ہیں تو دوسری جانب ملازمین بےروزگار ہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی میڈیا مالکان نے مالی مشکلات کے باعث اپنے ادارے بند کر دیئے تو دوسری جانب ہر ادارے نے بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ بھی کیا، صحافتی تنظیمیں اِس پر سراپا احتجاج ہیں مگر حکومت نے اِس حوالے سے مکمل طور پر چپ سادھ رکھی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں موجود مافیا ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، بعض اخبارات میں بھی یہی مافیا بیٹھا ہوا ہے، ہر روز بری خبریں، کئی صحافی پرانے سسٹم سے پیسے بنا رہے تھے ان کی روزی بند ہے اس لئے حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے بعض رہنمائوں کی جانب سے میڈیا کے خلاف بیان بازی افسوس ناک ہے کیونکہ 2018کے انتخابات میں اُنہیں میڈیا کی مکمل حمایت حاصل رہی۔

میڈیا مافیا نہیں بلکہ ملک کا اہم ستون ہے جو حقائق کو عوام کے سامنے لاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر موجودہ حکومت کے ایک وزیر نے تو طالب علموں کو اس انڈسٹری اور صحافت کی جانب نہ آنے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔

کچھ ماہ قبل پرنٹ میڈیا کے اخبارات میں پکوڑے بیچنے کی مثال دی گئی جبکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ ڈان لیکس اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا کیس بھی پرنٹ میڈیا کی رپورٹ پر ہی سامنے آیا تھا، ماضی میں کئی ایسے عدالتی فیصلے جن کو دنیا بھر میں شہرت ملی اس میں میڈیا کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں آج بھی موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کے آ جانے کے باوجود اخبار بینی اور مطالعہ مقبول ترین مشغلہ ہے مگر پاکستان میں بدقسمتی سے ایک سازش کے تحت نوجوان نسل کو مطالعہ سے دور کر دیا گیا۔

پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں اور محلوں سے لائبریریوں کا خاتمہ کیا گیا تاکہ نئی نسل میں یہ شوق ختم ہو جائے، دوسرے مرحلے میں میڈیا مالکان کے لئے اخبارات کے کاغذ، چھپائی، کے لئے سیاہی اور اشتہارات کے حوالے سے سخت پالیسی نے انہیں اخبارات کی قیمت بڑھانے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے اخبارات خریدنا لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گیا۔

پاکستان میں میڈیا کو جمہوری ملک ہونے کے باوجود ہر حکومت کے دور میں غیر ضروری دبائو کا سامنا رہا ہے، موجودہ حکومت نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اپنا دبائو بہت زیادہ بڑھایا ہوا ہے اس لئے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے حکام بھی اس بات پر مجبور ہو گئے کہ انہیں کہنا پڑا کہ موجودہ جمہوری طور پر منتخب حکومت اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے تاکہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں آزاد اور معروضی آواز کو دبایا جا سکے۔

حیرت انگیز بات تو یہ کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا دبے لفظوں میں پاکستان میں میڈیا مالکان کو ملک دشمن قرار دینا نازیبا اور افسوسناک ہے۔

وزیر کا کہنا ہے کہ انڈین میڈیا اپنے ملک کا بہت زیادہ وفادار ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال بالکل اس کے الٹ ہے۔ پنجاب کے وزیر موصوف شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ پچھلے سال 27فروری کو جب بھارت کے طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو پاکستان نے اپنی تحویل میں لیا اس اہم اور نازک ترین موقع پر پاکستانی میڈیا نے جس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اُس کا اعتراف خود سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی کیا۔

میڈیا کی اہمیت کا اندازہ اور احساس تو وزیراعظم عمران خان کو بھی ہے اس لئے انہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کاموں کی زیادہ پبلسٹی نہیں کرتے ہیں مگر اس کے باوجود حکومت کی جانب سے میڈیا مالکان اور ملازمین کے مسائل کو حل کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

حکومت کی خاموشی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ دانستہ ملک کے اس اہم ترین شعبے کو تباہ کرنا چاہتی ہے، جمہوری ملکوں میں حکومتوں کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا اپنے ملک کے میڈیا کی طرف سے ہوتا ہے جہاں حکومتی حکام سے زیادہ اپوزیشن رہنمائوں کو کوریج دی جاتی ہے۔

پاکستان میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں پر میڈیا کی نکتہ چینی اور تنقید کا ہرگز مقصد حکومت گرانا نہیں اور نہ اس کے خلاف سازش ہے بلکہ اسے عوامی مسائل اور مشکلات، ملک کو درپیش خطرات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ صحافتی تنظیموں کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو بےروزگار کئے جانے پر ہونے والے احتجاج میں حقیقت ہے۔

کئی اداروں نے چھ، سات ماہ سے اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی ہیں، بےروزگار ہونے والے کچھ میڈیا ملازمین جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں اور کئی عارضہ قلب سمیت کئی جان لیوا بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے لئے حکومتی اشتہارات کی بندش کے باعث پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے مالکان شدید دبائو کا شکار ہیں اور خود مالی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔

یہاں تک کہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو رہی ہے۔ یہ بڑا المیہ ہے، حکومت کے لئے بھی، میڈیا مالکان کے لئے بھی اور صحافت سے وابستہ افراد کے لئے بھی، جس کا حل نکالنا ازحد ضروری ہے۔