آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مذہبی امور کو جمعرات کے روز بتایا گیا کہ رواں سال سرکاری اسکیم کے تحت حج پیکیج میں ایک لاکھ 15ہزار روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نارتھ ریجن کا مجوزہ حج پیکیج 5لاکھ 50ہزار اور سائوتھ ریجن کا مجوزہ حج پیکیج 5لاکھ 45ہزار روپے تک ہوگا۔ سیکرٹری مذہبی امور مشتاق بھرانہ کے مطابق مذکورہ اضافہ روپے کی قدر میں کمی سے فضائی سفر کا کرایہ بڑھنے اور سعودی عرب میں بعض مقامی اخراجات بڑھنے کے باعث کیا گیا۔ وجوہ کچھ بھی ہوں، حج اخراجات بڑھنے کی خبر جب بھی آتی ہے وہ غریب آدمی تشویش میں مبتلا ہو جاتا ہے جو مالی استعداد نہ ہونے کے عذر کے باوجود حجازِ مقدس کا سفر کرنے، مناسک حج ادا کرنے اورروضہ رسولﷺ پر حاضری کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کیلئے پیسہ پیسہ جوڑنے کی سعی کرتا ہے۔ حالات جب ایسے ہوں کہ سرکاری اسکیم میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے کے بنیادی اخراجات کے علاوہ بھی بعض مصارف کیلئے اضافی رقم درکار ہو اور نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے کیا جانے والا سفر مزید مہنگا ہو تو متوسط طبقے کے لوگوں کی بڑی تعداد کے پاس بھی ہاتھ ملنے کے سوا بظاہر کوئی چارہ نہیں رہتا۔ موجودہ حکومت جو ریاستِ مدینہ کے فلاحی تصورات سے وابستگی کا اظہار کرتی ہے، یقینی طور پر سعودی حکومت سے رابطہ کرکے ٹیکسوں اور دیگر امور

میں پاکستانیوں کے لئے سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گی مگر اسے انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے ان طریقوں سے ضرور استفادہ کرنا چاہئے جن کے ذریعے حج و عمرہ عام آدمی کی دسترس میں محسوس ہوتا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پیکیج کے بارےمیں حتمی فیصلہ کرنے سےقبل ان تمام تدابیر کا جائزہ لیا جانا چاہئے جن کے ذریعے کمزور طبقوں کو آسانی فراہم کی جا سکے۔ حکومت غریبوں کی دعائیں لے گی تو حکومت کے کاموں میں اللہ تعالیٰ یقیناً زیادہ آسانی فراہم کرے گا۔